آج کی بات 30-05-2018۔۔۔

غلام اکبر
جو ملک ایک سوئی نہیں بنا سکتا
وہ ایٹم بم کیسے بنا سکتا ہے ۔۔۔ ؟ یہ ایک بلف ہے !
پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے پیچھے ایک بڑا فیصلہ ` ایک بڑی جدوجہد ` ایک بڑا عزم اور ایک بڑی منصوبہ بندی تھی۔۔۔
بڑا فیصلہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا تھا۔۔۔
بڑی جدوجہد ڈاکٹر اے کیو خان کی تھی۔۔۔
بڑا عزم جنرل ضیاءالحق کا تھا جنہیں ہر سال صدر ریگن کویہ یقین دلانا پڑتا تھا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بم بنانے کے لئے نہیں ہے۔۔۔اور بڑی منصوبہ بندی غلام اسحاق خان مرحوم اور پاک فوج کی تھی۔۔۔
پاکستان ایٹمی طاقت کیسے بنا۔۔۔؟
اگر اس سوال کا درست جواب حاصل کرنا ہے تو اینڈریولیوی اور کتھیرین سکاٹ کلارک کی مشترکہ تصنیف DECEPTIONپڑھیں۔۔۔
یہ کتاب آپ کو بتائے گی کہ ڈاکٹر اے کیو خان نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلے۔۔۔ یہ کتاب آپ کو یہ بھی بتائے گی کہ آئی ایس آئی کے سرفروش ایجنٹ کس کس طرح کہوٹہ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے دنیا بھر میں مصروف عمل رہے۔۔۔ اور یہ کتاب آپ کو یہ بھی بتائے گی کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانا بھٹو اور ضیاءکا مشترکہ نصب العین کیسے تھا یہ کتاب ان دستاویزات کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے جو امریکی حکومت نے ڈی کلاسیفائی کیں۔۔۔586صفحات پر مشتمل اس کتاب میں میاں محمد نواز شریف کا نام کہیں بھی نہیں۔۔۔
یہ محض اتفاق ہے کہ جب دھماکوں کا تاریخی لمحہ آیا تو ملک کا وزیراعظم میاں نوازشریف تھا۔۔۔
مجھے اکثر وہ گفتگو یاد آتی ہے جو مرحوم غلام مصطفی جتوئی کے گھر 24مئی 1998ءکو میرے او ر محمد مالک کے درمیان ہوئی۔۔۔ محمد مالک اس ” مقبول “ رائے کی نمائندگی کررہے تھے کہ پاکستان کا ایٹمی طاقت ہونا محض ایک Bluff (دھوکہ )ہے ورنہ جو ملک ایک معمولی سی سوئی نہیں بنا سکتا وہ ایٹمی دھماکہ کیسے کرسکتا ہے۔۔۔
” میرے ساتھ شرط رکھیں مالک صاحب ۔۔۔ دھماکہ ہوگا۔۔۔ اور اسی جمعہ کے روز ہوگا۔۔۔
میری اس بات پر برادرم محمد مالک نے قہقہہ لگایا تھا۔۔۔ وہ قہقہہ مجھے آج بھی یاد ہے۔۔۔ اور یہ الفاظ بھی۔۔۔ ” آپ بادشاہ آدمی ہیں اکبر صاحب۔۔۔“
دھماکہ ہوا۔۔۔ جمعہ سے پہلے ہوا۔۔۔ جمعرات کو ہوا۔۔۔ اس روز 28مئی 1998ءکی تاریخ تھی۔۔۔ دوسرا دھماکہ جمعہ کو بھی ہوا۔۔۔
جو ملک سوئی تک نہیں بنا سکتا تھا وہ ایک مصّدقہ ایٹمی طاقت بن گیا۔۔۔
تھینک یوُ بھٹو۔۔۔
تھینک یوُ اے کیو خان ۔۔۔
تھینک یوُ جنرل ضیاءالحق ۔۔۔
تھینک یوُ غلام اسحاق خان ۔۔۔
اور تھینک یوُ۔۔۔ وہ تمام سرفروشان جنہوں نے کہوٹہ کو پاکستان کا نشانِ عظمت بنایا۔۔

(بشکریہ زین ا لعابدین )

This Post Has Been Viewed 10 Times