صحافی کی ذمہ داریاں
کالم نگار:اویس احمد رضا
کالم:’’کچھ تو ہے‘‘
ریاست کے چار اہم ستون ہیں عدلیہ،پارلیمنٹ،فوج اور صحافت ان چاروں ستونوں کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے چاروں ایک دوسرے کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں کیونکہ ایک چھت کو کھڑا کرنے کے لیے چھت کے چاروں اطراف ستونوں کا سہارا لیا جاتا ہے تب کہیں جاکر چھت مضبوط اور کھڑی ہوتی ہے اور چاروں ستونوں کا مضبوط ہونا دراصل چھت کی مضبوطی ہے لیکن نہایت ہی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں چاہے الیکٹرونک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا دونوں شعبوں میں انڈر میٹرک صحافیوں کی ایک خاصی تعداد موجود ہے ادارے بھی کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھتے،جو صاحب کسی بھی ادارے کا پریس کارڈ بنوالیتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ میں سینئر صحافی بن گیا ہوں میں یہ بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ ادارے تمام صحافیوں کے متعلق مکمل چھان بین نہیں کرتے ان سے تعلیمی اسناد کا تقاضا بھی نہیں کیا جاتا۔شعبہ صحافت میں گریجوایشن یا ماسٹر ہونا بہت ضروری ہے لیکن اگر کسی نے شعبہ صحافت نہیں پڑھی تو اس کے لیے جرنلزم کورس کے لیے اکیڈمیوں کا انتظام کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے تاکہ اس مقدس شعبہ صحافت میں آنے والے نوجوانوں کے راہ ہموار ہوجائے اور وہ اپنا بہتر مستقبل بنا سکیں۔ اسی وجہ سے میدان صحافت میں آنے والے صحافی حضرات اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پرلا علم ہیں ،میں نے کوشش کی ہے کہ صحافیوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کچھ بیان کرسکوں۔ صحافت ایک پیغمبرانہ وصف ہے۔ایک دن مدینہ کے لوگ بڑے پریشان تھے کہ ان پر کوئی بڑا حملہ ہونے والا ہے،حضورﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے اور مدینہ کے اطراف چکر لگا کر تشریف لائے اور خبر دی کہ یہ سب افواہ ہے تب لوگوں نے سکون کا سانس لیا۔اسی طرح آج بھی عوام اگر کسی چیز،خبر یا واقعہ کے متعلق جاننا چاہتا ہے تو میڈیا(صحافت) کا سہارا لیتی ہے لیکن اگر صحافی کو حقائق کا صحیح ادراک نہ ہو اور وہ من گھڑت بات بیان کردے تو وقتی طور پر شاید اس کی بات صحیح مان لی جائے لیکن جب درست حقائق سامنے آئیں تو نہ صرف اس صحافی کیجگ ہنسائی کا باعث ہوتی ہے بلکہ عوام آئیندہ اس کی درست بات کو بھی اعتماد کی نظر سے نہیں دیکھتے لہٰذا ایک صحافی کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ سچی بات کرے،سچی خبر سنائے اور کسی بھی واقعہ کو ذاتی مفاد یا کسی کے دباؤ کے تحت بیان نہ کرے۔صحافی سنی سنائی بات پر یقین نہ کرے بلکہ کسی بھی خبر یا واقعہ کو بیان کرنے سے پہلے اچھی طرح تصدیق کے عمل سے گزار کر آگاہی دے۔اپنی خبر کو واضح انداز میں پیش کرنا بھی ایک صحافی کی ذمہ داری ہے کسی ایسے انداز سے بات بیان کرنا جس سے سامع یا پڑھنے والا مخمصے میں پڑجائے اس بات سے صحافی کو اجتناب برتنا چاہئے۔
ایک صحافی پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہیکہ وہ بد اخلاقی اور گندی تحریر یا تقریر سے اجتناب کرے۔صحافی کو اخلاقی اعتبار سے بہترین نمونہ ہونا چاہئے کہ اس کو دیکھ کر لوگ اس کی عزت کریں۔بعض ایسی خبریں ہوتی ہیں جن کو بیان کرنے سے اس ملک کے دشمنوں کو فائدہ مل سکتا ہو لہٰذا ایسی خبروں کو نہ بیان کرنا بھی ایک صحافی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ایک صحافی کو ہمیشہ صلح جو ہونا چاہئے کہ اگر معاشرے کے چند افراد یا چند شر پسند ایسی بات کو پھیلانا چاہتے ہوں جس سے اس ملک میں فساد کی فضاء پیدا ہوجائے تو ایسی صورت حال میں بھی ایک صحافی کو اپنی ذمہ داریوں کا خیال رکھنا چاہئے۔کسی بھی اچھے صحافی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس ملک کے تمام باسیوں کا خیر خواہ ہونا چاہئے۔علاقائی اور لسانی تعصب کو ہوا نہ دے لیکن اگر کوئی علاقہ کسی سہولت(سڑک،گیس،بجلی،تعلیم وغیرہ)سے محروم ہوتو اس کو بیان کرنا اس میں نہیں آتا وہ اسے ضرور بیان کرے۔صحافی کا ذہن مسلکی اور رنگ و نسل کے تعصبات سے پاک ہونا چاہئے اور انسانیت کے وسیع تر مفاد کے تحت مظلوم چاہے مسلم یا غیر مسلم ہو اس کے حق میں آواز بلند کرنا بھی ایک وسیع القلب صحافی کی ذمہ داری ہے۔
جرائم پیشہ اور ملک دشمن عناصر کے خلاف بھی انتظامیہ کا بھر پور ساتھ دینا ایک اچھے صحافی کی پہچان ہے۔حالات چاہے جتنے بھی خطرناک ہوں ایک صحافی کو خبر کے ہر پہلو پر بصیرت ہونا بھی ضروری ہے۔ہمیشہ اپنے اعصاب کو مضبوط اورملکی مفاد کو سامنے رکھنا ہی ایک کامیاب صحافی کی ذمہ داری میں شامل ہے۔

This Post Has Been Viewed 4 Times