اسلام آباد(بی بی سی )  پاکستان اورامریکہ نے افغانستان میں جاری سیاسی مفاہمتی عمل پر گفتگو کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔یہ گفت و شیند اس وقت ہوئی جب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو امریکی سیکریٹری خارجہ مائک پومپیو نے ٹیلی فون کیا۔امریکی سیکریٹری خارجہ کی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری خارجہ مائک پومپیو نے پاکستان اورامریکہ کے تعلقات میں بہتری لانے کے طریقہ کار اور افغانستان میں سیاسی اتفاق رائے پربات کی۔سیکریٹری خارجہ کی ترجمان کے مطابق مائک پومپیو نے جنوبی ایشیا میں موجود تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بلا تفریق کارروائی پرزور دیا۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق امریکہ کے سیکریٹری خارجہ مائک پومپیو نے ایک مرتبہ پھر پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے۔پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والا رابطہ اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہے ہے کہ گزشتہ دنوں ہی وزیر کے منصب سے علیحدگی اختیار کرنے والے سابق وزیرخارجہ انجینئر خرم دستگیرنےامریکی نشریاتی ادارے ’ وائس آف امریکہ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں تسلیم کیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے اوربات چیت بند ہیں۔سابق وزیرخارجہ نے کہا تھا کہ سفیر وزارت خارجہ کے افسران سے بات کرتے ہیں، ماضی میں صورتحال قطعی مختلف تھی۔انجینئر خرم دستگیرنے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان، امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ ازسرنو جائزے کی صورت میں پاکستان، افغانستان میں موجود امریکی فوج کے لیے سپلائی لائن بھی روک سکتا ہے۔اس سے قبل اس وقت بھی دونوں ممالک کے مابین تلخی نے جنم لیا تھا جب سفرا کی نقل و حرکت کے حوالے سے بعض اقدامات اٹھائے گئے تھے۔ ان اقدامات کے باعث دونوں ممالک میں تعینات سفارتی عملے کو دشواریوں کا سامنا ہے۔پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات اس وقت سخت تناؤ کا شکار ہو گئے تھے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان کو 33 ملین ڈالرز امداد دے کر حماقت کی ۔امریکی صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے پاکستان پر الزامات بھی عائد کیے تھے۔ پاکستان نے امریکی الزامات کویکسر مسترد کردیا تھا۔ پاکستان کا مؤقف تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں لیکن امریکا انہیں تسلیم کرنے کے بجائے اپنی ناکامیوں کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈال رہا ہے۔پاکستان کا یہ دعویٰ تسلیم شدہ ہے کہ کسی بھی ملک کے مقابلے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادتیں سب سے زیادہ ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ زخمی افراد بھی اسی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔ معاشی نقصانات کا درست اندازہ لگانے کے لیے بھی ایک مدت درکار ہوگی۔پاکستان کی جانب سے یہ دعویٰ بھی ہے کہ حقانی نیٹ ورک سمیت تمام عسکری و دہشت گرد گروہوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی گئی ہے۔پاکستان سرحد پار دہشت گردوں کی نقل و حمل روکنے کے لیے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد پر باڑ لگارہا ہے اورساتھ ہی 30 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا بھی خواہش مند ہےپاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے سرحد کے آر پار دہشت گردوں کی آمد و رفت روکنے کے لیے افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانی شروع کر دی ہے اور یہ کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پاکستان میں موجود تقریباً 30 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی ضروری ہے۔پاکستان کو یقین ہے کہ دہشت گرد ممکنہ طور پر پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لے لیتے ہیں جہاں انہیں شناخت کرنا اوران کے خلاف آپریشن کرنا ممکن نہیں رہتا ہے۔

This Post Has Been Viewed 9 Times