شہدادکوٹ (بیرروچیف جھانگیر شیخ) شہدادکوٹ میں تین روز قبل زیبا خاتون پر شوہر اور دیور کی جانب سے مبینہ تشدد کا واقعہ جعلی ہے میری والدہ نے تشدد کا ڈرامہ کیا ہے میری والدہ کے سر کے بال میرے ماموں نے کاٹے۔ متاثرہ خاتون زیبا کی بیٹی ارم کھوکھر کی والد اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس۔ شہدادکوٹ میں تین روز قبل زیبا خاتون پر شوہر اور دیوروں کی جانب سے مبینہ تشدد کے واقعہ کے خلاف متاثرہ خاتون زیبا کی 14 سالہ بیٹی ارم کھوکھر، 7 سالہ بیٹے سلمان، 6 سالہ کرن، شوہر رضا محمد کھوکھر، دیور شیر محمد، پی ٹی آئی رہنما میڈم ناہید کھاوڑ اور دیگر نے مقامی رائس مل میں پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے مذکورہ واقعہ کو جعلی قرار دیتے ہوئے ڈی آئی جی لاڑکانہ سے شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ اس موقع پر متاثرہ خاتون کی بیٹی ارم نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ زیبا نے تشدد کا جھوٹا ڈرامہ بنایا ہے ان کی والدہ پر ان کے والد نے کوئی تشدد نہیں کیا اور نہ ہی سر کے بال کاٹے ہیں بلکہ ان کی والدہ پر ان کے ماموں ممتاز ودھو نے تشدد کیا اور ان کی آنکھوں کے سامنے سر کے بال کاٹ کر جھوٹا ڈرامہ بنایا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران زیبا خاتون کے شوہر رضا محمد کھوکھر نے کہا کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے جس پر بیوی نے ناراض ہو کر ان پر تشدد کا جھوٹا ڈرامہ رچا کر ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرایا ہے اور ان کے بھائی جو کہ اس وقت سرکاری ڈیوٹی پر تھے ان کا نام بھی ایف آئی آر میں درج کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بیوی خود اپنے والدین کے گھر گئی تھی اور جاتے ہوئے گھر میں رکھے ہوئے دو لاکھ روپے نقدی اور 5 تولے سونے کے طلائی زیورات بھی اپنے ساتھ لے گئی۔ انہوں نے ڈی آئی جی لاڑکانہ، ایس ایس پی قمبر شہدادکوٹ اور دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ واقعہ کی شفاف تحقیقات کرائی جائے اور ان کے خلاف درج جھوٹا مقدمہ خارج کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔ اس موقع پر سیاسی و سماجی رہنما حبدار میرجت، حیات تونیو، حاجی خان بھٹو، حاجی خان سومرو اور دیگر بھی موجود تھے۔

This Post Has Been Viewed 21 Times