جیکب آباد(سومرو بی بی سی) سی آئی اے کو خفیہ اطلاع ملی کہ کچھ ڈکیت کسی سنگین نوعیت کے جرم کے ارادے سے تھانہ صدر کی حدود بھٹی لاڑو کے قریب موجود ہیں مزکورہ اطلاع ملتے ہی انچارج سی آئی اے -1 سب انسپیکٹر منظور احمد ڈومکی بمعہ اسٹاف فوری طور پر جیسے ہی تھانہ صدر کی حدود میں بھٹی لاڑو کے قریب پہنچے تو 3 مسلحہ ڈکیتوں نے پولیس کو دیکھتے ہی کلاشنکوف سے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی پولیس نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی دوران فائرنگ موبائیل تھانہ صدر بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ملزمان کی فائرنگ سے تھانہ صدر پولیس کی موبائیل کو نقصان پہنچا فائرنگ کے تبادلے کے دوران گولیاں ختم ہوتے ہی ایک ملزم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر کلاشنکوف سمیت خود کو پولیس کے حوالے کر دیا جبکہ 2 ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئےدوران تفتیش یہ انکشاف ہوا کہ گرفتار ڈکیت کا نام بابو عرف محمد بخش ولد امام بخش عرف سنگم میر جت ہے اور ملزم ارادہ قتل قتل ڈکیتی جیسی سنگین وارداتوں میں پولیس کو مطلوب ہےملزم کے خلاف تھانہ صدر پہ مندرجہ ذیل کیس داخل کر دیئے گئے ہیں۔
1. Cr. No. 53/2018 u/s 324-353-401-427 PS Saddar
2. Cr. No. 54/2018 u/s 23(i)A(25-SAA-2013) PS Saddar
گرفتار ڈکیت بابو عرف محمد بخش ولد امام بخش عرف سنگم میر جت نے 26 نومبر 2008 کو اپنے 4 ساتھیوں سمیت ملکر تھانہ دوداپور کی حدود میں نیشنل بینک کی گاڑی کو روک کر 30 لاکھ روپے کی رقم لوٹ لی تھی اور گاڑی میں موجود پولیس کانسٹیبل امداد علی سے سرکاری کلاشنکوف چھین کر فرار ہوگئے تھےاس واقعے کے بعد تھانہ محمد پور اوڈھو پولیس نے پولیس مقابلے کے دوران ایک ڈکیت عبدالغفار بوھڑ کو گرفتار کر لیا تھا اور ڈکیت بابو عرف محمد بخش ولد امام بخش عرف سنگم میر جت فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا گرفتار ملزم عبدالغفار بوھڑ کے قبضے سے سرکاری کلاشنکوف اور لوٹی گئی رقم 2 لاکھ برآمد کر لی گئی تھی جس کا مندرجہ ذیل مقدمہ تھانہ محمد پور پر درج کیا گیا تھا
Cr. No. 5/2009 u/s 324-353-412 PS Muhammad Pur Odho آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی جانب سے سنگین کیسون میں مطلوب ڈکیت میر جت کو گرفتار کرنے پر ایس ایس پی جیکب آباد کیپٹن ریٹائرڈ فیصل عبداللہ چاچڑ کو مبارک اور پولیس ٹیم کے لئے سی سی 1 سرٹیفکٹ اور 2 لاکھ روپے انعام کا اعلان

This Post Has Been Viewed 1 Times