مظفرآباد(بی بی سی) وادی نیلم میں کنڈل شاہی پل ٹوٹنے سے 40 سے زائد سیاح دریائے نیلم کے ’نالہ جاگراں‘ میں جاگرے جن میں سے 7 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں اور 13 افراد کو زندہ بچالیا گیا ہے جب کہ باقی کی تلاش جاری ہے۔مظفر آباد میں وادی نیلم میں خستہ حال کنڈل شاہی پل ٹوٹ گیا جس کے باعث پل پر کھڑے سیاح نالہ جاگراں میں گرگئے۔ ڈوبنے والے پانچ افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جن میں سے 3 فیصل آباد کے نجی کالج کے طالب علم تھے۔ اب تک 13 افراد کو زخمی حالت میں زندہ بچالیا گیا ہے جب کہ باقی لاپتہ سیاحوں کی تلاش کے لیے امدادی اداروں کی کارروائیاں جاری ہیں۔ دریا کا بہاؤ انتہائی تیز ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ پل پر خواتین اور بچوں سمیت 40 سے زائد سیاح کھڑے تھے کہ اچانک پل ٹوٹ گیا اور تمام لوگ نالے میں بہہ گئے۔ نالہ جاگراں بلندی سے نیچے اترنے والا انتہائی تیز رفتار نالہ ہے جس میں پانی بہت تیز رفتاری سے بہتا ہے لہٰذا گرنے والے سیاحوں کیبچنے کی امید بہت کم ہے۔ ڈپٹی کمشنر نیلم راجہ شاہد محمود کا کہنا ہے کہ خستہ حال پل گنجائش سے زیادہ افراد کا بوجھ برداشت نہ کرسکا اور ٹوٹ گیا۔نیلم حادثے میں متاثرہ افراد کی اکثریت کا تعلق فیصل آباد، لاہور اور سرگودھا سے ہے۔ دریا میں گرنے والے سیاحوں میں فیصل ا?باد کے نجی کالج کے طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں جن میں سے 3 طالبعلموں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جب کہ دو طالبات اور ایک طالبعلم کو زندہ بچالیا گیا ہے۔ ڈوب کر ہلاک ہونے والوں کی شناخت شہزاد، عبدالرحمان، محمد ندیم، حماد اور معظم کے نام سے ہوئی ہے۔جاں بحق افراد میں شہزاد اور عبدالرحمن کا تعلق فیصل آباد اور محمد ندیم کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ زخمیوں میں فیصل آباد سے 18 سالہ حمزہ، 19 سالہ عدیل، 21 سالہ ولید، 21 سالہ زبیر، 18 سالہ انعم اور ثنا منیر، ساہیوال سے 22 سالہ اقرا، 28 سالہ علینا، بورے والا سے 22 سالہ ابرار، جھنگ سے 18 سالہ لاریب شامل ہیں۔ زخمیوں میں فیصل آباد کے ولید اور زبیر کی حالت تشویشناک ہے۔وزیر اعظم آزاد کشمیرراجہ فاروق حیدر نے وادی نیلم واقعہ پر فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نیلم اور ایس پی کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ انہیں صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ ا?گاہ کیا جائے۔ راجہ فاروق حیدر نے مزید کہا کہ حادثے کی وجوہات اور بدانتظامی کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ریسکیو ٹیموں کے ساتھ پاک آرمی بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف عمل ہے۔دوسری جانب فیصل آباد کالج کے ڈائریکٹر جنید سبحانی کا کہنا ہے کہ کالج سے کل 69 لوگ گئے تھے، جب کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی غم سے نڈھال والدین نے کالج آکر معلومات حاصل کرنی شروع کردی ہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وادی نیلم میں پل ٹوٹنے کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پاک فوج کو سول انتظامیہ کی ہرممکن مدد کی ہدایت کی ہے، پاک فوج کا متاثرہ علاقوں میں آپریشن جاری ہے، ڈاکٹروں اور جوانوں پر مشتمل ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ اتوار کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وادی نیلم میں پل ٹوٹنے کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، اور پاک فوج کو سول انتظامیہ کی ہرممکن مدد کی ہدایت کی ہے۔ پاک فوج کا متاثرہ علاقوں میں امدادی آپریشن جاری ہے، ڈاکٹروں اور جوانوں پر مشتمل ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں ، حادثے میں اب تک 4افراد جاں بحق جبکہ 11زخمی ہوگئے ہیں، زخمیون کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے مظفرآباد اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، آرمی چیف نے امدادی ٹیمیں بھجوانے کا حکم دیا تھا۔

This Post Has Been Viewed 13 Times