لڑانے کی بجائے صوبہ بنایا جائے
ظہور دھریجہ
سرائیکی وسیب کے لوگ عرصہ پچاس سال سے سرائیکی صوبے کے قیام کیلئے پر امن جدوجہد کر رہے ہیں ، گزشتہ دور حکومت میں پنجاب اسمبلی سے قرار داد اور سینٹ سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ سرائیکی صوبے کا بل بھی پاس ہوچکا ہے ، ایک لحاظ سے سرائیکی صوبے کو آئینی تحفظ بھی مل گیا ہے، لیکن افسوس کہ (ن) لیگی حکومت جو کہ صوبہ بنانے کی دعویدار تھی اورجس نے 2013ء کے الیکشن میں اپنے منشور میں سرائیکی صوبہ کا وعدہ بھی کر رکھا تھا اب مختلف حیلوں بہانوں سے سرائیکی صوبہ کے قیام کو ٹالتی آ رہی ہے اور مختلف ہتھکنڈوں سے صوبہ بنانے کی بجائے صوبہ کا کیس خراب کرنے کی سازش کرنے پر تلی ہوئی ہے، خطرناک بات یہ ہے کہ وہ لڑاؤ اور حکومت کرو کے استعماری حربے استعمال کر تے ہوئے بہاولپور اور ملتان کے لوگوں کو ایک دوسروں سے لڑانا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں پہلے ن لیگ نے ملتان اور بہاولپور کو الگ الگ صوبے بنانے کا شوشہ چھوڑا اب ایک خبر کے مطابق وہ ملتان اور بہاولپور پر مشتمل دو انتظامی یونٹوں کا منصوبہ بنا رہی ہے حالانکہ (ن) لیگ چاہے تو آج بھی وہ صوبہ بنا سکتی ہے کہ صوبائی اسمبلی اورقومی اسمبلی میں اسے بھر پور اکثریت حاصل ہے۔
انتظامی یونٹس سے متعلق تفصیل یہ ہے کہ مورخہ 30اپریل2018ء روزنامہ ’’خبریں ‘‘کی اہم خبر کے مطابق حکومت پاکستان رواں ہفتے میں پنجاب کو تقسیم کرتے ہوئے دو نئے یونٹوں کا اعلان کر رہی ہے یہ انتظامی یونٹ ملتان اور بہاولپور ڈویژن پر مشتمل ہونگے جن کے ساتھ کچھ دوسرے علاقے بھی شامل کئے جائیں ے ۔ اس سلسلے میں تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں ، خبر کے مطابق 20مئی سے پہلے ملتان اور بہاولپور میں محکمہ پولیس ، ریونیو ڈیپارٹمنٹ، محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل سیکرٹریز اور ایڈیشنل آئی جیز کی سطح کے آفیسرز چارج سنبھال کر کام شروع کر دیں گے ، ان دو یونٹوں کی حیثیت فی الحال گلگت بلتستان کی طرح ہوگی لیکن بعض معاملات میں گلگت بلتستان کی طرح یہ مکمل خود مختار نہیں ہونگے ، خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ علی پور ، احمد پور شرقیہ اور خان پور پر مشتمل نئے اضلاع بھی زیر غور ہیں ، خبر کے مطابق ملتان کے انتظامی یونٹ میں ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے تمام اضلاع اور بہاولپور انتظامی یونٹ میں بہاولپور ڈویژن کے ساتھ لودھراں بھی شامل ہوگا۔ دریں اثناء مورخہ 29اپریل 2018ء کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے مینار پاکستان لاہور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم جنوبی پنجاب صوبہ بنائیں گے ۔
ان خبروں کی اشاعت کے بعد سرائیکستان قومی کونسل کا آج صبح ہنگامی اجلاس ہوا ۔ صدارت مرکزی صدر ظہور دھریجہ نے کی ۔ اجلاس میں عابد سیال ، حاجی عید احمد، طاہر دھریجہ، زبیر دھریجہ ، معیز علی بھٹہ ، ملک امجد دینو کھوکھر، افضال احمد، رضوان احمد سمیت دیگر نے شرکت کی ۔ اجلاس میں خبروں کے مضمرات اور مجوزہ انتظامی یونٹس اورعمران خان کے اعلان بارے غور کیا گیا۔ اس سلسلے میں سرائیکستان قومی کونسل مجوزہ یونٹس کے منصوبہ کو مسترد کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ ڈی آئی خان ، ٹانک ، جھنگ ، میانوالی اور بھکر کے بغیر کوئی صوبہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہ برتر صوبہ مانگتے ہیں اورنہ ہی کمتر صوبہ قبول کریں گے ۔عمران خان خیبرپختونخواہ میں پانچ سال اقتدار کے مزے لوٹتے رہے اور خیبر پختونخواہ اسمبلی سے اُسے ہزارہ صوبے کی قرار داد پاس کرانا تو اُسے یاد رہی مگر سرائیکی صوبہ کیوں یاد نہیں رہا، اب جنوبی پنجاب کا انتخابی سٹنٹ کے طور پر لینا چاہتے ہیں لیکن سیب کے لوگ جنوبی پنجاب نہیں سرائیکستان کا مطالبہ کرتے ہیں ، اسی طرح ن لیگ نے بھی سرائیکی وسیب کو ہمیشہ اندھیرے میں رکھا ہے اور ن لیگی حکومت نے پہلے ہی سب سول سیکرٹریٹ کے نام پر چار سال دھوکہ میں رکھا اور 67رکنی سب سول سیکرٹریٹ کی کمیٹی کے 36اجلاسوں میں کروڑوں روپے برباد کر دئیے گئے مگر نتیجہ صفر نکلا، حالانکہ اتنی رقم سے مجوزہ صوبہ سرائیکستان کے سول سیکرٹریٹ کیلئے انفراسٹرکچر بن سکتا تھا۔ اب پرانے شکاری نئے جال کے ساتھ آ رہے ہیں اور اب وہ سرائیکی وسیب کے کروڑوں لوگوں کو مزید دھوکہ نہیں دے سکتے ، اب سب سول سیکرٹریٹ یا انتظامی یونٹ نہیں بلکہ صوبہ سرائیکستان چاہئے ۔ سرائیکستان قومی کونسل واضح کرتی ہے کہ (ن )لیگ ایک عرصہ سے عظیم سرائیکی قوم کو غلام رکھنے اور سرائیکستان پر تخت لاہور کے قبضہ کو برقرار رکھنے کیلئے گھناؤنے ہتھکنڈے استعمال کرتی آ رہی ہے جن میں سے سب سے بڑا ہتھکنڈا ملتان اور بہاولپور کے نام پر سرائیکی وسیب اور سرائیکی قوم کو تقسیم کرکے لڑانا شامل ہے ، لیکن وہ بری طرح ناکام ہوتی آ رہی ہے، سرائیکی قوم کو تقسیم کرانے والے خود تقسیم ہو گئے اور سرائیکی وسیب کو ایک دوسرے سے لڑانے کے خواب دیکھنے والی قوتیں ن لیگ کے اندر سے خود ٹوٹ پھوٹ شکار ہے ، ن لیگ کے حکمرانوں کو سرائیکی قوم سے دشمنی کی سزا مل رہی ہے لیکن اب بھی اُسے ہوش نہیں آیا ، سرائیکی قوم دو صدیوں کے استحصال اور ظلم کا حساب طلب کرتی ہے، اب ہمیں اسی طرح کے لولی پاپ کی ضرورت نہیں ۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ
*۔۔۔گلگت بلتستان کی طرز پر ملتان اوربہاولپور کے الگ الگ انتظامی یونٹ کا منصوبہ ملتان اوربہاولپور کے درمیان مستقل تفریق پیدا کرنے کی سازش ہے،
*۔۔۔گلگت بلتستان کی طرز پر انتظامی یونٹ نہیں بلکہ اُسی طرح مکمل صوبہ بنایا جائے جس طرح دوسرے صوبے ہیں ،ڈویژن کی شکل میں انتظامی یونٹ پہلے سے موجود ہیں
*۔۔۔ملتان اور بہاولپور کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر پر ایڈیشنل سیکرٹری بھیجنے کا مقصد پنجاب کے غلبہ کو برقرار رکھنا ہے ، ،
*۔۔۔پورے سرائیکی وسیب میں 10نئے اضلاع اور تین نئے ڈویژن بنانے کی ضرورت ہے یہ ضرورت انتظامی یونٹ کے ساتھ نتھی کیوں کی جا رہی ہے، نئے ڈویژن اور اضلاع مجوزہ صوبہ سرائیکستان کی ضرورت کے تحت بنائے جائیں نہ کہ استعماری حربے استعمال کرتے ہوئے اوکاڑہ ، ساہیوال ، چنیوٹ وغیرہ مجوزہ سرائیکی صوبہ سے چھیننے کیلئے ہوں ۔ ہم یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ مجوزہ انتظامی یونٹوں کا جہاں ایک مقصد سرائیکی قوم کے درمیان تفریق پیدا کرنا اور سرائیکی وسیب کو تقسیم کر کے کُردوں کی طرح ان کو مارنا ہے تو وہاں ان انتظامی یونٹوں کا مقصد یہ بھی ہے کہ سرائیکی وسیب کو صوبے کے مکمل فوائد مثلاً1۔سینٹ سے محروم کیا جائے۔ 2۔ الگ ہائیکورٹ سے محروم کیا جائے۔ 3۔ سپریم کورٹ کے بنچ سے محروم کیا جائے۔ 4۔ سی ایس ایس کے کوٹہ سے محروم کیا جائے۔ 5۔ سرائیکستان پبلک سروس کمیشن سے محروم کیا جائے۔ 6۔ ریونیو بورڈ سے محروم رکھ کر سرائیکی وسیب کی زمینوں کی بندر بانٹ جاری رکھی جا سکے ۔ 7۔ این ایف سی ایوارڈ سے محروم رکھا جا سکے ۔ 8۔ وفاقی ملازمتوں کے حصے سے محروم رکھا جا سکے ۔ 9۔ پاک فوج میں وسیب کی رجمنٹ کے امکان سے محروم رکھا جا سکے ۔ 10۔ سول سیکرٹریٹ کی سہولت اور ان کے عہدوں سے محروم رکھا جا سکے ۔ 11۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں سے محروم رکھا جا سکے ۔ 12۔ سرائیکی وسیب کو ٹیکس فری انڈسٹریل زون سے محروم رکھا جا سکے ۔ 13۔ سرائیکی کو شناخت اور اس کے اختیا رسے محروم رکھا جا سکے ۔ 14۔ سرائیکی وسیب کے لوگوں کو فارن سروسز 15۔ سرائیکی وسیب کے نوجوانوں کو میڈیکل انٹری ٹیسٹ سے محروم رکھا جا سکے ۔
لیکن سرائیکی وسیب کے لوگ واضح کرتے ہیں کہ اپنی شناخت اور مکمل حدود کے مطابق صوبہ سرائیکستان کے مطالبہ سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور واضح کرتے ہیں کہ ڈی آئی خان ، ٹانک ، جھنگ ، میانوالی اور بھکر کے بغیر صوبہ قبول نہیں کرینگے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وسیب کے لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کی بجائے فوری طوری پر سرائیکی صوبے کا قیام عمل میں لایا جائے۔

This Post Has Been Viewed 7 Times