علی پور(بی بی سی )  پاکستان مسلم لیگ ن علی پور کے عہدیداروں کا ہنگامی اجلاس،  عہدیداروں کی مشاورت کے بغیر پارٹی ٹکٹ دینے کے خلاف احتجاج، علی پور کے عہدیداروں نے مشاورت کے بعد علی پور کے حلقوں سے اپنے ورکرز کو 2018 کے الیکشن میں حصہ لینے کے لئے نامزد کر دیا۔ تفصیل کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن و یوتھ ونگ، لائر ونگ، کسان ونگ کے عہدیداروں کا مقامی ہوٹل میں ہنگامی اجلاس منعقد ہوا – اجلاس پاکستان مسلم لیگ ن علی پور کے تحصیل صدر عبدالمجیب خان ایڈووکیٹ کی زیر صدارت منعقد کیا گیا، اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ ن کے تحصیل جنرل سیکرٹری رشید خان گوپانگ ایڈووکیٹ ضلعی سینئر نائب صدر سید ناصر بخاری، یوتھ ونگ کے ضلعی جنرل سیکرٹری شیخ جابر علی قریشی،مسلم لیگ ن کے تحصیل سینئر نائب صدر راؤ محمد سعید، یوتھ ونگ کے تحصیل صدر ملک جاوید پنوہاں، یوتھ ونگ کے تحصیل جنرل سیکرٹری ذیشان ندیم چوہدری، مسلم لیگ ن سٹی کے صدر محبوب عالم، مسلم لیگ ن سٹی کے جنرل سیکرٹری ملک فاروق سمیت یوتھ ونگ، لائر ونگ، کسان ونگ، لیبر ونگ،خواتین ونگ، کے تحصیل اور سٹی کے دیگر عہدیداروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ، مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت نے گزشتہ 5 سالوں سے علی پور کے مسلم لیگی عہدیداروں کو نظر انداز کئے رکھا اور 2013 کے الیکشن میں کامیابی کے بعد عہدیداروں اور ورکرز سے مشاورت کیئے بغیر ان لوگوں کو پارٹی میں شامل کیا جو 5 سال اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر پی ٹی آئ میں شامل ہو گئے، ان کا مزید کہنا تھا کہ اب پارٹی نے علی پور کے عہدیداروں اور ورکرز کی مشاورت کے بغیر کسی کو بھی علی پور سے الیکشن لڑنے کے لئے ٹکٹ جاری کیا تو علی پور کے عہدیدار اور ورکرز ان کا مکمل بائیکاٹ کریں گے اور سب نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ، این اے 186 کے لیے مسلم لیگ ن کے تحصیل سینئر نائب صدر راؤ محمد سعید، پی پی 273 کے لیے یوتھ ونگ کے تحصیل جنرل سیکرٹری ذیشان ندیم چوہدری، اور پی پی 274 کے لئے مسلم لیگ ن کے تحصیل جنرل سیکرٹری عبدالرشید خان گوپانگ کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جائیں گے، اگر ہمیں پارٹی نے ٹکٹ نا بھی دیا تو ہم آزاد حیثیت سے الیکشن لڑیں گے یا کسی بھی آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کی بھرپور سپورٹ کرینگے، سوائے ان کے جو علی پور کے تنظیمی عہدیداروں کی مشاورت کے بغیر ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیں گے نا، پی ٹی میں شامل ہونے والوں کی نا ہی پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لینے والوں یا بعد میں مسلم لیگ ن کے علاوہ کسی اور پارٹی میں شامل ہونے والوں کی، تمام عہدیداروں نے اس پر اتفاق کرتے ہوئے  کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا فیصلہ کیا

This Post Has Been Viewed 9 Times