نئی دہلی(بی بی سی )بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی لڑکی حسن آراءلیزو کی موت کے چار سال بعد بالآخر اس کی تدفین کر دی گئی ہے۔ حسن آراءاس وقت ملکی و غیرملکی میڈیا کی شہ سرخیوں میں آئی جب اس نے ہندومت ترک کرکے اسلام قبول کیا اور 25اکتوبر 2013ءکو ہمایوں کبیر لیزو نامی نوجوان سے شادی کر لی۔ اس کا پیدائشی نام نیپا رانی رائے تھا ، تاہم اسلام قبول کرنے کے بعد اس نے اپنا نام حسن آراءرکھ لیا جو ہمایوں سے شادی کے بعد حسن آراءلیزو ہو گیا۔ ان کی انتہائی مختصر شادی شدہ زندگی انتہائی تکلیف دہ گزری اور 14جنوری 2014ءکو اس وقت افسوسناک انجام سے دوچار ہو گئی جب انتہائی پراسرار حالت میں بیمار ہو کر ہمایوں کی موت واقع ہو گئی۔حسن آراءکے والدین نے بظاہر صلح کر لی تھی اور اس روز ہمایوں ٹرین میں حسن آراءکے والد کے ساتھ سفر کر رہا تھا جب وہ پراسرار طور پر بیمار پڑ گیا اور چند گھنٹے بعد ہی ہسپتال میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ اس کی موت کے لگ بھگ ایک ماہ بعد 10مارچ کو دل گرفتہ حسن آراءنے بھی خودکشی کرلی۔ حسن آراءکی موت پر اس کے میکے اور سسرال میں جھگڑا ہو گیا کیونکہ دونوں اپنے اپنے مذہب کے مطابق اس کو سفر آخرت پر روانہ کرنا چاہتے تھے، یہ جھگڑا عدالت جا پہنچا اور چار سال تک وہاں مقدمہ چلتا رہا۔ اس دوران حسن آرا کی میت رنگ پور میڈیکل کالج ہسپتال کے مردہ خانے میں پڑی رہی۔ گزشتہ دنوں ہائی کورٹ نے حسن آراءکے سسرالیوں کے حق میں فیصلہ دے دیا جس پر انتہائی کڑی سکیورٹی میں اسلامی طریقے سے اس کی تدفین کر دی گئی۔ڈھاکہ ٹربیون کے مطابق حسن آراءکو اس کے شوہر ہمایوں کبیر کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

This Post Has Been Viewed 3 Times