ریاض (بی بی سی ) سعودی عرب میں مقیم پاکستانی محنت کشوں کو آئندہ ماہ یکم جولائی سے فی کس دو سو ریال ٹیکس ادا کرنے ہوں گے۔ سعودی حکومت کو اب تک پاکستانی ہنرمند و مزدور فی کس 100 ریال ماہانہ بطور ٹیکس ادا کیا کرتے تھے۔ماہرین نے ٹیکسوں میں دگنے اضافے کو پاکستانی خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافے کے مترادف قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 25 سے 30 ہزار پاکستانی خاندان وطن واپسی کا قصد کرسکتے ہیں۔سعودی عرب میں مقیم غیرملکی خاندانوں کو 2017 میں تین ہزارایک سوریال ٹیکس دینا پڑتا تھا۔ سعودی قوانین کے تحت غیر ملکی افراد کو 2017 میں فی کس ایک سو ریال بطور ٹیکس سعودی حکومت کو دینے ہوتے تھے۔سعودی عرب کی وزارت خزانہ کے مطابق آئندہ دو ہفتے بعد سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی خاندانوں کو چھ ہزار تین سو، 2019 میں نو ہزار چار سو اور 2020 میں 12 ہزار چھ سوریال بطور ٹیکس دینا ہوں گے۔سعودی عرب میں مقییم ہرغیر ملکی شخص کے لیے بھی لازم ہو گا کہ وہ ماہانہ دوسو ریال بطور ٹیکس ادا کرے۔ ماہرین معا شیات کے مطابق اس عمل کا ملکی معیشت پر نہایت برا اور منفی اثر پڑے گا۔سعودی ویژن 2030 کے مطابق سعودی معیشت کو 2020 تک 65 بلین ریال (20 کھرب 58 ارب پاکستانی روپے) کا منافع ہوگا۔گزشتہ برس بینک سعودی فرانسی نامی کمپنی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ آئندہ تین برسوں میں چھ لاکھ 70 ہزار تارکین وطن سعودی عرب سے واپس لوٹ جائیں گے۔

This Post Has Been Viewed 4 Times