انسان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اللہ سے جو چیز مانگے وہ مل جائے،اسکی مرادیں پوری ہوجائیں لیکن ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ ہماری دعا اور گریہ کا دعا پر کوئی اثر نہیں ہوتا تو اسکی وجہ کیا ہوتی ہے ۔اس بارے میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ انسان کو خلوص نیت سے دعا کرنی چاہئے ،ناجائز کچھ نہ مانگے ۔نیت میں خلوص ہوگا تو بیمار دعا کرے گا تو شفا پائے گا،مالی طور پر تنگ دست مانگے گا تو مالی آسودگی ملے گی ،مقدمات میں پھنسے کو انصاف ملے گا۔ملازمت پیشہ افراد کی رکی ترقی کا راستہ کھل جائے گا۔اللہ سے مانگنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اپنی ہر دعا میں اللہ کے اسم مبارکہ یا مجیب کا ذکر کیا جائے۔میں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ اسم ربی یا مجیب کا روزانہ تین سو تیرہ بار ذکر کرتے ہیں تو چالیس دن بعد ان کی دعاوں میں تاثیر پیدا ہوجاتی ہے۔صوفیا کرام کے نزدیک یامجیب اسم اعظم کا درجہ رکھتا ہے۔اللہ کا ہر اسم ہی اسم معرفت و اعظم ہے۔یامجیب کا مطلب ہے دعائیں سننے والا ۔ایک بیوہ خاتون جس کی بیٹی کی شادی نہیں ہوتی تھی اور مالی حالات بھی خراب تھے ،اسکو جب یامجیب کی تسبیح کرنے کا مشورہ دیا تواللہ نے اسکی مرادیں پوری کردیں،آج اسکی بیٹیاں اپنے گھروں میں شاد وآباد ہیں۔بہت سے بیمار روزانہ یامجیب کی تسبیح کرتے رہے اور صحت کاملہ حاصل کی۔

This Post Has Been Viewed 26 Times