دبئی (بی بی سی) آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدرجنرل(ر) پرویز مشر ف نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں انتخابات کا ہونا نقصان دہ ہے،ایسی عبوری حکومت آئے جو اداروں کو بہتر طریقے سے چلائے،ہمارا سیاسی نظام ٹھیک نہیں ہے اس کو درست کرنا ہو گا،مذہب کے حوالے سے ہمیں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے، سیاسی حکومتیں کام ہی ایسا کرتی ہیں جس کی وجہ سے فوج کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔  پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل(ر) پرویز مشرف نے کہا کہ  ن لیگ کے رہنماؤں کے ساتھ جس طرح کا سلوک ہو رہا ہے انتخابی مہم میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں ،موجودہ صورتحال میں انتخابات کا ہونا نقصان دہ ہے ،ایسی عبوری حکومت آئے جو اداروں کو بہتر طریقے سے چلائے، عبوری حکومت کے لیے انٹلیجنس ایجنسی کو مدد کرنی چاہیے ، اگر آئی ایس آئی عبوری حکومت کا انتخاب نہیں کرتی تو پھر چیف جسٹس کو انتخاب کرانا چاہیے ،ہمارا سیاسی نظام ٹھیک نہیں ہے اس کو درست کرنا ہو گا ،جب انتخابات میں ہار جاتے ہیں تو کہتے ہیں ریفری ٹھیک نہیں تھا، سیاسی حکومتیں کام ہی ایسا کرتی ہیں جس کی وجہ سے فوج کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ ایک سوال پر جنرل (ر)پرویز مشرف نے کہا کہ اصغر خان کیس اب پرانا ہو گیا ہے، آئی ایس آئی خود سے کچھ نہیں کرتی، اوپر سے حکم آتا ہے، چودھری شجاعت کی کتاب میں کیے گئے انکشافات بے بنیاد ہیں، لاپتہ افراد کے حوالے سے میں نے بہت زیادہ تحقیق کی ،بعض لڑکے اپنے والدین کو بتائے بغیر چلے جاتے ہیں، بلوچستان میں بعض قبائلی پہاڑوں میں جاکر ایف سی بلوچستان پر گولیاں چلاتے ہیں، آگے سے ایف سی بھی کارروائی کرتی ہے، کیا ایف سی انہیں پھولوں کے ہار پہنائیں ؟انہوں نے کہا کہ میرے دور حکومت میں اس وقت کے وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے کسی پاکستانی کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا ۔سابق صدر نے کہا کہ نیب کی کارروائیوں کا خیر مقدم کرتا ہوں، میں پاکستان سے ایک پائی بیرون ملک لیکر کر نہیں گیا ،میں نے اپنے قوت بازو سے کمایا ،ایک لیکچر کے ہزاروں ڈالر ملتے تھے ،میں نے ایک کتاب لکھی جو نیو یارک کی سب سے زیادہ شائع ہونیوالی کتاب تھی جبکہ دوسرے لوگوں نے تو لوٹ مار کی ہے ،پاکستان کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ سابق صدر  پرویز مشرف نے کہا کہ 2013سے 2016تک میں خود پاکستان آیا ، سپریم کورٹ کے علاوہ ہر کورٹ میں 15دفعہ حاضری دی، میرا موازنہ ان لوگوں سے کرتے ہیں جو ملک کو لوٹ کر لے گئے ہیں، اس پر مجھے غصہ آتا ہے ،مجھ پر نواز شریف نے خود سیاسی کیس بنائے ہوئے ہیں ،اب جو دو نئے کیسز شروع ہوئے ہیں مجھے پورا یقین ہے احسن اقبال نے بنائے ہوں گے ،بے نظیر قتل میں دو سال تک میرا نام نہیں تھا، رحمان ملک نے بعد میں میرا نام اس کیس میں  ڈلوایا۔انہوں نے کہا کہ میں پاکستان ضرور آؤں گا ،وہ علاج غلط نہیں ہے جو میں کروا رہا ہوں، میرا علاج جاری ہے ،میری پاکستان کے لیے سوچ دوسروں سے الگ ہے، میں پاک آرمی کا حصہ ہوں، میں نے کبھی بھی نہیں کہا کہ مجھے راحیل شریف نے باہر بھجوایا ہے، میں ابھی واپس نہیں آنا چاہتا کیونکہ سپریم کورٹ میں اتنا کچھ ہو رہا ہے ،وہاں خلفشار اتنا ہے اگر میں آؤں گا تو شاید اس کی سمت ہی تبدیل کر دوں ،ایک نیا فنامنا ہی تبدیل کر دوں، میں اسٹیبلیشمنٹ کو ڈی ریل نہیں کرنا چاہتا ،جو کام ہو رہا ہے انہیں کرنے دو میں انشاء اللہ ضرور پاکستان واپس  آؤں گا۔

This Post Has Been Viewed 6 Times