نوشابہ نرگس کے افسانوں کا مجموعہ ’’ دائروں کا مسافر ‘‘
مسیح اللہ خان جامپوری
نوشابہ نرگس۔ جب نام سامنے آتا ہے تو ایک معتبر شاعرہ سامنے آتی ہیں ۔ وہ پنجاب کے اس حصے میں پہلی خاتون صحافی ہیں جو جاگیرداروں ، وڈیروں اور پیروں کی گرفت میں صدیوں سے چلا آرہا ہے ۔ انہوں نے کم و بیش چار دہائیاں صحافت کے میدان کارزار میں بسر کیں ۔ جاگیردارنہ ماحول میں بکھرے ہوئے خانقاہی نظام میں گردن گردن تک دھنسے ہوئے معاشرے میں انہوں نے خواتین کیلئے گراں قدر خدمات انجام دیں جہاں خواتین کا کسی اخبار میں نام اور تصویر چھپنا قابلِ ستائش امر نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ نوشابہ نرگس نے اس خطے میں جو سرائیکی وسیب کے نام سے چہار دھنگ مشہور ہے ، خواتین کو سماجی ‘ معاشرتی اور سیاسی شعور عطا کیا ‘ سماجی و سیاسی سرگرمیوں میں لا کھڑا کیا ۔ وہ ایک بلند پایہ شاعرہ ہیں اور علیگ ہیں ۔ انہوں نے خواتین کی سرگرمیوں کیلئے ایک کلب کی بھی بنیاد رکھی تھی ۔ تعلیمی اداروں میں طالبات کی سرگرمیوں میں شریک رہیں ۔ مشاعروں میں حصہ لیتی رہیں ۔ جب ملتان میں ریڈیو اسٹیشن گونجا تو نوشابہ نرگس کی آواز اس گونج میں شامل تھی ۔ تمام پڑھے لکھے حلقوں میں نوشابہ نرگس صحافی اورشاعری کی حیثیت سے رتبہ پاتی ہیں ۔ انہوں نے صحافت سے نجات پانے کے بعد کئی یورپی ممالک کا سفر کیا ۔ا مریکا میں کئی بار آتی جاتی رہیں ۔ اس بار امریکا گئیں تو اپنے ہمراہ افسانوں کا ایک مسودہ بھی ساتھ لائیں تو پتہ چلا کہ وہ ایک نئے اسلوب کی افسانہ نگار ہیں ۔ ان کے افسانے کہیں شاعری میں ڈھل جاتے ہیں تو کبھی کہانی کا گمان ہوتاہے تو کہیں مکالمے کا پتہ دیتے ہیں ۔ انہیں تجریدی افسانہ کہنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہوگا ۔ کہیں سادہ تحریر سے آپ لطف اندوز ہوتے ہیں کہیں جذباتی کیفیت سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ کہیں خالص تخلیق رقص کناں ہے ۔ گویا کہ یہ ایک نیا اسلوب ہے ۔
افسانوں کے مجموعے کا نام ’’ دائروں کے مسافر ‘‘ ہے ۔ 198 صفحات پر مشتمل اس تخلیق میں 22افسانے ہیں۔ پیش لفظ دنیائے صحافت کے شناور ‘ ملک کے ممتاز افسانہ نگار ‘ کالم نگار اور ایڈیٹر جناب مسعود اشعر نے لکھا ہے ۔ انہوں نے بجا لکھا ہے ’’ اب جیسا اوپر کہا گیا ہے ، یہ افسانے نوشابہ نرگس کی شاعری کی ہی توسیع ہیں ۔ شاعرانہ جملے ، شاعرانہ فقرے اور شاعرانہ بیانیہ ۔ اور وہی ابہام جو شاعری کا حسن کہلاتا ہے۔ کہیں بات سمجھ میں آ جاتی ہے اور کہیں سمجھ میں نہیں آتی ۔ لیکن اچھے افسانے کے صاف ستھرے اور پر اثر بیانیہ کی طرح صرف اس تحریر کا حسن ہی پڑھنے والے کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے اور شاعری کی طرح وہ پڑھتا چلا جاتا ہے۔ ‘‘
نوشابہ نرگس کے تمام افسوں میں جگہ جگہ خود کلامی اور مکالمے ملتے ہیں ۔ صاحبانِ ہنر و فن جب ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’ دائروں کے مسافر ‘‘ پڑھیں گے تو انہیں ادب اور افسانے کی مختلف اصناف کا مجموعہ قرار دینے میں ذرہ بھی دیر نہیں لگائیں گے۔ اپنے ایک افسانے ’’ کوئی منزل ہے ‘‘ اس میں مصنفہ کا مخاطب غائب ہے ، پھر اچانک ظاہر ہوتا ہے ، درمیان میں خود کلامی ملتی ہے ، صرف یہی نہیں ان کے افسانے اسی اسلوب کے مرہون منت ہیں ۔ وہ اپنے افسانوں میں ایک ان دیکھی دنیا میں اپنے وجود کو تلاش کرتی پھرتی ہیں ‘ کہیں وہ دھیان میں گم ہو جاتی ہیں‘ کہیں گمان کی دنیا میں جا بستی ہیں ‘ کہیں خیال ان کے لئے وبالِ جان بن جاتا ہے ، کہیں وہ ان دیکھے وجود سے ہم کلام نظر آتی ہیں ۔ وہ استعارے کی مالا سے اپنی پسند کے موتی چن لیتی ہیں ، پھر بھرپور ہنر کے ساتھ کام میں لاتی ہیں ان کے استعاروں کا افسانوں میں پیوند تحریر کی روانی میں ایسے رنگ جاتا ہے کہ پڑھنے والا سوچتا رہ جاتا ہے ۔ ان کے افسانوں میں اداسی کا خمیر پورے وجود کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ان کے افسانوں میں یکسانیت اس لئے نہیں ہے کہ ہر افسانہ اپنا الگ رنگ ، آہنگ اور لباس لئے ہوئے ہے ۔ اپنا الگ خیال دامن میں سمیٹتے ہوئے کہیں تجریدی اسلوب تحریر پڑھنے والوں کو خود سے لا تعلق کر دیتاہے ۔ افسانہ پڑھنے کے متمنی حضرات نوشابہ نرگس کے یہ افسانے دیکھیں گے تو انہیں افسانوں کی دنیا میں ایک نئی دنیا دریافت ہوگی ۔
افسانے خواب و خیال کی گہری دنیا لئے انسانی زندگی میں کس طرح در آتے ہیں ۔ پہلے عرض کیا کہ نوشابہ نرگس نے افسانے کو ایک نیا رنگ عطا کیا ہے جس میں کہانیوں کے ہزار رنگ چمکتے ، دھمکتے نظر آتے ہیں اور اکثر مقامات پر مصنفہ انہی رنگوں میں رنگی نظر آتی ہیں ۔ مجموعے کا ورق اول خیال آفریں ہے ۔ بڑی دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ٹائٹل جس کو میں ورق اول لکھ رہا ہوں ، امریکا میں ساکن ان کے بھتیجے نے تیار کیا ہے ۔ وہ انسانوں کی جبلت کا اظہاریہ ہے اور وہ بھی اس کے اندرونی طوفان اور کیفیات کا علم و ادراک لئے ہوئے ہے ۔ کم سن مانی جاوید اور مائیکل جاوید کی کاوش نے پھوپھی کی رنگ آمیز فکر کو کس طرح قرطاس ابیض پر منتقل کیا ہے ۔ یہ بھی خوب ہے ۔ کافی دیر تو میں اس ٹائٹل میں کھویا رہا ۔ آخری دو صحافت پر بھی انہی بچوں نے ٹیڑھی ترچھی لکیریں کھینچی ہیں ، وہ کیا پیغام دیتی ہیں ، وہ آپ خود ہی دیکھ لیں ۔ یہی انسانوں کا عملی اظہاریہ ہو سکتا ہے ۔ نوشابہ نرگس کی افسانوی تحریر انسانوں کے اندر کے ماحول کی منظر کشی کرتے ہوئے فرانسیسی اور انگریزی ادب کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے ‘ نوشابہ نرگس بصری اور سمیع احساسات کا خوب اظہار کرتی نظر آتی ہیں ۔ یہ مجموعہ 198 صفحات پر مشتمل ہے ‘ سرکار ایڈوائزر ملتان نے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچایا ہے ۔ 500 کی تعداد میں شائع ہوا اور 4 صد روپے قیمت رکھی گئی ہے‘ ڈسٹری بیوٹرز سرکار بک بینک ملتان ہیں ۔

This Post Has Been Viewed 3 Times