بائیو کیمک ادویہ کے کرشمات
مقصود انجم کمبوہ
بائیو کیمک کا دوسرا نام ٹشو ریمیڈیز 12ہے انسانی خون کے نظام میں بارہ کیمیائی مادے ایک خاص توازن میں پائے جاتے ہیں اگر یہ توازن بگڑ جائے تو انسان ضرور بیمار پڑ جاتا ہے قانون قدرت کے مطابق بارہ کیمیائی مادوں کا با ہم متوازن ہونا ضروری ہے یعنی جس مقدار میں اور جس تناسب میں اللہ تعالیٰ نے انہیں خون میں معلق فرمایا ہے وہ تناسب بگڑتے ہی ضرور کسی بیماری پر منتج ہوگا بعض دفعہ خطرناک بیماریاں ان نمکیات کا توازن بگڑنے سے نہیں پیدا ہوتیں بلکہ بیرونی وجوہات مثلاً مہلک جراثیم کے حملہ سے پیدا ہوتی ہیں وہ بیماریوں کو مزید بڑھادیتا ہے اور بعض اوقات مریض کے لئے جان لیوا ثابت ہوتا ہے بائیو کیمک طریقہ علاج اس پر بہت تحقیق ہوئی ہے کہ ان کیمیائی مادوں سے بنائی ہوئی بائیو کیمک دوائیں کس کس بیماری اور کس کس قسم کے مضر علامات کو درست کرنے میں مفید ثابت ہوتی ہیں مثلاً جہاں اکثر اعصابی بیماریوں میں کالی فاس مفید پائی جاتی ہے وہاں اکثر تشخیصی بیماریوں میں میگ فاس مفید بتائی جاتی ہے ۔ بائیو BIOکا مطلب ہے زندگی اور کیمک “کیمیکل “کا مخفف ہے وہ کیمیکل جو زندگی بر قرار رکھنے کے لئے ضروری ہیں ان میں ایک دوا سلیشیاء ہے جو کسی کیمیائی مرکب سے نہیں بلکہ سلیکون سے بنتی ہے جو زمین کا ایک عالمگیر جز و ہے اور ہر مٹی میں پایا جاتا ہے انسانی جسم پر سلیشیاء کا زیادہ تر اثر اس طرح ہوتا ہے کہ یہ بیرونی حملے کے خلاف جسم کو متحرک کر دیتی ہے اسی دوا سے اونچی طاقت کی ہومیو پیتھک دوائیں بھی بنائی جاتی ہیں صرف سلیشیاء پر ہی بس نہیں تمام بائیو کیمک ادویہ Xطاقت کے علاوہ Cطاقت میں یعنی روزمرہ استعمال ہونے والی ہومیو طاقت میں بھی بنائی جاتی اور کامیابی سے استعمال ہوتی ہیں بعض معالج سمجھتے ہیں کہ بائیو کیمک دواؤں کی حدود کے اندر رہتے ہوئے وہ ہر بیماری کا علاج کر سکتے ہیں اس لئے یہ ہومیو طریقہ علاج کی ایک الگ شاخ بن گئی ہے جبکہ ہومیو معالج سینکڑوں ادویہ کے علاوہ بائیو کیمک دوائیں بھی استعمال کرتے ہیں کسی بیماری کے پیداہونے کے لئے ہرگز ضروری نہیں کہ پہلے خون میں موجود بارہ نمکیات کاتوازن سے بے نیاز الگ محرکات اور وجوہات سے پیدا ہوتی ہیں مثال کے طور پر ٹائیفائیڈ اور پولیو بیرونی جراثیم کے حملے سے ایسے شخص کو بھی لاحق ہو جاتے ہیں جس کا نمکیات کا نظام متوازن ہوتا ہے اگر دوسری ہومیو ادویات سے ٹائیفائیڈ اور پولیو کا صحیح علاج کیا جائے اور اعصاب میں زندگی کی کچھ رمق باقی ہو تو زندگی ان کے خلاف دفاع کرنا شروع کر دیتی ہے اور رفتہ رفتہ بیماری کے اثرات مٹنے لگتے ہیں ایک ضروری بات جو ہر معالج کے علم میں ہونا ضروری ہے کہ بائیو کیمک ادویات کا مسلسل اور غیر ضروری استعمال خون کو وقتاً فوقتاً تجزیہ کرائے بغیر انتہائی خطرناک امر ہے اور ان کا اندھا دھند استعمال جسم میں نمکیات کا توازن درست کرنے کی بجائے انہیں حد سے زیادہ بگاڑ بھی سکتا ہے ایسی مثالیں موجود ہیں کہ بائیو کیمک کے ٹانک استعمال کرنے سے بعض بچوں میں بلڈ کینسر کی نشانیاں سامنے آئی ہیں اور وہ سنبھالے نہیں سنبھلے یہ خطرات بڑے گہرے ہواکرتے ہیں ہومیو ادویات کے بارے میں یہ خیال کہ یہ بالکل بے ضرر ہیں یعنی ان کے غلط استعمال سے بھی نقصان پہنچ سکتا ہے درست نہیں ہے ۔ اسکی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی اناڑی اور بیو قوف کے ہاتھ میں بہت تیز رفتار کار آجائے تو باوجود اسکے کہ وہ کار کا حفاظتی نقطہ نگاہ سے بہت ماہرانہ طریق پر بنائی ہو ایک اناڑی کے ہاتھ میں نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے جو معالج ایسی باتیں کرتے ہیں میں انہیں ہومیو معالج تصور نہیں کرتا بلکہ وہ جاہل اجڈ ہیں ہومیو اور بائیو کیمک ادویات بڑے گہرے اثرات کی مالک ہیں بعض ادویات کو بار بار نہیں دھرایا جاتا اور بعض کے آپس میں تعلقات کا جائزہ لینا انتہائی ضروری امر ہوتاہے سلیشیاء استعمال کرنے کے بعد مرکسال چائینا کے بعد سلینیم کا استعمال خطرناک صورتحال پیدا کرتا ہے لہٰذا معا لجین کو ان ادویات کے بارے میں گہرا علم رکھناچاہئیے سلیشیاء کے بعد مرکسال دینے سے پہلے ہیپر سلفر کی دو تین خوراکیں دینے سے کام چل جاتا ہے ایلو پیتھک معا لجین کتنے بھی سمجھدار کیوں نہ ہو ں ان کی یہ مجبوری ہے کہ ان کی دوائیں ایک مرض کو تو دور کر تی ہیں مگر دوسرا پیدا کر دیتی ہیں اینٹی بائیو ٹک ادویات کے استعمال سے بواسیر کا پیدا ہوجانا کوئی بڑی بات نہیں ۔ بائیو کیمک ادویات کا موجد ڈاکٹر ششلر ایک ہومیو
کوا لیفائیڈ ڈاکٹر تھا مگر اس نے اپنی عقل و دانش کے تحت 12نمکیات ایجاد کر کے طب کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا بائیو کیمک ایک مکمل طریقہ علاج تو نہیں مگر پھر بھی بہت سی امراض کا شافی علاج موجود ہے اسی لئے ہومیو پیتھی کی کونسل نے اس طریقہ علاج کو ہومیو پیتھک میں ضم کردیا ہے یہ بہتر فیصلہ تھا ایلو پیتھک معالجوں کو چاہئیے کہ وہ بھی اس طریقہ علاج سے استفادہ کریں اسی میں ان کی بھی بھلائی اور مریضوں کی فلاح ہے بائیو کیمک طریقہ علاج کے انقلابی کرشمات وہی دیکھ سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے عقل و دانش جیسی صلاحیتوں سے نوازا ہے میں ذاتی طور پر اس طریقہ علاج کے عملی کرشمات دیکھ چکا ہوں بوڑھے آدمیوں کے لئے ایک نسخہ درج کئے دیتا ہوں جو اعصابی طور پر خود کو بہت کمزور سمجھتے ہیں کالی فاس 6Xکلکریا فاس 6Xمیگنشیاء فاس6Xان تینوں کا مرکب بنا کر صبح ، دوپہر اور رات استعمال کریں انشاء اللہ تعالیٰ وہ اعصابی طور پر کمزوری محسوس نہیں کریں گے ان کے پٹھے مضبوط ہوجائیں گے ایسے بچوں کو جو دانت نکال رہے ہوں اور مختلف پریشانیوں میں مبتلا نظر آتے ہوں کلکر یا فاس 6Xاور فیرم فاس6Xکا مرکب صبح ، دوپہر اور شام استعمال کروائیں انشاء اللہ بچہ کو سکون محسوس ہوگا حکومت کو چاہئیے کہ وہ ہر شہر میں ہومیو سرکاری ڈسپنسریاں قائم کرکے عام لوگوں کو سستے اور موثر علاج کی سہولتیں فراہم کرے ایم بی بی ایس ویسے بھی دماغی طور پر خود کو وی آئی پی سمجھتے ہیں اور دیہاتوں میں کام کرنے سے کتراتے ہیں ہومیو کی دیہی ڈسپنسریاں قائم کر کے بہت حد تک لوگوں کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے دوسرا یہ کہ میڈیکل اسسٹنٹ کے کورسسز کروا کے دیہاتوں میں ایلو پیتھی طریقہ علاج کی سہولتیں باہم پہنچائی جائیں ایف ایس سی کے بعد دو سال کا کورس جو صدیوں پہلے سابق وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو مرحوم کے دورمیں کروایا جاتا تھا ۔ مخیر حضرات کو بھی چاہئیے کہ وہ ان معاملات میں سرکار کا ہاتھ بٹائیں ٹرسٹ ہسپتال ایسے نہ بنائیں جو اس قدر مہنگے ہوں کہ غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہو ں اگر کسی مریض کو مثانے کا کینسر ہو تو بائیو کیمک کی سلیشیاء ایک لاکھ طاقت میں ایک دو بار دھرائیں انشاء اللہ یہ مرض ختم ہوجائے گی معالجوں کو چاہئیے کہ وہ بائیو کیمک کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں بلکہ اس کے ذریعے موذی امراض کے علاج پر توجہ دیں میں اس طریقہ علاج کو پرستار مانتا ہوں اور بہت سے غریب مریضوں کو ایسی ادویات سے اللہ تعالیٰ نے شفاء کامل سے نوازا ہے ۔

This Post Has Been Viewed 7 Times