ڈیرہ اسماعیل خان(امان اللہ بلوچ سے)یڈیشنل سیشن جج IV ڈیرہ ارباب عزیز احمد نے شریفاں بی بی تشدد کیس میں گرفتار آٹھ ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کردی ، اقبال جرم کرنے والے دو ملزمان سمیت تمام آٹھ ملزمان نے صحت جرم سے مکمل انکار کردیا ،عدالت نے مقدمہ کی باقاعدہ سماعت کے لئے گواہان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 17 فروری تک ملتوی کردی ۔ گزشتہ روز مقدمہ میں گرفتار آٹھ ملزمان کو عدالت میںعدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی گئی لیکن تمام ملزمان نے صحت جرم سے مکمل انکار کردیا جس پر عدالت نے مقدمہ کی سماعت کے لئے گواہان کو شہادت کی غرص سے طلب کرلیا ہے ۔شریفاں بی بی تشدد کیس میں گرفتار دو ملزمان شاہ جہاں اور گلستان نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں اپنا اقبال بیان زیر دفعہ 164 ض ف قلمبند کرا یا لیکن وہ بھی انکاری ہوگئے ۔ملزمان کی جانب سے ثناء اللہ شمیم گنڈہ پور ایڈوکیٹ اور عمران گنڈہ پورایڈوکیٹ جبکہ شریفاں بی بی کی جانب سے احمد علی ایڈوکیٹ سپریم کورٹ اس اہم مقدمہ کی پیروی کررہے ہیں ۔ واضح رہے کہ پولیس نے سانحہ گرہ مٹ کے مقدمہ میں نو ملزمان کو نامزد کرکے ملزمان ناصر ولد فیضو ،شاہجہان ولد احمد ،اسلم ولد فیضو ،گلستان ولد احمد ،رمضان ولد احمد ،ثناء اللہ ولد کالو ، اکرام ولد ساون اور سید محمد سیدو ولد فیضو سمیت آٹھ ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ایک ملزم سجاول تاحال مفرور ہے ۔ مقدمہ میں 354A ت پ کے ساتھ دیگر دفعات 342.148.149 ت پ کو بھی شامل ہیں۔چکے ہیں ۔ مقدمہ میں نامزد دو ملزمان اسلم اورناصر کی درخواست ضمانت ماتحت عدالتوں سمیت عدالت عالیہ سے بھی خارج ہوچکی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے سانحہ گرہ مٹ شریفاں بی بی تشدید کیس میںتین ماہ کے اندر فیصلہ سنانے کے احکامات بھی جاری کررکھے ہیں

This Post Has Been Viewed 3 Times