لاہور(بی بی سی ) انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زینب سمیت 8بچیوں کی بے حرمتی اور قتل کے ملزم عمران علی کے خلاف چالان پیش کردیا گیا ہے جس میں عمران علی کو گنہگار قراردیا گیا ہے ، ملزم کا 10فروری سے باضابطہ ٹرائل شروع ہو گا۔یہ ٹرائل جیل میں ہوگا۔ پولیس کی طرف سے پیش کئے گئے چالان کے ساتھ استغاثہ کے 55گواہوں کی فہرست بھی پیش کی گئی ہے ۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج سجاد احمدنے زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران علی کو14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجواتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ملزم روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت ہوگی اور آئندہ کیس کا ٹرائل جیل میں ہوگا۔دوسری جانب ملزم کے وکیل مہرشکیل ملتانی کا کہنا ہے کہ عمران علی کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ،ا گروزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے کہنے پر کسی کو سزا دینی ہے تو پورے لاہور کو سزا ملنی چاہیے۔ ملزم کی پیشی کے موقع پرانسداد دہشت گردی کی عدالت کے اندر اور باہر پولیس کی جانب سے سخت سیکیورٹی کے انتظامات کئے گئے تھے۔ملزم عمران علی کو ریمانڈ مکمل ہونے پرپولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں بکتر بند گاڑی میںعدالت لایا گیا۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک میں قصور میں زینب سمیت نوبچیوں کے قاتل ملزم عمران علی کوگزشتہ روزدو دن کے ریمانڈ کے بعد پیش کیا گیا۔پراسیکیوٹرکی جانب سے عدالت کو بتایا گیاکہ ملزم سے خلاف تفتیش مکمل کر لی گئی ہے۔فاضل جج نے پراسیکیوٹرسے استفسار کیا کہ ملزم سے تفتیش کے دوران کیا شواہد اکٹھے کئے گئے ہیں؟پراسکیوشن کے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلاف مختلف نوعیت کے 6 شواہد اکٹھے کئے گئے ہیںجن میں ملزم کی سی سی ٹی وی ویڈیو،فوٹو پرنٹ،پولی گراف ٹیسٹ،ڈی این اے رپورٹ،ملزم کے کپڑے اور میڈیکل ٹیسٹ شامل ہیں،عدالت نے سرکاری وکیل سے مزیداستفسار کیا کہ کیاملزم نے اعترافی بیان ریکارڈ کروا دیا ہے ؟جس پر پراسکیوٹر نے نفی میں سر ہلایا،اس موقع پرعدالت میں ملزم عمران علی کی جانب سے مہر شکیل ملتانی ایڈووکیٹ نے اپناوکالت نامہ جمع کروایا جس پر فاضل جج نے ملزم کے وکیل کو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کےلئے پابند کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس ہائیکورٹ کے احکامات کے مطابق کیس کی سماعت روزانہ کریں گے جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے بھی ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا کہا گیا ہے، عدالت نے ملزم کے وکیل کو مزیدکہا کہ آپ اپنی تمام مصروفیات ترک کردیں اور اگر آپ کو اسٹیٹ کونسل کی ضرورت ہے تو بتائیں جس پر ملزم کے وکیل نے انکار کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر پیش ہونے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔عدالت نے مزیدریماکس دیئے کہ یہ کیس انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،اس کیس پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیںاور سب چاہتے ہیں کہ فیصلہ جلد از جلد ہو۔عدالت نے ملزم کے وکیل کو چالان کی کاپیاں فراہم کرتے ہوئے ملزم کو 8مقدمات میں جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھجوادیاہے جبکہ مقولہ زینب کیس میں ٹرائل کا حکم دے دیاہے۔سماعت کے بعد ملزم عمران علی کے وکیل مہر شکیل ملتانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی نظر میں ڈی این اے کی کوئی حیثیت نہیں ہے،ملزم عمران عمران کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے،ا گروزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے کہنے پر کسی کو سزا دینی ہے تو پورے لاہور کو سزا ملنی چاہیے۔ وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ملزم عمران پر جب تک جرم ثابت نہیں ہو جاتا اسے مجرم نہیں کہا جاسکتا،انہوں نے مزید کہا کہ ملزم عمران نے کہیں بھی اپنا جرم کااعتراف نہیں کیاہے۔

This Post Has Been Viewed 8 Times