لاہور(بی بی سی )صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ نیب افسران نے چیئرمین نیب کوصحیح صورتحال سے آ گاہ نہیں کیا، اداروں کے د رمیان رابطے پریس کانفرنس کے ذریعے نہیں ہونے چا ہیے،نیب سے تعاون قانونی اوراخلاقی ذمہ داری ہے،چیئرمین نیب کوکوئی شکوہ ہے تواپنے ا ختیارات استعمال کرسکتے ہیں۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ نیب افسران کارویہ انتہائی تضحیک آمیزہے ادارے میں بعض لوگ ایسے ہیں جوخودنیب کومطلوب ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 53کمپنیاں کام کررہی ہیں جس میں 15غیرفعال ہیں پنجاب حکومت نے 47 کمپنیوں کاریکارڈنیب کوفراہم کیا ۔رانا ثنااللہ کہتے ہیں کہ پنجاب میں کوئی شاہ نہیں نہ کوئی شاہ کاوفادارہے، پنجاب کی ترقی سے خائف لوگ الزامات لگارہے ہیں، اورنج لائن منصوبے کاتمام ریکارڈہائی کورٹ میں پیش کیاگیا۔وزیر قانون کہتے ہیں کہ چیئرمین نیب کے ا لفاظ کومخالفین نے ہمارے خلاف استعمال کیا،نیب کاکوئی افسرایسی گفتگوکرے جو مخالفین اچھالیں یہ قبول نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کہ چکے ہیں کہ  ایک پیسے کی کرپشن ثابت ہوئی توسیاست چھوڑدوں گا،گیارہ منصوبوں میں680 ارب روپے کی بچت کی گئی،کوئی چیلنج کرے ہم 680 ارب روپے کی بچت کوثابت کریں گے۔خیال رہے کہ چیرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال کاچند روز قبل ایک تقریب میں کہناتھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب ان کی کابینہ اور سینئر حکام کے خلاف شروع کی گئی تحقیقات میں پنجاب حکومت تعاون نہیں کررہی۔انہوں نے لاہور ڈولپمنٹ اتھارٹی سمیت مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان پر زور دیا کہ وہ اپنے آقاوں کے بجائے عوام کے وفادار بنیں۔

This Post Has Been Viewed 1 Times