قصور (بی بی سی) قصور میں مختلف سماجی تنظیموں اور نمائندہ شہریوں کی طرف سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ جب بھی قصور میں کسی معصوم بچے کے قتل کا واقعہ ہوتا ہے تو پولیس اندھا دھند گرفتاریاں شروع کر دیتی ہے ،بے گناہ بے قصور اور شریف شہریوں کو بلاجواز گرفتار کرکے کئی کئی روز تک بدترین تشدد کا نشانہ بنانا اور پھر بھاری رقوم لیکر ان افراد کو چھوڑنا پولیس کا وطیرہ رہا ہے۔ زینب کی ہلاکت کے بعد بھی سٹی سرکل قصور کی پولیس نے ماضی کی اس شرمناک روایت کو دہرانا شروع کر دیا ہے اور دھڑا دھڑ شریف شہریوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ ان شہریوں کی گرفتاری تک نہیں ڈالی جاتی لہذا قانونی طریقے سے ایسے افراد کی رہائی یا بازیابی کے لیے عدالت سے رجوع بھی نہیں کیا جاسکتا ،ایسے میں پولیس نے ماضی کی طرح پھر سے قصور میں پکڑ دھکڑ کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے لہذا وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے اپیل ہے کہ پہلے سے پریشان حال قصور کے عوام کو اس پولیس گردی سے نجات دلائیں۔

This Post Has Been Viewed 4 Times