لندن(بی بی سی ) ہمارے تو ہاں کام چوری اور غیر ذمہ داری جیسی باتیں عام پائی جاتی ہیں لیکن سنتے تھے کہ باہر کے ملکوں میں ہر کوئی بڑی تندہی اور مستعدی سے اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے۔ یہ تاثر اپنی جگہ لیکن چند دن قبل برطانیہ میں پیش آنے والا ایک عجیب و غریب واقعہ کچھ اور ہی کہانی سنا رہا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ایک خاتون اپنے پاسپورٹ کی بجائے اپنے خاوند کا پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے برطانیہ سے بھارت جا پہنچی اور کسی بھی مرحلے پر کسی بھی اہلکار نے یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کی کہ اس کے پاس کس کا پاسپورٹ تھا۔مانچسٹر ایوننگ نیوز کے مطابق سٹاک پورٹ کے علاقے سے تعلق رکھنے والی 55 سالہ گیتا موڈھا بھارتی نژاد برطانوی شہری ہیں۔ وہ 23 اپریل کے روز کاروباری دورے پر بھارت کے لئے روانہ ہوئیں اور براستہ دبئی بھارتی دارلحکومت نئی دلی پہنچیں۔ گیتا کا کہنا ہے کہ انہوں نے جلدی اور بے دھیانی میں اپنے پاسپورٹ کی بجائے اپنے خاوند کا پاسپورٹ اٹھا لیا لیکن اس بات کاپتا انہیں بھارت پہنچ کر ہوا۔جب وہ مانچسٹر ائرپورٹ گئیں تو ان کے پاسپورٹ کی اصلیت نا ہی چیک ان پر پتا چل سکی اور نا ہی بورڈنگ کے وقت کسی نے اسے غور سے دیکھنے کی زحمت کی۔ دبئی میں انہوں نے اوورسیزسٹیزن شپ آف انڈیا کارڈ استعمال کیا اور سیدھی دلی جا پہنچیں۔ وہاں انہیں ایک امیگریشن فارم پُر کرنے کے لئے اپنی پاسپورٹ کی ضرورت پڑی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ ان کے پاس اپنا نہیں بلکہ خاوند کا پاسپورٹ تھا۔ جب انہوں نے متعلقہ حکام کو یہ بات بتائی تو انہیں بھارت میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا اور اگلی دستیاب پرواز سے انہیں واپس دبئی روانہ کر دیا گیا۔گیتا کا کہنا ہے کہ ان کے لئے یہ واقعہ دہری تکلیف کا باعث بنا ہے۔ ایک تو انہیں اس بات پر سخت تشویش ہے کہ ہر مرحلے پر متعلقہ عملے نے کمال غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا او ریہ دیکھنے کی زحمت نہیں کی وہ کسی مرد کے پاسپورٹ پر سفر کر رہی تھیں اور اس پر مزید افسوسناک بات یہ کہ اس غیر ذمہ داری کی سزا بھی انہیں ہی بھگتنی پڑی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر پہلے مرحلے پر ہی ان کے پاسپورٹ کو دھیان سے دیکھ لیا جاتا تو انہیں ایسی تکلیف سے نا گزرنا پڑتا

This Post Has Been Viewed 2 Times