از قلم( ذیشان حیدر ڈانگرہ) اگر تھوڑا سا غور سے دیکھا جاےُ تو سیاست اور سیاحت کے پہلو آپس میں کافی ملتے ہیں اور دونوں صورتوں میں اِس کے پاس آپ اور میں کثیر تعداد میں پاےُ جاتے ہیں ماجودہ دورِحاضر میں سیاست محض ایک پلیٹ بریانی تک اور سیاحت میں بھی من چاھی ایک پلیٹ بریانی تک محدود ہیں دونوں صورتوں میں پیثہ آپ کا میرا اور اِس عوآم کا۔سیاست کے کسی جلسہ گاہ میں پہنچو تو وٹ کا رونہ تم غلط میں غلط وہ غلط خود صیح اُس نے مُلک لوٹا ہے ارے بھائی یہ تو بتاوُ کس نے نہیں لوٹا ہماری قوم تو کب کی سو چُکی اِس کے سامنے کیا رونا کیا ڈھول بجانا کبھی اِس کی باری تو کبھی اُس کی تو کبھی تمہاری او جاوُ پر ہمیں نہ جگاوُ تو پھر کس بات کا رونا ہے ہمیں تو خوآبِ خراغوش کے مزے لوٹنے دو جب سب ہی غلط ہیں تو صیح کون ہے ہم تو سیاحت کے غرض سے چلے آتے ہیں کہ چلو تھوڑی دیر تفریح بھی اور ایک پلیٹ بریانی بھی ہم نے کون سا کسی کو سُننا ہے اور نہ ہی کوئی آواز اُٹھانی ہے سوئی ہوئی قوم کا مقدر بھی سو جاتا ہے تو کیا جگانا کس کو جگانا قوم کو کہ مقدر کو ہم تو سو چُکے بھائی تھوڑا سا اُٹھیں گے الزام تقدیر پہ ڈالیں گے اور پھر سو جائیں گے (باقی آئندہ)

This Post Has Been Viewed 5 Times