مش چال کی نامکمل کہانی
مسیح اللہ خان جامپوری
وہ بیسویں صدی کا معروف سائنس دان تھا اسے سٹیفن ہاکنگ کہا جاتا تھا ،جسمانی طور پر تو معذور تھا لیکن ذہنی طور پر ضرورت سے زیادہ نقطہ داں تھا۔ دماغ میں ایک کوڈ یارڈہوتا ہے جسے کوڑا دان بھی کہا جا سکتا ہے ۔جسم و دماغ کی تمام خرافات اسی کوڑا دان میں جمع ہوتی ہیں ۔ جب وہ اسے ضائع کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو جسم کی معذوری کی صورت میں یہ کوڑا کرکٹ ظاہر ہوتا ہے ۔تو جسمانی طور پر انسان معذور ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک گماں تھا کہ امر واقع کیا ہے یہ تو جدید سائنس نے ثابت کرنا ہے ۔
ہزار سال پہلے کی کتب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ جسمانی طور پر معذور تھا ہی کوئی ایک ہزار سال بعد آج ، آپ اور ہم جس دنیا میں سانس لے رہے ہیں ۔ یہ سائنس کی ترقی کمالات اور معراجوں سے مالا مال ہے ۔جی ہاں ! بیسویں صدی کے اس سائنس دان کا نام سٹیفن تھا ۔ اس قدیم زمانے میں امارات اور غربت کا نمایاں فرق تھا ،نمایاں کا تھا زمین و آسمان کا فرق ۔۔۔۔۔۔ غریب اور امیر لوگ اپنی مرادیں پانے کیلئے زمین میں مدفون لوگوں کے پاس جاتے تھے ۔ تین ہزار سال پہلے ان لوگوں کا یقین تھا کہ یہ مدفون لوگ ذات کامل کے قریب تر ہوتے ہیں ان کی قبر پر حاضری سے مرادیں پوری ہو جاتی ہیں ۔بیسویں صدی میں سب سے بڑا مسئلہ عدم ابلاغ کا تھا جس کے نتیجہ میں بھوک عام تھی ، لوگ ذہنی پسماندگی کا شکار تھے ، زمین کے ایک حصے میں لوگ بھوک سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے تھے ۔ دوسرے حصے میں غذائی اشیاء بڑی بے دردی سے ضائع ہو جاتی تھیں۔ عدم ابلاغ کا یہ عالم تھا کہ لڑائی جھگڑے عام تھے ۔ بالادست طبقات کی طرف سے یہ گمراہ کن پراپیگنڈا کیا جاتا تھا کہ سائنس کی ترقی کی بدولت پوری دنیا ایک گلوبل و یلج بن چکی ہے اور انسان ایک دوسرے کے قریب آ چکا ہے لیکن عملاً ایسا نہیں تھا اس زمانے میں ریاستیں تھیں ، ہر ملک کااپنا جغرافیہ ، حدودو قیود ہوتی تھیں ، اس میں توسیع کے لئے جاسوسی کا نظام ہوتا تھا ، انسانوں کو مارنے کیلئے نئے نئے ہتھیار وں کی ایجاد ان کی ترقی کہلاتی تھی ۔ انسانوں کو تہہ تیغ کرتے ان کے سینوں پر چڑھنے کو فتح کہا جاتا تھا ۔ آج ایک ہزار سال بعد جس دنیا میں آپ سانس لے رہے ہیںیہ گزرے زمانوں سے یکسر مختلف ہے ۔ آج سرحدوں کا وجود ناپید ہے ، الگ الگ قومیں نہیں ہیں ، نہ الگ الگ مذاہب ہیں ، نہ ہی الگ الگ مذہبی نقطہ نظر اور نہ ہی الگ الگ مذہبی عالم ۔ گو کہ موسموں کے بدلنے سے انسانوں کے رنگ الگ الگ تھے اور قد کاٹھ بھی مختلف ، جیسے روح کی دنیامیں بھی یک رنگی نہیں ہے ۔
ہاں تو بات ہو رہی تھی بیسویں صدی کے سائنس دان کی ، جس کی تحقیق نے اس دنیا میں طوفان کھڑے کر دئیے تھے ، اس کا کہنا تھا کہ بیسویں صدی کے 6سو برس بعد زمین کی حرارت اس قدر بڑھ جائے گی کہ یہاں رہنا مشکل ہو جائے گا ۔ اس کا اصرار تھا انسانی زندگی کے تحفظ کے لئے نئے سیارے کی جستجو کی جائے جہاں زندگی کے حالات میسر ہوں اور ایسے ہی سیارے میں نقل مکانی کی جائے ۔ گو کہ ایک ہزار برس بعدآج کی دنیا کے سائنس دان سٹیفن کی تحقیق پر زیرلب مسکراتے ہیں ۔سٹیفن کی پیشین گوئی کے ٹھیک تین سو برس کے بعد کے سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ سٹیفن نے یہ بات کیسے اور کیوں کہی تھی جبکہ اس دور میں پانی کو برف بنانے کا طریقہ کہیں پہلے دریافت ہو چکا تھا ۔ سٹیفن نے کیوں نہ سوچا کہ پانی کو بڑے پیمانے پر برف بنا کر کرہ کی حدت میں کمی لائی جا سکتی ہے ۔ آنے والے سائنس دانوں نے ویسے ہی کیا کہ تین سو برس پہلے ایک سائنس دان مش چال نے اپنے گھر کے قریب بہنے والی ندی کو منجمد کر دیا ،وہ اس طرح موسم کی حدت اور شدت پر قابو پر نہال ہو گیا تھا اس نے ایک ایسا مرکب تیار کیا جس کے نتیجے میں بہتا پانی جم جاتا تھا ۔ وہ اس پر غور کرتا رہا ، تجربات کرتا رہا ۔ ندی کے جمنے کے بعد آس پاس کے علاقوں میں سردی کی لہر نے آ لیا ۔ اس سائنس دان کو یہ خیال کیوں نہ آیا کہ ایک ریاست جس کو سوویت یونین کہا جاتا تھا ۔اس کے ایٹمی پلانٹ میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ہزاروں میل سردی کی لہر آ گئی ۔ مش چال نے اپنے تجربات جاری رکھے ، پھر ایک دن وہ ساحل سمندر جا پہنچا ۔ کرائے پر سٹیمر لیا اس میں بیٹھ کر گہرے پانی میں چلا گیا ۔ اپنے تھیلے سے اس نے ایک بوتل نکالی ، اور سٹیمر کو دوڑاتا رہا اور بوتل سے سمندر میں چھڑکاؤ کرتا تھا ۔ جب سفوف ختم ہوا تو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حیران رہ گیا۔ سمندر جم چکا ہے ہزاروں کی تعداد میں گرم پانی کی عادی مچھلیاں تڑپ رہی ہیں ۔اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا ۔ مش چال نے سوچا کہ جب پوڈر یا سفوف بنا کر برف کو پانی بنایا جا سکتا ہے سینکڑوں برس پہلے بھی کئی گلیشروں پر ایسا سفوف ڈالا گیا تھا جس کے نتیجے میں ملحقہ علاقوں میں سیلاب کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی اور کافی تباہی ہوئی تھی ۔ مش چال نے سوچاکہ پانی پر سفوف ڈال کر اسے برف کیوں نہیں بنایا جا سکتا ۔ سمندر میں اس کا تجربہ کامیاب رہا ۔
سائنس کی ترقی کا یہ عالم ہے کہ ایک نئی چیز کے ایجاد ہونے سے اس کے متعلقہ درجنوں چیزوں میں انقلاب آفرین تبدیلی آ جاتی ہے اور سائنس کی ترقی کا یہ عالم ہے کہ جمیٹریکل2×2(4)کے حساب سے آگے بڑھتی ہے ۔گزشتہ زمانوں کے تمام مذاہب کی یہ پیشین گوئی عام تھی کہ یہ دنیا ایک دن تباہ ہو جائے گی ۔ ایک برگزیدہ بندہ جنم لے گا پھر پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اُڑیں گے ۔ دنیا ریزہ ریزہ ہو جائے گی ۔ مش چال نے ماضی کی تمام تھیوریوں کو اپنے کمپیوٹر میں فیڈ کر رکھا تھا اس لئے یادداشت کا مسئلہ نہیں تھا ۔بہتے پانی کو برف بنانے کے بعد اس نے سمجھ لیا اس طرح وہ موسموں کو تبدیل کرنے پر قدرت حاصل کر لے گا ۔روزمرہ کا درجہ حرارت قابو میں رکھے گا ۔ اسے مذہبی اور الہامی کتب کی پیشین گوئیاں ستانے لگیں اس نے تجربات کئے کہ خلا میں اشیاء کیسے بے وزنی کا شکار ہوتی ہیں ۔ اس نے پہاڑوں کی کشش ثقل ختم کرنے کی کوشش کی اور سوچا کہ پہاڑ جب روئی کے گالے بنیں گے اور اڑیں گے تو دو دو سو منزلہ عمارتیں بھی اڑ سکتی ہیں ۔ اگر ان کی کشش ثقل کو ختم کر دیا جائے تو یہ بے وزنی کی کیفیت میں ان عمارتوں کو خلا میں پہنچایا جا سکتا ہے ۔ زندگی کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے اور یہ اس صورت ہوگا جب یہ دو ہزار سال پہلے کا کرہ اپنی حدت سنبھال نہیں پائے گا ، تباہی کے قریب ہوگا لیکن مش چال نے اس کرہ کو ٹھنڈا کرنے کا کلیدی اصول تیار کر لیا تھا اس لئے عمارتوں کو بے وزنی کی کیفیت میں خلا میں پہنچانے کا پروگرام روک لیا تھا۔مش چال کے پاس ایسے آلات تھے جو اس کی سوچ کو لہروں کی شکل دیتے تھے اور وہ کمپیوٹر کی طرف دیکھتا تھا وہ لہریں ڈی کوڈ ہو کر پڑھی جاتی تھیں اور اس میں وقت نہیں لگتا تھا وہ جو کچھ سوچ رہا تھا یہ خیال اس کے دامن گیر رہا جب تباہی آئے گی کیا وہ بتا کر آئے گی اس کا جواب اس کے پاس نہیں تھا ۔ یکدم ایسا دھماکہ ہوا کہ مش چال کے کان کے پردے پھٹ گئے ، دماغ ریزہ ریزہ ہو گیا وہ ریزہ ریزہ ہونے والی پوری کائنات کا حصہ بن گیا۔

This Post Has Been Viewed 7 Times