نئی دہلی: (بی بی سی ) بھارتی سپریم کورٹ نے وقف بورڈ سے تاج محل کے حوالے سے شاہ جہاں کی دستخط شدہ دستاویزات طلب کرلیں، عدالت میں وقف بورڈ کے وکیل نے جب کہا کہ شاہ جہاں نے خود تاج محل کو وقف شدہ جائیداد ظاہر کیا تو سماعت کرنیوالے بینچ نے استفسار کیا کہ مغل بادشاہ کی اصل ڈیڈ یا وصیت دکھائی جائے، چیف جسٹس نے کہا ہمیں شاہ جہاں کے دستخط دکھائے جائیں، بورڈ کے وکیل نے مزید دستاویزات پیش کرنے کیلئے وقت مانگ لیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے ریاست اتر پردیش کے سنی وقف بورڈ سے تاج محل کی ملکیت کے دعوے کے ثبوت طلب کرلیے ہیں۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں بھارتی سپریم کورٹ کے بینچ نے کیس کی سماعت کی، بینچ کے دیگر ججز میں جسٹس اے ایم خان ولکر اور جسٹس ڈی وائے چندرا چود شامل تھے۔ یاد رہے شاہ جہاں نے 1631 میں اپنی بیوی ممتاز کی یاد میں ممتاز محل بنوایا تھا جسے تاج محل کہتے ہیں، وقف بورڈ جسے اپنی ملکیت ظاہر کرتا ہے، عدالت 2010 میں بھارتی آرکیالوجی سروے کی طرف سے تاریخی نوادرات کی ملکیت بارے وقف بورڈ کیخلاف دائر کی گئی اپیل کی سماعت کر رہی ہےعدالت نے بورڈ سے وقف نامہ طلب کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ وقف نامہ وہ دستاویز ہے جو کسی شخص کی جائیداد یا اراضی کو چیریٹی کے مقاصد کیلئے وقف کیا گیا ظاہر کرتی ہے، بھارت میں کون یقین کرے گا تاج محل وقف بورڈ کا ہے؟ بینچ نے استفسار کیا کہ شاہ جہاں ایک دستاویز پر کیسے دستخط کر سکتا تھا جب وہ 1658 میں اپنے بیٹے اورنگزیب کی طرف سے آگرہ قلعے میں قید تھا اور 1666 میں اسی قلعہ میں انتقال کر گیا، وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ مغلیہ دور کے بعد 17 ویں صدی میں جب سلطنت برطانیہ نے ہندوستان کا کنٹرول سنبھالا تو یہ نوادرات ان کے قبضہ میں آ گئیں، اس کے بعد انڈین حکومت کے دائرہ کار میں بھارتی آرکیالوجی سروے کے تحت آ گئیں، اس وقت کوئی وقف نامہ نہیں تھا، عدالت نے بورڈ کے وکیل کو مزید ثبوتوں کیلئے 17 اپریل کا وقت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی

This Post Has Been Viewed 12 Times