جیکب آباد(سومرو بی بی سی)گزشتہ رات انچارج سی آئی اے -1 سب انسپیکٹر نثار احمد نون کو خفیہ اطلاع ملی کی ضلع شکارپور یا ضلع کشمور کندھکوٹ کے بارڈر سے ڈکیت کسی مغوی کو بلوچستان کی حدود میں شفٹ کریں گے اور تھانہ میرپور کی حدود سے گزر کر جائیں گےمزکورہ اطلاع ملتے ہی انچارج سی آئی اے -1 نے ایس ایس پی کیپٹن ریٹائرڈ فیصل عبداللہ چاچڑ سے ضروری ہدایات لینے کے بعد تھانہ میرپور کی حدود میں گشت کا عمل جاری کیا دوران گشت جب پولیس نزد نائب جی لانڈھی کے پہنچی تو 2 موٹر سائیکلوں پر سوار ڈکیتوں نے پولیس کو نزدیک آتے ہی فائرنگ شروع کر دی پولیس نے اپنے دفاع میں جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ڈکیتوں نے فرار کی راہ اختیار کی اور ایک آنکھیں اور ہاتھ بندھے ہوئے شخص کو موقعے پر چھوڑ گئےپولیس نے جب اس شخص کی آنکھیں اور ہاتھ کھولے تو اس نے بتایا کہ وہ مغوی ہے اور ڈکیت اسے کسی اور جگہ شفٹ کرنے جارہے تھےدوران تفتیش بازیاب مغوی شخص نے اپنا نام فیاض احمد ولد مہر شاہ محمد آرائیں سکنہ موضہ دکھنہ گھارو تحصیل کروڑ پکا ضلع لودھراں پنجاب بتایابازیاب مغوی نے بتایا کہ وہ ٹھیکیداری کا کام کرتا ہے اور مورخہ 9 ستمبر 2017 (تقریبا 9 ماہ پہلے) جب وہ پنجاب سے بذریعہ مسافر گاڑی سکھر کے کسی اسٹاپ پر رات 10:30 پہ پہنچا تو 2 موٹر سائیکلوں پہ سوار 4 مصلحہ اشخاص نے اسے اغوا کیا اور 2 گھنٹوں کے سفر کے بعد کسی جنگل میں زنجیروں کے ساتھ باندھ کر رکھا گیامغوی شخص کے والدین کے ساتھ ڈکیت ہر ماہ مغوی کے ہی موبائیل نمبروں سے بات کرتے تھے اور ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کرتے تھے اور تاوان کی رقم نہ ملنے پر اس پر تشدد کیا جاتا تھاگزشتہ رات ڈکیتوں نے مغوی کے ہاتھ باندھے اور آنکھوں پر پٹی باندھ کے موٹر سائکلوں پر لے کر جارہے تھے کہ اچانک راستے میں پولیس آگئی اور پولیس مقابلے کے دوران ڈکیت فرار ہوگئے اور پولیس نے مغوی کوبحفاظت بازیاب کروا لیامزید تفتیش جاری ہے جس کے بعد قانونی کاروائی کی جائے گی بازیاب کئے گئے مغوی کی والد سے پولیس نے رابطہ کیا ہے جس پر مغوی کی والد نے بتایا کہ انہون نے اپنے بیٹے کے اغوا کی مندرجہ ذیل ایف آئی آر تھانہ لطیف آباد پہ درج کروارکھے

This Post Has Been Viewed 4 Times