ریاض(بی بی سی ) گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے ایک مشہور شہری شیخ العلقمی صوبہ ابہا میں 147 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وہ ساری عمر اپنے کھیتوں سے حاصل ہونے والی خالص اور سادہ غذا کھاتے رہے اور کبھی بازاری کھانے کے قریب بھی نہ گئے۔ شیخ العلقمی گاڑی کے استعمال کے بھی سخت مخالف تھے، حتیٰ کہ مکہ بھی پیدل چل کر گئے۔سعودی گزٹ کے مطابق شیخ العلقمی نے علی بن محمد بن عائد، عبداللہ بن محمد بن عائد اور حسن بن عائد کے ادوار بھی دیکھے۔ جب کنگ عبدالعزیز نے صوبہ عسیر کو سعودی عرب کا حصہ قرار دیا تو ان کی عمر 38 سال تھی۔ ان کے قریبی عزیز یحیٰی العقلمی نے بتایا کہ شیخ علی ہمیشہ اپنے کھیتوں میں اُگایا گیا اناج، گندم، مکئی، جو اور دیگر اشیاءکھاتے تھے جبکہ شہد کا باقاعدی سے استعمال ضرور کرتے تھے۔ گوشت بھی صرف وہی کھاتے تھے جو اپنے گھر میں پالے ہوئے جانوروں سے حاصل کیا جاتا تھا۔ باہر کہیں بھی جاتے تو کھانے پینے میں بہت احتیاط سے کام لیتے اور خصوصاً بازار کی اشیاءتو کبھی نہیں کھاتے تھے۔ وہ تمام عمر اچھی صحت کے مالک رہے اور کوئی سنگین بیماری لاحق نہیں ہوئی تاہم حال ہی میں جب انہیں دماغ کا فالج ہوا تو یہ جان لیوا ثابت ہوا اور وہ 147سال کی عمرمیں دنیا سے رخصت ہوگئے۔

This Post Has Been Viewed 8 Times