کوئی تو بجلی کے بحران کا نوٹس لے!
ابوبکر عثمان
چیئرمین :پاسبان پبلک ایشور کمیٹی
کے الیکٹرک کا دعویٰ ہے کہ ہم ”روشنیوں کے شہر“ کراچی کو بجلی مہیا کرتے ہیں۔ کے الیکٹرک لمیٹڈ شہر کے 6500 مربع کلومیٹر رقبہ پر محیط انڈسٹریل، کمرشل، زراعت اور رہائشی مقامات کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔ اس آرگنائزیشن کے کراچی اور سندھ میںدھابیجی اور گھارو، بلوچستان میں حب، اتھل، وندار اور بیلا میں 2.5ملین کسٹمر اکاﺅنٹ ہیں۔ پاکستان میں صرف ہم پاور جنریشن یوٹیلیٹی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے صارفین کیلئے توانائی اور پیداوار کی فراہمی اور پیداوار کے تین اہم مراحل کو منظم کرتے ہیں۔کے الیکڑک تقریبا 11000 افراد کے عملے کے ساتھ شہر کے سب سے بڑے آجروں میں سے ایک ہے۔یہ تو کے الیکٹرک کا دعویٰ ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر ہم حقائق کے ساتھ جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ کے الیکٹرک کے صارفین کس قدر پریشان اور اذیت میں مبتلا ہیں ۔ جس کا عملی مشاہدہ کے الیکٹرک کے آئی بی سی دفاتر جا کر بآسانی کیا جاسکتا ہے ۔سابقہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (KESC) تقریباََ 100 سال قبل قائم کی گئی تھی۔ 2009ءمیں ابراج گروپ کو کے الیکٹرک کا کنٹرول دیا گیا تھا۔ ایک دہائی گذرنے کے بعد کے الیکٹرک نے کراچی سے ”روشنیوں کا شہر“ ہونے کا اعزاز چھین کر اسے ”اندھیروں“ میں دھکیل دیا ہے۔
کوئی تو بجلی کے بحران کا نوٹس لے۔یہ سلسلہ گذشتہ ایک دہائی سے جاری ہے۔ بجلی کے موجودہ بحران کی وجہ یہ ہے کہ کے الیکٹرک نے گیس کمپنی کا قرضہ 40ارب روپے تک پہنچادیا ہے جس کی وجہ سے گیس کمپنی نے کے الیکٹرک کو گیس کی سپلائی میں کمی کردی جس کی وجہ سے شہر میں بجلی کا بدترین بحران پیدا ہوا ہے ۔ معاہدے کے مطابق کے الیکٹرک کا گیس کوٹہ 220ایم ایم سی ایف ڈی ہے اور کے الیکٹرک کی اپنی کوتاہی یہ ہے کہ وہ گیس کمپنی کو سرکولر ڈیبٹس کی ادائیگی نہیں کرتا ۔ آئین پاکستان کے مطابق جس صوبہ کے معدنیاتی وسائل ہوں گے ان معدنیاتی وسائل پر پہلا ترجیحی حق استعمال اسی صوبے کا ہے مگر عملاً معدنیاتی وسائل سے مالامال صوبے کو اس کا حق نہیں دیا جارہاہے ۔ کے الیکٹرک کو پابند بنایا جائے کہ وہ گیس کمپنی کو واجبات کی ادائیگی بروقت کرے اور صارفین کوبجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنائے۔ کراچی میں اس وقت 1600میگا واٹ بجلی کی کھپت ہے اور کے الیکٹرک کے پاس حاصل شدہ صلاحیت 2400میگا واٹ کی ہے ۔ کے الیکٹرک سے اس بات کی بھی وضاحت لی جانی چاہئے کہ کے الیکٹرک نے بن قاسم کے کچھ پلانٹ کیوں بند کر رکھے ہیں ۔کے الیکٹرک کے پاس فرنس آئل کے وسائل کی وافر مقدار میں فراہمی موجود ہے اور فرنس آئل کی اضافی لاگت ماہانہ ٹیرف میں اضافہ نیپرا کی منظوری سے صارفین کو منتقل کیاجاتا ہے تو بجلی کم پیدا کرنے کا رونا کیوں رویا جارہا ہے ۔ کے الیکٹرک کا بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کرنا عوام کو پریشان اور معیشت کو تباہ کرنے کی سازش ہے ۔ پرائیوٹائزیشن کے معاہدے میں کوئی ایسی شق موجود نہیں کہ کے الیکٹرک اپنے اثاثے کسی بھی غیر ملکی کمپنی کو فروخت کرسکے مگر کے الیکٹرک کافی عرصہ سے اپنے اثاثے فروخت کررہی ہے جوکہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ شنگھائی کو کے الیکٹرک کی حوالگی ایسٹ انڈیا کمپنی کو دعوت دینے کے مترداف ہے جوہماری معیشت پر پنجا گاڑکر کسی بھی وقت معیشت کو مفلوج کرسکتی ہے ۔ حکومت پاکستان شنگھائی کو ایک علیحدہ حیثیت میں پاور جنرلیشن کا لائسنس دے تاکہ نئی کمپنی کے ذریعے مسابقتی ٹیرف پرصارفین کو سستی اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی ممکن ہوسکے۔ابراج گروپ کے پاس اس وقت کے الیکٹرک کے 66.40 فیصد شیئرز جبکہ حکومت پاکستان کے پاس 24.36 فیصد، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے پاس 0.69 فیصد اور پاکستانی عوام کے پاس 8.55 فیصدشیئرز ہیں۔میں پاسبان کے توسط سے کے الیکٹرک ، شنگھائی الیکٹرک کو فروخت کرنے پر نیپرا میں 7 جنوری ، 2017 ءکو 17 نکات پر مشتمل اعتراضات جمع کراچکا ہوں۔ حکومت بھی کے الیکٹرک کے مالکانہ حقوق میں حصہ دار ہے اور عام پبلک کے پاس بھی 8.55 فیصد شیئرز ہیں لہٰذا جب تک حکومت اور عوام سے رائے شماری نہیں لے لی جاتی شنگھائی الیکڑک کو فروخت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ یہ کراچی کے عوام کے خلاف ایک نئی اور گہری سازش ہے۔
  ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ہماری پاور جنریشن گیس اور فرنس آئل پر محیط ہے جبکہ شنگھائی پاور کو کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کا تجربہ رکھتی ہے۔ دنیا کوئلہ سے جان چھڑاکر گیس اور فرنس آئل پر منتقل ہو رہی ہے کیونکہ کوئلہ سے مختلف زہریلی گیس انسانی اور حیوانات اور نباتات کیلئے خطرناک ہے۔ کوئلہ کے استعمال سے نائٹروجن آکسائیڈ (sox) ، سلفر آکسائیڈ (nox) اور مرکری (hg) جیسی خطرناک گیسوں کا اخراج ہوتا ہے۔ Mercury-Uranium = Radio active metallic elements یہ سلوڈ ویسٹ بھی ماحولیات کے لئے خطرناک ہے۔ عام آدمی نزلہ زکام کا علاج نہیں کرواسکتا تو ان خطرناک ماحولیاتی بیماریوں کاکیسے علاج کرائے گا۔
کے الیکٹرک تانبہ (Copper) کے تار نکال کر ایلومینیم (Aluminum) کے تار لگا کر قومی سرمائے کی چوری میں ملوث ہے اور (Aluminum) کی وجہ سے میٹر تیز چلتا ہے۔ یہ بھی کے الیکٹرک کے صارفین کا بہت بڑا نقصان ہے۔بجلی کے بلوں کی ادائیگی کی مقررہ تاریخ میں تاخیرپر 10 فیصد لیٹ فیس کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اس طرح ایک سال میں 120 فیصد لیٹ فیس بن جاتی ہے جس کو 2 فیصد ماہانہ ہونا چاہئے ۔ اگر مقررہ تاریخ کے بعد ادائیکی پر جرمانہ لگایا جاتا ہے تو قبل از وقت ادائیگی پر ریبیٹ بھی ملنا چاہئے۔
12 فیصد سے زیادہ منافع کی صورت میں CLAW BACK FORMULA کے تحت معاہدہ کے مطابق منافع صارفین میں تقسیم ہوگا اس وقت کے الیکٹرک سالانہ 24 ارب روپے کا منافع کماتی ہے مگر ایک پھوٹی کوڑی بھی صارفین کو نہیں دی گئی بلکہ زائد اور بوگس بلنگ کے ذریعے اپنے صارفین سے اب تک اربوں روپے بٹور چکی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیپرا اپنا کردار کیوں ادا نہیں کرتی ؟ نیپرا کے الیکٹرک کے صارفین کو منافع کا یہ حق دلائے۔ چیف جسٹس آف پاکستان محترم میاں ثاقب نثار سے استدعا ہے کہ بجلی عوام کی بنیادی ضرورت ہے ، سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیا جائے ۔

This Post Has Been Viewed 38 Times