پیشہ وارانہ تعلیمی نظام جدت کا متقاضی ہے
مقصود انجم کمبوہ
وفاقی جمہوریہ جرمنی نے پیشہ وارانہ نظام تعلیم کو مربوط اور با مقصد بنانے کے لئے کئی ایک جامعہ اور ہمہ گیر اقدامات اُٹھائے ہیں عرصہ دراز تک “جرمن “تربیتی اسکول کا طریقہ کار یہ تھا کہ تھیوری اور پریکٹیکل یعنی نظری اور عملی پیشہ وارانہ تربیت ایک ہی ادارے میں مہیا کی جاتی تھی مگر بعد ازاں دوہرا نظام اختیار کیا گیا جس کے تحت عملی تربیت کی ذمہ داری فرموں کے سپرد کر دی گئی اس طریقہ کا ر کو اصطاحاً ،”ساختہ جرمنی”کہا جاتا ہے 1976سے دوہرے نظام کے جرمن طریقہ کار پر عمل کیا جارہا ہے یہ نظام جزوی طور پر ترقی پذیر ممالک کو قابلِ منتقلی ہے نیا تصور ایک ترمیم شدہ بنیادی نظریے پر مبنی ہے جدید صنعتی شعبے کو وسعت دینے کے متعلق مغربی ممالک کا روائیتی نظریہ بہت سے ترقی پذیر ملکوں میں ترقی کے مطابق مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے بیشتر ترقی پذیر ملکوں میں لوگوں کی اکثریت کو اپنے معاشرے کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں حقیقی شمولیت اور شراکت کے مواقع نہیں ملتے ہیں اس لئے نئے تصور میں اصل اہمیت “غیر رسمی “شعبے کو دی گئی ہے یعنی وہ شعبے جن کا لوگوں کی زندگی اور بقا سے فوری اور براہِ راست تعلق ہے بہت سے ترقیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے بلکہ انتہائی چھوٹے کاروباری ادارے اور تاجر غیر رسمی شعبے کو فعال بنانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں ان کا مقصد یہ ہے کہ ان چھوٹے چھوٹے کا روباری اداروں کو جدید اقتصادی شعبے میں شامل کیا جائے اور غیر مراعات یافتہ لوگوں کو ایسے ہنر اور صنعتی امور کی تربیت دی جائے جن سے انکی آمدنی میں اضافہ ہو جرمن میں پیشہ وارانہ تربیتی نظام کو ایسے لوگ چلاتے ہیں جن کا تعلق اور تجربہ صنعتی تخلیق و تحقیق سے ہوتا ہے سائنس اور ٹیکنالوجی امو ر میں دلچسپی رکھتے ہیں اعلیٰ تعلیمی حیثیت اور تجربے کے حامل لوگ ہیں پیشہ وارانہ اداروں کو جدید آلات و انسٹر یو منٹس سے مزین کیا جاتا ہے جرمن میں پیشہ وارانہ اداروں کا الحاق صنعتی اداروں سے کیا جاتا ہے تربیت کے دوران طلباء کو ہنر کاری کے ساتھ ساتھ مینجمنٹ کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ جلد از جلد صنعتی شعبہ جات کے نظام کو صحیح انداز میں چلا سکیں اس کے بر عکس ہمارے ہاں ہوتا تو بہت کچھ ہے مگر پیشہ وارانہ تربیتی نظام کو ایسے لوگوں کے سپرد کیا گیا ہے جو ہنر کاری میں کوئی خاص تجربہ رکھتے ہیں اور نہ ہی مینجمنٹ کا ادراک رکھتے ہیں میں نے ان اداروں کا طائر انہ مطالعہ کیا ہے اداروں کے بیشتر سربراہ دو سالہ سرٹیفیکیٹ ہولڈرز ہوتے ہیں جن کو نہ صرف صنعتی ہنر کاری کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی مینجمنٹ کا انگلش زبان سے عاری یہ پرنسپل اور مینجرز اپنے ادارے کی خط و کتابت نہیں کر پاتے اور نہ ہی حکام بالا کو کچھ بتاتے ہیں کہ انکے ادارے کو کن عوامل کی ضرورت ہے ادارہ کے سربراہ کلرک بابوؤں کے مرہونِ منت ہوتے ہیں ایسے لوگ پیشہ وارانہ نظام تعلیم میں کیا بہتری کیلئے تجاویز دے سکتے ہیں میں ایسے لوگوں سے واقف ہوں جو کسی اعلیٰ اجلاس میں کھڑے ہو کر اپنا مدعا بیان کرنے سے قطعی قاصر ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارا پیشہ وارانہ تربیتی نظام ادھورا اور لاغر ہے ان لوگوں کو جتنا مرضی مینجمنٹ کے کورسز میں تربیت دلوا دیں بے کار ہے دوران تربیت ان سے کوئی سوال پوچھ لیں یہ گونگے اور بہرے بن جائیں گے پیشہ وارانہ نظام تعلیم کو صحیح انداز میں چلانے کے لئے “لیڈر شپ “کی ضرورت ہے ایسے لیڈر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور صنعتی امور کا تجربہ اور تعلیم و تربیت رکھتے ہوں مگر افسوس کہ ہمارے ہاں ایسے سربراہ منتخب کرتے وقت صرف اور صرف ذاتی مقاصد سامنے رکھے جاتے ہیں ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں بطور پراجیکٹ انچارج ایک ادارے کے لئے پراجیکٹ مینجر کی تقرری کے لئے قائم کی گئی ریکرو ٹنگ کمیٹی کا ممبر بنا تو یقین جانئیے ایک ایسے امیدوار کو باوجود کمیٹی ممبران کی مخالفت کے جس کی حیثیت قطعی ثانوی تھی منتخب کرلیا گیا وہ گیارہ گریڈ میں ایک سروس سینٹر میں کام کررہا تھا 18گریڈ میں اسکی تعیناتی نے میرا سر چکرا کے رکھ دیا مگر میں بھی بے بس تھا اور دیگر ممبران بھی کیونکہ “جنرل مینجر “کی خواہش کی تکمیل ہمارے لئے لازم ٹھہری جبکہ مارکیٹ میں بی ایس سی ، ایم ایس سی انجینئر زاور ایم فل کوالیفائیڈ سینکڑوں تربیت یافتہ نوجوان کلرک کی تقرری کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے پھرتے ہیں جہاں ایسی صورتحال ہو وہاں پیشہ وارانہ تربیت کا کیا حال ہوگا علاوہ ازیں آج کل ٹیوٹا چئیرمین کے دماغ پر ایک ہی بھوت سوار ہے کہ مختصر مدت کے کورسز کا زیادہ سے زیادہ اجراء ممکن بنایا جائے جو میری نظر میں ٹھیک نہیں ہے ان لوگوں کو کون جاب دے گا جبکہ ڈپلومہ ہولڈر ز نوکری کے حصول کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہوں افسوس کہ ہمارے ہاں مینجمنٹ کا فقدان ہے دوسرا یہ کہ زیادہ سے زیادہ بے کار بے فائدہ ہنر کا ر پیدا کئے جائیں اور پھر انہیں وظائف دے کر انکی غیرت سلب کر لی جائے مشاہدے میں آیا ہے کہ بیشتر طلباء صرف وظیفے کے حصول کے لئے داخلہ لیتے ہیں جبکہ انکی منشا ہنر کاری اور ہنر مندی کا حصول قطعاً نہیں ہوتا۔ ویسے بھی 3ماہ کی مدت میں وہ کیا حاصل کر پائیں گے ایسے کورسز صرف انٹرو ڈکشن کی حیثیت رکھتے ہیں جاب کے لئے سود مند نہیں ہو سکتے خدارا غور کیجئے اور اپنی ترجیحات کو نہیں اداروں کی ترجیحات کا تعین کیجئے اور ایسے ہنر مند پیدا کرنے کا اہتمام کریں جو کہ ہماری معشیت کے لئے سود مند ہو پائیں ناقص انتظامی منصوبہ بندی کی وجہ سے “ٹیوٹا”ناکامی کا شکار ہوتا جارہا ہے اس بار ٹیوٹا کے پیشہ وارانہ تعلیمی اداروں میں داخلے کا مسئلہ بن چکا ہے گذشتہ ماہ میں نے چند ایک سرکاری ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوشنز کا دورہ کیا ہے معلوم ہوا کہ الیکٹریشن میں 13، ائر کنڈیشن میں 14باقی 6شعبوں میں ایک بھی لڑکا داخل نہیں ہوا جبکہ 2سے 5برس پیشتر داخلوں کی صورتحال مثالی ہوا کرتی تھی جنرل فٹر میں 300درخواستیں مو صول ہوئیں ضرورت کے مطابق داخلہ کر کے باقی طلباء کو دیگر شعبوں میں داخلے کی ترغیب دی گئی اس طرح معاملہ چلتا رہا جبکہ اب سٹاف میں بھی وہ پھرتیاں اور دلچسپیا ں نہیں ہیں جو کبھی ہوا کرتی تھیں میرا خیال ہے وہ لوگ جو کام کر نے کا ہنر اچھی طرح جانتے تھے وہ ریٹائر ہو چکے ہیں اور اب پھوک رہ گیا ہے جن کو صرف تنخواہوں سے غرض ہے اپنے کام سے دلچسپی نہیں میری ناقص سی رائے ہے کہ ایسے لوگوں کوجنکی سروس 15برس ہوچکی ہے جبری ریٹائرکردیا جائے باقی کو کارکردگی کی بنا ء پر ہوم اسٹیشن دیا جائے ڈسٹرکٹ مینجر ، اظہر یوسف ، رانا محمد سلیم، ارشد چوہدری اور طارق وسیم کے دور میں سب اداروں کی کارکردگی تسلی بخش ہی نہیں آج کی نسبت کہیں بہتر رہی ہے لگتا ہے کہ موجودہ ڈسٹرکٹ مینجر کی لیڈر شپ کمزور نظر آتی ہے حالانکہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے ٹیوٹا چئیرمین میری رائے مانیں گے تو نہیں مگر دے دیتا ہوں ریٹائر ڈ چیف انسٹر کٹروں ، پرنسپلوں اور انسٹرکٹروں میں سے بورڈ آف مینجمنٹ بنائیں انشا ء اللہ نتائج مثبت نکلیں گے دوسرا کوکنگ ٹریڈ جیسے ٹریڈز کا اجراء بھی بے وقوفی اور ناقص ذہنی اپروچ ہے ہمارے ہاں دیہاتی لڑکے ایسی ٹریڈمیں داخلہ نہیں لیں گے یہ بات نوٹ کر لیں دعویٰ تو نہیں مشاہدہ ضرور ہے جدید ٹریڈز پر غور کریں جہاں غیر تربیت یافتہ او ر نا تجربہ کار ہوں گے وہاں ان کی نظر شاہین پر نہیں مرغی پر جائے گی یہ دور جدید ہے کوکنگ ٹریڈ پر لاکھوں خرچ ہونگے مگر نتائج لاغر ہونگے ہمارے ہاں نوجوان نسل کا مزاج بڑ ااونچا ہے جو لوگ آٹو ، ویلڈنگ ، الیکٹریشن ، ڈرافٹسمین جیسی ٹریڈز میں داخلہ کا مزاج نہیں رکھتے وہ کوکنگ کو عورتوں سے تشبیح دیں گے خداراہ قومی خزانے کو بچائیں کسی اچھے کام پر خرچ کریں آخری تجویز یہ ہے کہ ایسے سٹاف کو ٹرانسفر کریں جو عرصہ دراز سے ایک ہی جگہ پر براجمان ہیں اور ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اُٹھ رہا ہے امید رکھتا ہوں کہ پیشہ وارانہ تعلیمی نظام میں جدت پیدا کرنے کے لئے مارکیٹ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور صنعتی شعبوں میں تجربہ و تربیت رکھنے والے لوگوں کو مینجمنٹ اور ٹیچنگ اسٹاف میں بھرتی کریں گے اور پھر نتائج ٰ دیکھیئے کس قدر اعلیٰ و ارفعٰ ہونگے اللہ سے دعا ہے کہ ٹیوٹاکو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے آمین ، ثمہٰ آمین ۔ ٹیوٹا میں سینکڑوں خالی آسامیاں پڑی ہیں جنہیں جان بوجھ کر پُر نہیں کیا جارہا ان حالات میں اداروں کی کارکردگی اعلیٰ کیسے ہو سکتی ہے اور پیشہ وارانہ تعلیم و تربیت کا معیار کیسے بہتری لا سکتا ہے کچھ ایسے شعبے بھی مشاہدے میں آئے ہیں جہاں غیر شعبہ کے اسٹاف کو تعینات کیا گیا ہے یعنی لیدر ٹریڈ کے بندے ویلڈنگ ، الیکٹریشن اور دیگر شعبوں میں کام کر رہے ہیں “واہ رے واہ ٹیوٹا تیری کونسی کل سیدھی “

This Post Has Been Viewed 6 Times