سات بہنوں کا اکلوتا بھائی !
ظہور دھریجہ
15اپریل 2018ء صبح دس بجے پرانی سبزی منڈی ڈی آئی خان میں دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے ایک پولیس کانسٹیبل ارشد اور سبزی فروش اعجاز کو بیدردی کے ساتھ قتل دیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔ شہید ہونیوالے دونوں افراد مقامی سرائیکی تھے ، کانسٹیبل ارشد ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کا باپ تھا، ارشد کا اکلوتا بیٹا معذور ہے اور وہ اپنے بیٹے کی معذوری کا صدمہ اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے تھا اُس نے ایک ماہ کی چھٹی لی ہوئی تھی کہ وہ اپنے معذور بیٹے کا علاج کرا سکے ، ایک ماہ کی چھٹی لینے کے بعد جونہی وہ ڈیوٹی پر واپس آیا دہشت گردوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔
شہید ہونیوالے دوسرے نوجوان اعجاز کا معاملہ اُس سے بھی زیادہ المناک ہے کہ اعجاز ولد غلام رسول سات بہنوں کا اکلوتا بھائی تھااور پورے کنبے کا واحد کفیل تھا ، وہ بھی بے شرم ، بے حیاء اور ننگ انسانیت دہشت گردوں کی دہشت گردی کا شکار ہو گیاجونہی اعجاز کی لاش گھر پہنچی تو کہرام اور قیامت بپا ہو گئی۔ بہنوں کے بین آسمان کو چیرتے دکھائی دئیے، ایسے لگا کہ آسمان بھی رو رہا ہے، لیکن دہشت گردوں میں انسانیت نام کی کوئی چیز دیکھنے میں آج تک نہیں آئی۔اس سے چند دن پہلے پروآ میں ایک زمیندار اور ایک حافظ قرآن سرائیکی کو دہشت گردوں نے گولیوں سے بھون دیا۔ سوال یہ ہے کہ سرائیکی وسیب کے لوگ کب تک لاشیں اٹھائیں؟ کب تک بے بسی اور بے کسی کی تصویر بنے رہیں؟ سرائیکیوں کی نسل کشی کب تک ہوتی رہے گی؟
کیا تاریخ انسانیت کوئی اس طرح کا واقعہ پیش کر سکتی ہے کہ دھماکہ ہوتا ہے لاتعداد لوگ شہید ہوتے ہیں، زخمیوں کو ہسپتال لے جایا جاتا ہے پھر دہشت گرد ہسپتال جا کر بم مار دیتے ہیں ، وہاں مزید شہادتیں ہوتی ہیں دوسرے دن شہداء کی نماز جنازہ پڑھائی جا رہی ہوتی ہے تو پھر دہشت گرد وہاں جا کر بم مار دیتے ہیں اور پھر وہاں بھی خون ہی خون اور لاشیں ہی لاشیں ہوتی ہیں۔ اگر تاریخ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ دنیا میں کوئی اس طرح کا واقعہ ہوا ہے کہ نہیں ؟ تو ہم بتاتے ہیں کہ ہاں ہوا ہے اور یہ واقعہ میرے وسیب کی مقدس سرزمین ڈی آئی خان میں ہوا ہے، یہ صرف ایک واقعہ نہیں اس کے بعد دہشت گرد کارروائیوں کا لا متناہی سلسلہ ہے جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ یہ دہشت گرد کون ہیں؟ کہاں سے کارروائیاں کر رہے ہیں؟ ان کے مقاصد کیا ہیں؟ سب کو معلوم ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ آج جبکہ ہر جگہ سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں ، یو ٹیوب پر جائیں دہشت گردی کرنے والوں کی ویڈیوز بھی موجود ہیں ان کی شکلیں اور چہرے بھی نظر آ رہے ہیں مگر پھر بھی نہیں پکڑے جاتے تو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ محافظ بھی دہشت گردوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور ان دونوں کا مقصد ہی ایک ہے کہ ڈی آئی خان اور ٹانک میں خوف و ہراس کی صورتحال پیدا کر دی جائے لوگوں کی جانیں خطرے میں چلی جائیں اور وہ جانیں بچا کر ڈی آئی خان و ٹانک سے نقل مکانی کر جائیں اور پھر دہشت گردو ں کا سرائیکی وسیب پر قبضہ آسان ہو جائے۔
دہشت گرد کاروائیوں کے موقع پر ہوشو شیدی کا نعرہ آج مجھے اس لئے یاد آیا ہے کہ گزشتہ روز ملتان میں سرائیکی صوبہ ریلی تھی بہت سے نعرے بلند ہو رہے تھے لوگوں کا ایک گروہ الگ نعرے لگا رہا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ ’’مرسوں مرسوں ٹانک نہ ڈیسوں‘‘ مجھے تجسس ہوا اور ان کے قریب ہو کر میں نے ان سے کہا کہ نعرہ تو یہ ہے کہ ’’مرسوں مرسوں سرائیکستان نہ ڈیسوں‘‘ آپ صرف ٹانک کی بات کیوں کرتے ہیں؟ مجھے میرے عزیز ساجد سندھو میرے اخبار روزنامہ جھوک سرائیکی ڈی آئی خان کے ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں نے بتایا کہ ضلع ٹانک میں بڑی تیزی کے ساتھ افغان مہاجرین کی بستیاں بسائی جا رہی ہیں اور عمران خان کی نسل پرست پشتون گورنمنٹ فلسطین میں یہودی طرز کی بسائی گئی بستیوں کی مکمل نگرانی اور دیکھ بھال کر رہی ہے،ہم ٹانک کے باسی کربناک صورتحال سے دو چار ہیں وہاں دھرتی کے اصل وارثوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور ان کی پلاننگ یہ ہے کہ جب ٹانک پر قبضہ مکمل ہو جائے گا تو پھر دیرہ اسماعیل خان ہمارے ہاتھ کی میل ہے۔ ساجد سندھو کی باتوں سے مجھے مسئلے کی شدت کا احساس ہوا اور پھر یہ بات سمجھ آئی کہ ’’مرسوں مرسوں ٹانک نہ ڈیسوں‘‘کے نعرے بار بار کیوں بلند ہو رہے ہیں ۔یہ لوگ دہشت گردی کا شکار ہیں ، ان سے پوچھیئے کہ وہ کیوں کہہ رہے ہیں ’’مرسوں مرسوں، ٹانک نہ ڈیسوں، ڈی آئی خان نہ ڈیسوں ، سرائیکستان نہ ڈیسوں‘‘۔
حرف آخر کے طور پر عرض کروں گا کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی نسل کشی پر ایکشن لیا اور نہ صرف وہاں پہنچ کر ان سے اظہار تعزیت کی بلکہ بلوچستان حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ برادری کی جان و مال کا تحفظ اُس پر فرض ہے ۔ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ڈی آئی خان و ٹانک میں سرائیکی قوم کی نسل کشی کی جا رہی ہے جس طرح آپ نے ہزارہ برادری پر ہونیوالے مظالم کا نوٹس لیا ہے اسی طرح کا نوٹس ڈی آئی خان میں بھی لیں ۔ گو کہ ڈی آئی خان میں عمران خان کی حکومت ہے اور عمران خان کی مرکزی قیادت سرائیکی بولنے والوں پر مشتمل ہے لیکن جو مردہ گھوڑے جاگیردار و سرمایہ دار اُس کے ساتھ ہیں وہ سب بے حس اور بے ضمیر ہو چکے ہیں ، انسانیت نام کی ان میں کوئی بات ہی نہیں ، سرائیکیوں پر جتنا ظلم ہو رہا ہے ان بے شرم لوگوں کو صرف تین سطروں کا تعزیتی بیان بھی جاری کرنی کی توفیق نہیں ہوتی۔ عمران خان کا اپنا حال یہ ہے کہ پرویز مشرف کے دور میں دہشت گردی کے نتیجے میں لاشوں کے انبار ڈی آئی خان میں لگے ہوئے تھے ، عمران خان دہشت گردوں کو مجاہدین کا نام دے کر ان سے اظہار یکجہتی کیلئے قافلہ لیکر دیرہ اسماعیل خان سے گزر کر آگے جا رہا تھا ، قسم باخدا! عمران خان کو اُس وقت سے لیکر آج تک سرائیکیوں کے ساتھ ہونیوالے مظالم کا رتی برابر بھی احساس نہیں ہے۔ سرائیکی وسیب کے کروڑوں لوگ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب! آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ سرائیکیوں کی نسل کشی کا نوٹس لیں اور خیبر پختونخواہ حکومت کو تنبیہ کریں کہ وہ دہشت گردی کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کرے ، اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہو سکا تو بھارت کے اتحادی دہشت گرد افغان حکمران نہ صرف سرائیکیوں بلکہ پورے پاکستان اور اہل پاکستان کیلئے خطرے کا باعث بنے رہیں گے۔

This Post Has Been Viewed 4 Times