پاکستان میں روشن اور تاریک مُستقبیل از قلم

ذیشان حیدر ڈانگرہ

 پاکستان اِس وقت خاص طور پر بچوں کے لحاظ سے ایک تاریک مُستقبیل کے راستے کی طرف گامزن ہے اور اُس کی خاص وجوھات ہیں تعلیمی معیار کا ناقص ہونا جدید ٹیکنالوجی کا بےجا اِستمال منشیات کی سرِعام فراہمی بے حیائی اور بے پردگی کا نظام کا عام ہونا وآلدین کا بچوں کو بے ضرورت پیسے دینا اہلِ احباب ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سو میں سے چھاتیس فی صد ایسے بچے جو طالبِ علم ہیں اور مختلیف سکولوں کلجوں اور یونیورسٹیوں میں زیرِتعلیم ہیں منشیات کا آستمعال کر رہے ہیں اور چھیاسی 86% بچے ایسے بھی ہیں جو بے راہ روائی کا شکار ہیں اِن میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد یکساں ہے منشیات کی سرعام فروخت ہو رہی ہے جن میں سگریٹ پان کتھا سپاری گوٹکا چرس افیون شراب ہیروین پاوڈر بھنگ وغیرہ عام فروخت ہو رہے ہیں اور ان لعنت چیزوں کو بیچنے والے کبھی اِس بات کو نہں سوچتے کہ کسی بچے کو ان کا فروخت کرنا اس ملک گھر اور قوم کو اجاڑنے کے برابر ہے آپ نے سگریٹ کے پیکٹ پہ لکھا تو ضرور پڑھا ہو گا کہ اٹھاراں 18 سال سے کم عمر افراد کو فروخت منع ہے مگر اِس پر عمل کرتے کسی کو نہیں دیکھا ہو گا حضورِوالا کسی بھی قوم کی تراقی کا دارو مدار اس قوم کے بچوں پر ہوتا ہے آج ایک سفر کے دوران میں نے بس میں سفر کرتے چند کالج کے طالبِعلموں کو دیکھا تو دِل خون کے آنسو رویا کہ یہ ہمارا روشن مستقبیل کس راستے پر چل پڑا ہے سب کی قمر پر کتابیں ہاتھوں میں سگریٹ موبائل اور بس میں بیٹھی عورتوں اور لڑکیوں سے باتمیزی بدمعاشی اور لڑای کرتے کبھی ایک دوسرے سے تو کبھی بس کے کنڈیکٹر سے لڑتے بچے موبائل پہ کالز پہ کالز اور ایس ایم ایس کرتے بچے کس روشن مستقبیل کی ضمانت ہیں یہ اپنی قوم کو کون سے روشن مستقبیل کی طرف لے کر چلیں گے یا اس سے بھی تاریک پہلوں سے روشناس کروائیں گے اس میں میرے نازدیک سب سے زیادہ قسور بھی ہمارا ہے اور وہ ہے رشوت اور حرام پیسہ پولیس نظام کا بہتر نہ ھونا والداین حضرات کا بچوں کو بےجا لاڈ پیار دینا بچوں کی حرکتوں پہ نظر نہ رکھنا بچوں کو بے ضرورت خرچ دینا اور خاص الخاص اپنے مذہب اور اسلام سے روشناس نہ کروانا اسلام کے معاملے میں سختی نہ کرنا قارئین ہمیں ایک قوم ہو اس پہلو کو سُلجھنا ہو گا ورنہ یقین مانیے ہم ایک پست اور تاریک قوم کی طرف رواں دواں ہیں

This Post Has Been Viewed 14 Times