اسلام آباد(بی بی سی)قومی احتساب بیورو نیب کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کی انسداد بدعنوانی کی موثر حکمت عملی کامیاب رہی ہے ، انہوں نے چیئرمین نیب کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بدعنوانی کے خاتمے کیلئے جو حکمت عملی واضع کی چھ ماہ کے دوران اس کے مثبت نتائج آئے ہیں اور یہ قوم کی آواز بن چکی ہے ۔اپنے  ایک بیان میں  انہوں نے کہاکہ نیب کسی دباؤ  اور فیورٹ ازم کے بغیر انسداد بدعنوانی کیلئے اقدامات کررہا ہے جس کی وجہ سے پوری قوم نیب کی کوششوں کی تعریف کررہی ہے، ہماری کارکردگی کے باعث نیب کی شان وشوکت بحال ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیب نے بدعنوانی کے الزامات پر سیاست دانوں ، بیورکریٹ اور سابق فوجی افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی ہے ،ان بالاامتیاز کارروائیوں کے باعث نیب شان وشوکت میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ بدعنوان عناصر کو گرفتارکرکے ان سے لوٹی گئی رقم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرانا نیب کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نیب نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران متعلقہ احتساب عدالتوں میں ایک سوستانوے بدعنوانی کے ریفرنس دائر کیئے ہیں جو کہ میگامقدمات کی تحقیقات میں نمایاں کارکردگی ہے کیونکہ وائٹ کالر کرائم کے خلاف کارروائی کرنا بہت مشکل ہے اوراس کیلئے کئی سال کا عرصہ درکار ہے تاہم جب آپ کا مقصد اورمشن واضح ہو تو پھر سب کچھ ممکن ہے ۔انہوں نے کہاکہ نیب نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران مختلف مقدمات میں دو سوچھبیس ملزموں کو گرفتارکیا ہے ، پچپن شکایات کی جانچ پڑتال ، انتالیس انکوائریاں اور تینتیس انوسٹی گیشن کی منظوری دی ہے جبکہ ستائیس ملزموں کو متعلقہ احتساب عدالتوں نے سزا دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ نیب نہ صرف تمام علاقائی بیورکی باقاعدہ کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے بلکہ ہرمہینے کی آخری جمعرات کو علاقائی بیوروز کے ڈائریکٹرزجنرل کی جانب سے بدعنوانی سے متعلق عوامی شکایات پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیتا ہے اس وجہ سے نیب کو موصول ہونے والی شکایات کو گزشتہ سال11اکتوبر2017سے 2015 اپریل 2018 کے اس عرصہ کے مقابلے میں دوگنا ہے ۔ ان اعدوشمار سے ظاہرہوتا ہے کہ نیب کے تمام افسران محنت اور شفافیت سے بدعنوانی کے خلاف جنگ کو اپنا قومی فرض سمجھ کر ادا کررہے ہیں

This Post Has Been Viewed 4 Times