اقبال مبارک سے مکالمہ
مسیح اللہ جامپوری
نام طعام اور مقام بلا شبہ شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں ، آپ کا نام اچھا ہے یعنی مبارک ہے اس سے بڑھ کر کیا نوید ہو گی کہ آپ مبارک بھی ہیں اور ساتھ ہی اقبال بھی ، لیکن یہاں معاملہ کچھ مختلف لگتا ہے ، جب دیکھو آپ خیالات میں غلطاں نظر آتے ہو غالباً یہی وجہ ہے کہ آپ کے جسم اور دماغ کا رشتہ زخمی ہو چکا ہے۔ جب ایسی صورتحال ہو تو روح اور دماغ باہم رابطے میں مشکلات کا شکار رہتے ہیں ، میں یہ کہہ رہا تھا کہ مبارک نے گھٹنوں پر دھرے سر کو اٹھایا اور پوچھا آپ کب آئے ہیں ، میں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا تو وہ خود بولا آپ کیا کہہ رہے تھے ، میں نے کہا دماغ کے اندر ایک خلیہ ہوتا ہے دماغ خیالات کی آلودگی کو اس خلیے کے سپرد کر دیتا ہے تاکہ وہ خلیہ آلودگی کو خود ہی ضائع کر دے ، جب یہ خلیہ دماغی آلودگی اور خیالات کو ضائع اور تلف کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو انسان ژاژخا بن جاتا ہے ، میں نے اسے سمجھانے کے انداز میں کہا عزیزم جسم اور دماغ کا تعلق خون کی ان برقی لہروں کے ذریعے ہوتا ہے جو خورد بین سے بھی محو ہوتی ہیں ، دماغ کائناتوں کے اسرار و رموز کے خزانے سمیٹے ہوتا ہے یہ دماغ ہی ہے جو جسم کے ہر عضو اور رگ و پے سے رابطے میں رہتا ہے ، کہیں بھی کسی وجہ سے یہ رابطہ منقطع ہوتا ہے تو دماغ کے وہ خلیے جو پورے جسم کو آسودہ کرنے کے ذمہ دار ہیں بے چینی محسوس کرتے ہیں اور بے چینی کے بارے میں اپنی تنبیہ متعلقہ خلیہ تک پہنچاتے ہیں ، دماغ اپنے تئیں کوشش کرتا ہے اس کا رابطہ پورے جسم سے درست رہے ، اگر دماغ اس رابطے کو درست کرنے میں ناکام رہتا ہے تو مدد کے لئے دماغ کے دوسرے خلیوں کو آگاہ کرتا ہے ، وہ خلیے پھر ضرورت سے زیادہ بیدار ہو جاتے ہیں ، جسم کی چھوٹی موٹی خرابی عموماً دماغ اپنے خود کار نظام کے ذریعے درست کرتا رہتا ہے ، جب بات اس کے بس کی نہیں رہتی تو وہ پورے خلیات تک پیغام رسانی کرتا ہے جس کے نتیجے میں دماغ کے وہ سیل خبر دار ہو جاتے ہیں ، سمجھ دار لوگ اس صورت میں ایسے بھی کرتے رہتے ہیں کہ اگر انہیں جسم میں کسی مقام پر انہیں خرابی کا احساس متعلقہ خلیے دلاتے ہیں تو وہ حالتِ مراقبہ میں درستگی کیلئے دماغ کے جزو اعظم سے استدعا کرتا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کو خود سنبھالے اور ٹھیک کر دے ، اس اپیل پر دماغ اپنے تمام کارندوں (خلیے) کو احکامات جاری کر دیتا ہے جو اپنے اپنے کام پر لگ جاتے ہیں اس طرح استدعا کرنے والا انسان قدرے سکھ محسوس کرتا ہے ، سکھ ملنے کا احساس دماغ کی برقی لہروں کے ذریعے دماغ کے اس حصے کو پہنچا دیا جاتا ہے جو انسان کو احساس دلانے کیلئے متحرک رہتا ہے، دماغ اپنے تئیں خود کار نظام کا مالک ہے ، دماغ کے خراب ہونے والے خلیوں سے انسان غیر ضروری کیفیات دماغ کے کچرا دان کے سپرد کر دیتا ہے جو اسے ناکارہ بنانے میں جُت جاتے ہیں ، دماغ ، انسانی غذایعنی طعام اور حواس خمسہ کی غذا سے تربیت پاتا رہتا ہے اور اس طرح اپنی راہیں خود متعین کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے ، نئی نئی کائناتوں کے در وا بھی کرتا رہتا ہے ، جس طرح آنکھیں دیکھتی ہیں ، جسم محسوس کرتا ہے اسی طرح خود دماغ دیکھتا بھی ہے اور محسوس بھی کرتا ہے ، پھر جمع تفریق کر کے آنے والے وقتوں کی پیشین گوئی کرنے کی بھی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے جہاں تک غذا کا تعلق ہے وہ بندے کی غذا ہو جو معدے تک پہنچتی ہے یا سننے کی صلاحیت ہو یا دماغ جسم کو زندہ رکھنے کیلئے دوسروں سے برتاؤ کرنے کے طریقے اپنے زیر استعمال لانے والی غذا سے بناتا ہے ، دوسروں کے ساتھ رویوں کے اختیار کرنے کا دار و مدار بھی اسے ورثے میں ملتا ہے ۔ اگر وراثت میں دھوکہ بازی ، مکر وفریب ، جائز و ناجائز اور غیر مروجہ طریقوں سے دولت بنانے کی لَت ہو تو دماغ کو کافی مسالا مل جاتا ہے ، مادہ تولید مکمل زندگی اور اس سے جڑی روایات زندگی گزارنے کے رنگ ڈھنگ لئے ہوتا ہے، جب انسان پیدا ہوتا ہے وہ مادہ تولید ہی کے مرہون منت ہوتے ہیں یہ ایسے ہی ہے آم کی گٹھلی سے آم ہی پیدا ہوگا لیموں نہیں لگے گا، گندم کا دانہ گندم لائے گا خربوزہ نہیں ، یہی اچھائی برائی کا اصول انسان پر بھی لاگو ہوتا ہے اور انسانی پیدائش پر صادق آتا ہے اور دماغ اُسی سانچے میں پرورش کرتا ہے ، ورثے میں ملنے والی روایات ، عادات میں مزید پختگی ہوتی چلی جاتی ہے اس لئے کاشتکار زیادہ دانہ لانے والے ترقی دادا بیج استعمال کرتے ہیں ، سائنس نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ انسانوں اورجانوروں کی عادات اُسے ورثے میں ملتی ہے ، اس لئے نسل کو دیکھ کر اس کا پس منظر کا پتہ چلا کر کتے ، گھوڑے پالے جاتے ہیں، اور دودھ دینے والے جانوروں کے خاندان کا پتہ چلایا جاتا ہے تاکہ زیادہ دودھ حاصل ہو، اگر کوئی شخص بلا وجہ آپ پر دھاوا بول دے تو اس پر خفا ہونے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے بلکہ کھوج لگا لینا چاہئے اس کے اجداد کیا کرتے تھے ، اجداد کی عادات دماغ میں ذخیرہ ہوتی ہیں انسان بلا مقصد کسی پر حملہ آور نہیں ہوتا ، اس کا ماضی اس پر اُسے اکساتا ہے ایسے شخص کو عزت ہی راس نہیں آتی ،یہ لوگ ہمدردی اور رحم کے مستحق ہوتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ اچھی عادات اور خصلتیں لیکر پیدا نہیں ہوتے ، یہی وجہ ہے ایسے افراد محفلوں سے اٹھا دئیے جاتے ہیں ، یہ لوگ کسی محفل کے نہیں رہتے ، اس قبیل کے لوگ صاحب الرائے اور صائب کبھی نہیں ہوتے ، اپنی کم مائیگی کا احساس ہونے پر یہ اپنے اور قابو بھی نہیں پا سکتے۔ پھر حملہ آور ہو جاتے ہیں اور اس طرح لوگوں سے کٹ جاتے ہیں اور گھر میں مقید ہو جاتے ہیں ، ایسے شخص سے ہر دوسرے کی غیبت اور برائی سننے کو ملتی ہے ، لیکن درست ہے کہ ذہنی خارش کے شکار ایسے افراد بنیادی طور پر معصوم ہوتے ہیں ان کا کوئی قصور نہیں ہوتا کیونکہ یہ سب کچھ انہیں ورثے میں ملتا ہے ، ان کی ایسی اصلاح کی جا سکتی ہے جیسے انگریز پالتو جانوروں کی کرتے ہیں ، سوویت یونین میں ایسے افراد کی اصلاح کیلئے سائبریا میں کیمپ قائم کئے گئے تھے ، ایسے معصوم لوگوں کی اصلاح کا زیادہ فرض ان لوگوں کا ہے جو ان کے قریب رہتے ہیں ، وہ ایسے افعال بروئے کار لائیں، ایسی گفتگو کریں ، ایسی اشیاء کھائیں پئیں ، ایسے کاروبار اور ذرائع آمدن کا بطور خاص ذکر کریں جس سے انسانوں کو فائدہ پہنچے ، اس طرح دماغ کام کرے گا اور ایسے لوگوں کی ذہنی بیماری میں افاقہ ہوگا، یہ ایک دو دن کا کورس نہیں ہوتا اس کیلئے وقت لگتا ہے پھر کہیں جا کر ایسے لوگوں کی نسل میں بہتری آتی ہے اور ان کے دماغ کائناتوں کے رازوں سے ہم کنار ہو سکتے ہیں ، اگر ایسے لوگ لکھنے پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو تخلیقی کام کرنے کے اہل بھی ہو سکتے ہیں اور ان کے دماغ پر نئے نئے خیالات ایسی صورت یلغار کریں گے جیسے بجلی گرتی ہے ، یہ ایسے نیک نیت لوگوں کا فرض ہے وہ ایسے افراد کو معاشرے میں زندہ رہنے کے قابل بنائیںیہی حاصل گفتگو ہے اس صورت میں دماغ کے تمام خلیے بروئے کار آئیں گے اور باہم رابطے میں رہیں گے ، اچھی گفتگو کو جلا ملے گی اور معاشرے کیلئے کار آمد ثابت ہو سکیں گے جو انسانی زندگی کیلئے فلاح کا پیغام ہوگا۔
اقبال مبارک یہ کہتے ہوئے اٹھا اور چل دیا کہ اب میں سمجھا بیگن کے پودے پر انگور نہیں پیدا ہو سکتے ،

This Post Has Been Viewed 31 Times