لاہور(زرقاء منٹو سے )  سپریم کورٹ نے عائشہ احد تشدد کیس میں سابق رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز اور ان کی مبینہ اہلیہ عائشہ احد کو پیر کے روز طلب کرلیا ہے۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں عائشہ احد پر مبینہ تشدد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے حکم دیا کہ حمزہ شہباز اگر لاہور میں ہیں تو پیر گیارہ جون کو سپریم کورٹ میں پیش ہوں، عدالت نے حمزہ شہباز کی مبینہ اہلیہ عائشہ احد کو بھی اسی روز طلب کرلیا ہے۔دوسری جانب حمزہ شہباز اورعلی عمران پر لاہور کے تھانہ جنوبی چھاؤنی میں ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جس کی درخواست عائشہ احد نے پانچ روز قبل دی تھی، مقدمے میں اغوا اور تشدد کی دفعات شامل کی گئی ہیں جبکہ عائشہ احد نے نئے مقدمے میں اپنے ڈرائیور کو بھی نامزد کیا ہے۔مقدمہ چیف جسٹس کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد درج کیا گیا۔دو جون کو چیف جسٹس کے حکم پر حمزہ شہباز، ذوالفقار چیمہ، عتیق ڈوگر اور رانا مقبول سمیت چھ افراد کے خلاف عائشہ احد کی مدعیت میں تھانہ اسلام پورہ میں بھی ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں عائشہ احد پر تشدد اورانہیں ہراساں کرنے کی دفعات شامل ہیں۔سپریم کورٹ نے اسی تاریخ پر حمزہ شہباز کو طلب بھی کیا تھا تاہم وہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے عدالت پیش نہیں ہوسکے تھے۔عائشہ احد نامی خاتون کا دعویٰ ہے کہ سابق رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز کے ساتھ 2010 میں ان کی شادی ہوئی تھی، ان کا کہنا ہے کہ شادی کے گواہوں میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز بھی شامل ہیں، عائشہ احد کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ اُن کے پاس شریف فیملی کے تمام پیغامات موجود ہیں۔عائشہ احد نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ انہیں حمزہ شہباز اور ان کے ساتھیوں سے جان کا خطرہ ہے اس لیے انہیں سیکیورٹی فراہم کی جائے، عدالت نے عائشہ کو مکمل تحفظ دینے کی ہدایت کی تھی جس پر سات جون کو انہیں سیکیورٹی فراہم کردی گئی تھی۔

This Post Has Been Viewed 7 Times