بہاولپور ( بی بی سی ) صوبہ بحالی سے پہلے صوبہ جنوبی پنجاب کے لانے والوں کو عبرت کا نشان بنا دیں گے۔ 1970 ء میں متحدہ محاذ کی جدوجہد سے بحالی صوبہ کامیابی کی معراج تک پہنچ چکی تھی لیکن اقتدار کے پجاری سیاستدانوں نے معمولی مر اعات کی خاطر حکمران جماعت میں شامل ہوکر تحریک کو اندھیروں کی نذر کرتے ہوئے خود تاریخی غدار بن گئے۔ ان خیالات کا اظہار متحدہ تحریک بحالی صوبہ بہاول پور کے مرکزی صدر قاری مونس بلوچ اور دیگر عہدیداروں مخدوم مجتبیٰ بخاری، سید مظہر حسین بخاری ایڈووکیٹ، راؤ جاوید عثمانی، ملک رشید جوئیہ، ارشاد احمد شاد اور ظہیر احمد نے ماہ اپریل کے شہید ہیروز حافظ محمد شفیق اور عظیم خاں داد پو ترہ کے لواحقین کو’’ پرسا‘‘ دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ دھرتی ماں بہاول پور کے سپوت شہیدوں کی جائے شہا دت پرعہد کیا کہ جنوبی پنجاب کے قیام سے پہلے بہاول پور صوبہ بحالی کو یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ بہاول پور کے غیور عوام تخت پنجاب کے بعد ملتانی جارحیت کا شکار نہیں ہوں گے۔قاری مونس بلوچ نے کہا کہ سابق سینیٹر متحدہ محاذ کے قا ئد محمد علی درانی نے 02صوبوں، صوبہ بحالی اور جنوبی پنجاب کی خود تجویز دی تھی جس پر پنجاب اسمبلی نے دو صوبوں کی قرارداد منظور کی لیکن ارباب اختیار اور ان کے درباریوں نے عملدرآمد کے بجائے جمہوریت کے دروازے پر تالے لگا دئیے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ کہتے ہیں کہ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بحالی کیلئے کفل کشائی نا گزیر ہے۔اس موقع پر حارث خاں بلوچ، ایان خاں، مہمند خاں، احمد خاں بلوچ، اسماعیل داد پوترہ، عبدالہادی داد پو ترہ، محمد ندیم عباسی، عباس بلوچ، فیاض بلوچ، سردار شہزاد حسین رند ،رمضان بلوچ،گلزار بلوچ، حسن بلوچ، حسنین بلوچ، شان بلوچ، دلشاد بلوچ کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے۔

This Post Has Been Viewed 9 Times