اسلام آباد(بی بی سی )سپریم کورٹ میں پی آئی اے کی نجکاری اور آڈٹ سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کی دوران عدالت نے نجکاری سے متعلق وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیااور پی آئی اے کے تمام سابق ایم ڈیز کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے قومی ایئر لائن کی نجکاری اور آڈٹ سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کی،پی آئی اے کے وکیل نے 9سال کا آڈٹ ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔چیف جسٹس پاکستان نے دوران ریمارکس پی آئی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ قومی ایئر لائن کے پاس کل کتنے جہاز ہیں ،جس پر پی آئی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایاکہ قومی ایئر لائن کے پاس 36 طیارے ہیں۔اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا سارے جہاز پی آئی اے کے ہیں ؟۔وکیل پی آئی اے نے کہا کہ جی نہیں، کچھ جہاز لیز پر بھی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کو برباد کرکے رکھ دیا ہے ،آپ نے اتنا بڑا اثاثہ تباہ کردیا،چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پی آئی اے کوبربادکرنے والے دشمن اورغدارہیں۔

This Post Has Been Viewed 4 Times