واشنگٹن (بی بی سی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جوہری معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے حکم نامے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھاکہ امریکا خالی دھمکیاں نہیں دیتا، ایران سے ایٹمی تعاون کرنے والی ریاستوں پر بھی پابندیاں لگائیں گے، ایران ریاستی دہشت گردی کی سر پرستی کرتا ہے، حقیقت میں اس ڈیل کے تحت ایران کو یورینیم افزودگی کی اجازت مل گئی، ایران، شام اور یمن میں کارروائیاں کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ثبوت ہے کہ ایران کا وعدہ جھوٹا تھا، ایران نیوکلیئر ڈیل یک طرفہ تھی، ڈیل کے بعد ایران نے خراب معاشی صورتحال کے باوجود اپنے دفاعی بجٹ میں 40 فیصد اضافہ کیا۔ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہوگا، ایران ایک دہشت گرد ملک ہے، وہ دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث ہے، اگرایران ہتھیار بنانے پر بضد رہا تو بہت برا ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران سے جوہری معاہدہ نہیں ہوناچاہیے تھا، معاہدے کو جاری رکھا تو ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجائے گی اور جیسے ہی ایران ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیاب ہوگا دیگر ممالک بھی کوششیں تیز کر دیں گے۔خطاب کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے ہونے والے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے۔

This Post Has Been Viewed 4 Times