بچہ جمہورا کی ایک سیاسی قلندر سے ملاقات
مقصود انجم کمبوہ
استاد : بچہ جمہورا “گھوم آ” معاملہ بڑا گڑ بڑ ہے حالات کی سنگینی بتا رہی ہے کہ آئیندہ چند ہفتوں میں کچھ ہونے والا ہے اور تم سیاسی عاملوں اور قلندروں سے ملاقاتوں میں مصروف ہو
بچہ جمہورا: لو استاد جی “گھوم آیا” جو آپ کہہ رہے ہیں بات کچھ ایسی ہی ہے مجھے ملک عزیز کے معروف سیاسی قلندر سے ملنا تھا اور ملک عزیز کی سیاسی ، سماجی اور معاشی صورتحال پر بحث و مباحثہ کرنا تھا سیاسی قلندر کی باتوں سے بھی مایوسی ٹپک رہی تھی وہ کہہ رہا تھا کہ نا اہل وزیر اعظم کے تلخ بیانیے نے پورے ملک کو داؤ پر لگا دیا ہے یہ بیا نیہ ملک و قوم کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں مگر افسوس کہ ن لیگیوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی اور وہ نا اہل لیڈر کی ہر بات میں ہاں سے ہاں ملائے جا رہے ہیں اور نا اہل وزیر اعظم بھی اپنی کرتوتوں کو چھپانے کے لئے خطر ناک کھیل کھیل رہا ہے پہلے تو وہ اشاروں اور کنائیوں میں فوج کو نشانہ بنا رہا تھا اب تو اس نے براہِ راست فوج پر تابڑ توڑ حملے کرنے شروع کر دئیے ہیں ۔
استاد : بچہ جمہورا ایک بات بتاؤ کیانا اہل وزیر اعظم کو بے جا ڈھیل دے کر حالات کو گھمبیر نہیں بنا دیا گیا ؟اتنی دیر میں تو سینکڑوں ملزموں کو پھانسی پر چڑھا دیا جاتاہے آپ کو معلوم ہو گا کہ چند ماہ قبل جنوبی کوریا کی سر براہ کو کرپشن کے مقدمے میں پکڑا اور چند ہفتوں میں قید اور جرمانے کی سزا سنا کر جیل میں ڈال دیا گیا اور جیل میں ہتھکڑیاں پہنا کر لے جایا گیا اس سے پیشتر انڈونیشیاکے سابق اسپیکر ستیا نوا نتو کو کرپشن پر 15سال قید 5سال کے لئے نا اہل قرار دے کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا اسپیکر نے قومی الیکٹرونک شناختی کارڈ اسکیم میں خرد برد کے ذریعے ملکی خزانے کو 170ملین ڈالر کا نقصان پہنچایا تھا یہ رقم بجٹ کا 40فیصد بنتا ہے جس پر انہیں گذشتہ برس نومبر میں حراست میں لیا گیا تھا ستیا نوا نتو 2017,2016,2015,2014تک اسپیکر رہے ۔ چین میں 300کے لگ بھگ سیاستدانوں کو کرپشن کے جرم میں پھانسیاں دی گئیں اس طرح 10لاکھ کے قریب دیگر سرکاری و غیر سرکاری افسروں ، اہلکاروں اور دیگر شعبوں کے کرپٹ عناصر کو پھانسیاں دی گئیں اور یہ سلسلہ تو اتر سے جاری و ساری ہے ۔ اسی طرح بیشتر ممالک میں کرپٹ سیاستدانوں ، حکمرانوں اور سرکاری و غیر سرکاری عناصر کو سخت سے سخت سزا دی جاتی ہے اور مجال ہے کہ کوئی چوں چراں بھی کرے وطن عزیز کیسا دیس ہے جہاں ڈاکو ، چور ، لٹیرے حکمران اور سیاستدان عدالت سے نکلتے ہی جو منہ میں آتا ہے بولنا شروع کر دیتے ہیں نواز خاندان نے تو حد مکا دی ہے نہ صرف عدلیہ بلکہ فوج کو بھی بُرا بھلا کہنا معمول بنا لیا ہے نا اہل وزیر اعظم کے وزیر مشیر بھی بے شرمی پر اُتر آئے ہیں عدالت کے اندر بھیگی بلی اور عدالت سے باہر آکر لعن طعن کر کے اپنا غصہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔
بچہ جمہورا: استاد جی ! بس آپ دیکھئے اب کیا ہوتا ہے ان کو نانی یاد آجائے گی مجھے ملک کے نامور قلندر نے خصوصی ملاقات کے دوران بتایا ہے کہ عدالتی سزائیں سن کر انکی چیخیں نکل جائیں گی اور پھر عدالت انکی گرفتاری کے لئے فوج کو طلب کر سکتی ہے قلندر کا کہنا ہے کہ الیکشن ملتوی ہو سکتے ہیں ن لیگ کا شیرازہ بکھر جائے گا پی ٹی آئی کو نجات دھندہ سمجھ کر لوگ اس کی طرف دوڑیں گے عمران خان وزیر اعظم بنے گا انشاء اللہ ۔ پی پی پی کی ساکھ پہلے ہی ماٹھی ہے اوروہ اس پوزیشن میں نہیں کہ ملک کا اقتدار سنبھال سکے ۔ پنجاب کے سیاسی رنگ میں بھنگ ڈالنے کی پوری کوشش کرے گی مگر کوئی خاص کامیابی نصیب نہیں ہو گی ق لیگ اور دیگر چھوٹی چھوٹی جماعتیں پی ٹی آئی سے الحاق کر سکتی ہیں ایم ایم اے بھی پی ٹی آئی کے ساتھ سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کر سکتی ہے شہباز شریف اور دیگر مشیر وزیر کسی نہ کسی اہم کیس میں جیل جا سکتے ہیں لگتا ہے “سانحہ ماڈل ٹاؤن “ن لیگ کے لئے بڑی مصیبت کھڑی کردے گا آٹھ دس وزیر مشیر تو ہین عدالت کیس میں نا اہل قرار پائیں گے اور الیکشن سے باہر ہونگے ۔
استاد:بچہ جمہورا مجھے تو دکھائی دے رہا ہے کہ انتخابات سے قبل ہی نااہل وزیر اعظم عوام کو کال دے گا تاکہ ملک افراتفری کا شکار ہوجائے اور انتخابات کی بجائے ملک میں ایمر جنسی لگ جائے اس بات کی پوری کوشش کی جائے گی کہ ملک سیاسی اور معاشی طور پر انتشار کا شکار ہوجائے نا اہل وزیر اعظم پوری کوشش کریں گے کہ ملک کو انتشار میں مبتلا کر کے پڑوسی دشمنوں کو فوجی محاذ آرائی کرنے کا پورا پورا موقع مل جائے ۔
بچہ جمہورا :استاد جی آپ سچ کہتے ہیں ایسے خدشات موجود ہیں ن لیگی نمک حلالی کا فریضہ ادا کرنے کی قطعی کوشش کریں گے وہ چاہیں گے کہ ان کے لیڈران کی لگامیں کھلی چھوڑ دی جائیں اور انا اہل وزیر اعظم کی نااہلی ختم کر کے انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی جائے وہ اسٹیبلشمنٹ کو ہر طرح سے مجبور کر نے کی کوشش کریں گے اسی لئے نا اہل وزیر اعظم عوامی تحریک چلانے میں بھر پور طریقے سے مصروف ہیں سیاسی ورکروں کو اکسانے کی حتیٰ الوسعٰ کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں بڑے میاں بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ اب دونوں کی پالیسی اندر سے ایک ہے مگر اسٹیبلشمنٹ کو بیو قوف بنا نے میں چھوٹے میاں سب سے آگے ہیں کہ وہ کسی ادارے کی مخالفت نہیں کرنا چاہتے جبکہ وہ طریقے سے اپنا کام کرتے جارہے ہیں ۔
استاد جی : بچہ جمہورا یار! وہ ملتان کافالج زدہ سیاستدان کیا گیم کھیل رہا ہے ؟ جب سے وہ پی ٹی آئی کی ٹوکری کے نیچے سے کھسکا ہے اسٹیبلشمنٹ کو جی بھر کے نشانہ بنا رہا ہے خود اپنے گریبان کے اندر جھانکنے کی بجائے دوسروں کو سبق دیتا ہے یہ بغیر ٹونٹی کے لوٹا ہے اور بڑا ہوشیار چالاک لوٹا ہے کہتے ہیں معذور کی ایک رگ وکھری ہوتی ہے حیران کن بات ہے کہ اب وہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کر کے کیا حاصل کر پائے گا بس اس کے منہ کو چسکا لگ چکا ہے خوامخوہ ماما بن کر بھانجے کو کھارے سے اُتارنے کا شوق رکھتا ہے ۔
بچہ جمہورا : استاد جی بس ان کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں یہ اپنی اپنی پیٹھ پر ہاتھ لگا کر دیکھیں گے کتنا خون بہہ رہا ہے اور یہ خون کیا رنگ لائے گا ان لوگوں کو امید نے بھی ہاتھ کر دکھایا ہے اب چور مچائے شور والا قصہ چل رہا ہے اپنی سیاسی ساکھ کو قائم ودائم رکھنے کے بہانے ڈھونڈ ے جا رہے ہیں ہم تو دعا ہی کر سکتے ہیں ہمارے ہاتھ میں بھی کچھ نہیں رہا جو ہم کسی کے کام آئیں ہم صرف یہ دعا کرتے ہیں اے پروردگار آئیندہ ملک عزیز کو نیک اور صالح حکمران عطا فرما اور ملک عزیز کو ہر بلا ، آفت اور مصیبت سے محفوظ فرما آمین ثمہٰ آمین ۔

This Post Has Been Viewed 4 Times