جرمن ریلوے کا جدید نظام اور ہم
مقصود انجم کمبوہ
جرمن موٹر انڈسٹری کا شمار دنیا میں تجارتی مقصد کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیاں یعنی ٹرک ، بسیں اور ان کا متعلقہ ساز و سامان مثلاً ٹریلر ، گا ڑیوں کی باڈی اور پرزہ جات وغیرہ بنانے والی بڑی صنعتوں میں ہوتا ہے جرمنی میں ا س صنعت سے تقریباً 2.5ملین افراد کا روزانہ کا وابستہ ہے جرمنی میں ہر گیارھواں کارکن کمرشل گاڑیاں بنانے والے کسی نہ کسی ادارے سے وابسطہ ہے 1992میں موٹر گاڑیاں بنانے والی مختلف فیکٹریوں میں مجموعی طور پر تقریباً 3,30,000ٹرک ، بسیں ، ٹرالر ، ٹرک اور دوسری چھوٹی سامان برادر گاڑیاں تیار کی گئیں جرمن میں تیار ہونے والی تجارتی گاڑیوں میں سے تقریباً نصف گاڑیاں بر آمد کی جاتی ہیں 1992میں تقریباً 1,67,000گاڑیاں بیرون ممالک برآمد کی گئیں گذشتہ چند برسوں میں مندی کے عالمی رجحان کے باعث گاڑیوں کی براآمد متاثر ہوئی ہے سب سے زیادہ اثر مغربی یورپی ممالک کو برآمد کی جانے والی گاڑیوں پر پڑا ہے کیونکہ برآمد کی جانے والی گاڑیوں میں سے تقریباً 90فیصد گاڑیاں مغربی و یورپی ملکوں کو بھیجی جاتی ہیں 15ٹن یا اس سے زائد وزن اُٹھانے والے ٹرکوں کی صنعت میں جرمن اداروں کو واضح برتری حاصل ہے مثلاً 1991میں دنیا میں اس کیٹیگری کے جتنے بھاری ٹرک تیار کئے گئے ان میں 30فیصد جرمن موٹر کمپنیوں کے تیار کردہ تھے جبکہ 6ٹن اور اس سے زائد وز ن اُٹھانے والے ٹرکوں میں جرمنی کا حصہ 26فیصد ہے اسی طرح 8ٹن سے زائد کی بسوں کے معاملے میں بھی دنیا بھر میں جرمنی کی پوزیشن مستحکم ہے 1992ء میں جرمنی میں مجموعی طور پر 3,37,000کمرشل گاڑیوں اور 2,23,000ٹریلروں کی رجسٹریشن کرائی گئی 1990ء کے مقابلے میں یہ تعدا د دو تہائی سے زیادہ ہے اس نئے ریکارڈ کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جرمن اتحاد کے بعد ملک میں کمرشل گاڑیوں کی خریداری میں یکدم بہت اضافہ ہوا اور اسی طرح جرمنی کمرشل گاڑیوں کی بڑی منڈی بن گیا اس رجحان سے غیر ملکی موٹر کمپنیوں کو بھی فائدہ پہنچا ہے کیونکہ 1991میں تمام یورپی ملکوں میں فروخت ہونے والی کمرشل گاڑیوں میں تقریباً 20فیصد جرمنی میں خریدی گئیں اس وقت ما ل و اسباب کی حمل و نقل میں ٹرکوں کا حصہ سب سے زیادہ ہے کیونکہ 60فیصد مال و اسباب ٹرکوں کے ذریعے لایا اور لے جایا جاتا ہے جبکہ ریلوے کا حصہ 24فیصد اور آبی گذرگاہوں پر چلنے والی ٹرانسپورٹ 15فیصد سامان لاتی اور لے جاتی ہیں اسی طرح 45فیصد مسافر بسوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں کمرشل گاڑیوں نے اس سے پہلے ذرائع مواصلات میں کبھی اتنا اہم کردار نہیں کیا اقتصادی خوشحالی اور لوگوں کی آمدنی میں اضافے کے ساتھ ساتھ کمرشل گاڑیوں کا کردار بڑھاتا جارہا ہے ایک سر سری جائزے کے مطابق گذشتہ 30برسوں میں ٹرکوں کے ذریعے سامان کی نقل وحمل تقریباً دو گنی ہوگئی ہے جبکہ ریل گاڑی کے ذریعے ٹرانسپورٹیشن کی سطح تقریباً جوں کی توں ہے لیکن تمام تر مخالفتوں کے باوجود سڑکوں پر ٹریفک میں 270فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے خاص بات یہ ہے کہ ٹرانسپورٹ پالیسی سازوں نے روڈ ٹرانسپورٹ کے متعلق قواعد و ضوابط اور ٹیکسوں کے معاملے میں کبھی ہمدردانہ روئیہ اختیار نہیں کیا جرمنی میں سڑکوں کے لئے روڈ ٹیکس کی شرح بھی یورپی ملکوں کی اوسط سے زائد ہے روڈ ٹرانسپورٹ کے سلسلے میں یہ پہلو قابل ذکر ہے کہ مختصر فاصلوں کے لئے ٹرکوں کے ذریعے سامان کی نقل و حمل کا تناسب 30فیصد ہے اور یہ امر واقع ہے کہ اس شعبے میں ریلوے ، ٹرکوں کا کبھی مقابلہ نہیں کر سکتی ٹرانسپورٹ کے شعبے کی ترقی بڑھتی ہوئی خوشحالی کی عکاس ہے عام صارفین کی مانگ اور تجارت و صنعتوں کی ضروریات میں اضافے کے ساتھ ساتھ روڈ ٹرانسپورٹ میں بھی اضافہ ہورہا ہے ٹرکوں اور بسوں نے ریلوے کے مقابلے میں موجودہ پوزیشن ریلوے کے ساتھ کسی طویل اور سخت مسابقت کے بعد حاصل نہیں کی ہے کیونکہ ٹرک اور بسیں ریلوے کے بہت بعد اس میدان میں آئے ہیں او رانہوں نے کام کا آغاز ان شعبوں میں کیا تھا جن کے ریلوے کا ذریعہ قطعاً نا ساز گار تھا ترقی یافتہ صنعتی معاشروں میں حمل و نقل کے نظام کو موثر اور منظم انداز میں چلانے کے لئے ٹرانسپورٹ کے مختلف ذریعوں کے درمیان ہم آہنگی اور ربط و ضبط پیدا کیا جاتا ہے اس مقصد کے پیش نظر جرمنی میں بھی ریل اور روڈ ٹرانسپورٹ کے درمیان قریبی تعاون کا نظام قائم ہے جسے ٹریفک کا “کثیر ا لجہتی “نظام کہا جاتا ہے اس نظام کے تحت بعض مقامات پر ٹرک مال و اسباب کسی مختوص ریلو ے اسٹیشن تک پہنچاتے ہیں جہاں وہ سامان ریل کے ذریعے اصل منزل تک پہنچایا جاتا ہے اس طریقہ کار کی وجہ سے طویل فاصلوں کے راستوں پر ٹرکو ں کی بھیڑ بھاڑ کم ہوجاتی ہے لیکن ٹرکوں کی مدد کے بغیر ریلوے روڈ ٹرانسپورٹ کی تقریباً ایک ہزار کمپنیوں سے معاہدے لے کر رکھے ہیں جن کے 5000ٹرک سامان کی نقل و حمل مین ریلوے کی مدد کرتے ہیں جرمن ریلوے اپنا تقریباً 6فیصد مال ٹرکوں کے ذریعے ایک سے دوسری جگہ بھجواتی ہے ماحول کا تحفظ اور توانائی اور دیگر قیمتی قدرتی وسائل کو محفوظ رکھنا موجودہ دور کا ایک اہم ترین سماجی اور سیاسی مسئلہ ہے بیشتر کمرشل گاڑیوں میں ڈیزل انجن نصب ہیں جو با کفائت ہونے کے علاوہ ماحول کو بھی نسبتاً کم آلودہ کرتے ہیں ۔ بڑے دُکھ سے یہ لکھنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں محکمہ ریلوے چند برسوں سے ڈگمگا رہا ہے خسارے کی دلدل میں دھنسنا اس کی قسمت میں لکھ دیا گیا ہے سیاسی مداخلت سے ریلوے کا ہر شعبہ کرپشن مافیا کی زد میں ہے ٹکٹیں اس قدر مہنگی ہوتی جارہی ہیں کہ غریب آدمی کا سفر کرنا مشکل بنتا جارہا ہے اس لئے لوگ بسوں اور ویگنوں کو سفر کے لئے ترجیح دینے لگے ہیں چند گاڑیاں چلتی ہیں وہ بھی سسک کر آتی جاتی ہیں ایک دو گھنٹے لیٹ ہونا معمول کی بات ہے جبکہ ریلوے وزیر اپنے قائد کی وکالت میں اپنی توانائیاں خرچ کرکے ٹھنڈی سانسیں بھرتے ہیں 1966کی دہائی میں ریلوے پرافٹ میں جارہا تھا 17کروڑ روپے سالانہ ریلوے ہیڈ کوارٹر کے اکاؤنٹ میں جمع ہوا کرتے تھے اس بڑے ادارے کو کچھ بڑے افسروں ، مزدور یونین کے لیڈروں اور کچھ سیاسی مچھندروں نے ریلوے کو زمین بوس کردیا ہے ریلوے کے وزیر بڑے دھڑے سے یہ بیان بازی کرتے ہیں کہ ریلوے مسائل و مشکلات کی دلدل سے نکل چکا ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل اُلٹ ہے کسی غیر جانبدار ایڈیٹروں سے اس محکمہ کے انجیئنرنگ اور اکاؤنٹس کے شعبہ جات کا آڈٹ کروایا جائے تو کرپشن کے چشمے پھوٹیں گے افسوس کہ ہم جرمن اور جاپان کی تاریخ سے سبق حاصل نہیں کر پائے دو ایٹم بموں کی ماری اس قوم نے وہ ترقی کی ہے جس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی ۔

This Post Has Been Viewed 8 Times