جدہ: (بی بی سی ) سعودی عرب میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے حکومتی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، ان تبدیلیوں کا ایک اور رنگ جدہ میں‌ خواتین کی پہلی سائیکل ریس کی صورت میں سامنے آ گیا۔تفصیلات کے مطابق عالمی یوم صحت کے موقع پر خواتین کو اپنی صحت کی دیکھ بھال کی طرف راغب کرنے کے لیے جدہ کے الجوہرہ اسٹیڈیم میں اقوام متحدہ کے تعاون سے ایک خصوصی سائیکل ریس منعقد کی گئی، جس نے سعودی عرب میں‌ کھیلوں کی نئی تاریخ رقم کر دی۔خواتین کی اس سائیکل ریس میں مختلف عمر کی 47 خواتین نے حصہ لے کر ثابت کیا کہ وہ جسمانی سرگرمیوں میں بھی مردوں سے پیچھے نہیں‌ رہنا چاہتیں۔ یہ سلطنت کی طرف سے پرعزم اصلاحات کے سلسلے میں خواتین کے لیے ایک اور اہم قدم ہے۔بحر احمر کے شہر جدہ میں‌ منعقدہ 10 کلو میٹر سائیکل ریس ارویٰ العمودی نے جیتی، پوزیشن لینے والی خواتین کو کپ دیے گئے اور ریس میں‌ حصہ لینے والی خواتین میں‌ میڈلز تقسیم کیے گئے۔واضح رہے سعودی عرب میں‌ خواتین کے کھیلوں‌ کی خصوصی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، چند ہفتے قبل ہی مکہ شہر میں پہلی خواتین میراتھن کا انعقاد کیا گیا تھا۔ کچھ روز قبل جدہ کی سڑکوں پر خواتین جاگنگ کرتی نظر آئی تھیں۔ریس میں حصہ لینے والی ایک خاتون نے سعودی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ سڑکوں پر عورتوں کے لیے ایک خصوصی لین مختص کریں جس پر وہ روزانہ کی بنیاد پر سائیکلنگ کر سکیں۔ ریس کا اہتمام سعودی عرب کی جنرل اسپورٹس اتھارٹی نے کیا تھا، اس اقدام کو سعودی جانشین محمد بن سلمان کی نئی پالیسی کی کڑی تصور کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ محمد بن سلمان نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں انھیں ڈرائیونگ کی اجازت دینا نمایاں ہے۔ اس پالیسی کے تحت سعودی حکومت خواتین کو خود مختار بنانے اور سماجی پابندیوں کو معتدل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

This Post Has Been Viewed 3 Times