ٹائیگر
جب بھی بم دھماکہ ہوتا ہے سب سے پہلا سوال یہی اٹھتا ہے کہ “قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں سو رہے ہیں.” یہ سوال ویلڈ بھی ہوسکتا ہے. ہم فی الحال اٹائیگرس پر بات نہیں کریں گے. لیکن جب کہیں بم ناکارہ بنا کر درجنوں لوگوں کی جانیں بچائی جاتی ہیں تو کوئی نہیں پوچھتا کہ آخر کون ہے وہ ہیرو جس نے اپنی جان پر کھیل کر یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے.
آج میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے بھی کبھی یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کی. جب بھی دھماکہ ہوا. فیس بک اور ٹویٹر پر محاذ سنبھال کر گولہ باری شروع کردی. آج میں ایک ایسے ہیرو کا تعارف کرکے اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہوں جس نے فقط ایک نہیں سیکڑوں بم ناکارہ بنا کر ہزاروں لوگوں کی جانیں بچائی ہیں. اس ہیرو سے گزشتہ روز اسلام آباد میں ملاقات ہوئی.
زیر نظر تصویر خیبر پختون خوا پولیس کے اہلکار عنایت اللہ کی ہے. عنایت اللہ نے 2002 میں عام پولیس چھوڑ کر بم ڈسپوزل یونٹ جوائن کیا اور آج ڈیرہ اسماعیل خان بم ڈسپوزل یونٹ کے انچارج ہیں. عنایت اللہ آج تک 700 سے زائد مختلف اقسام کے بم اور 4 ہزار کلو گرام بارودی مواد ناکارہ بناچکا ہے.
بم ناکارہ بناتے بناتے ایک دھماکے میں عنایت اللہ کا پاوں کٹ چکا اور ایک ہاتھ ناکارہ ہوگیا. عنایت اللہ کے کے جسم میں ایک بھی ایسی جگہ نہیں ملتی جہاں زخم نہ لگا ہو. اس کے باوجود آج بھی جہاں بم کی اطلاع ملتی ہے سب سے پہلے عنایت اللہ پہنچ جاتا ہے.
جب میں نے پوچھا کہ اس حالت میں ڈیوٹی کیسے کرتے ہو. کہنے لگا یہی سوال مجھ سے ایک چاچا نے بھی کیا تھا. ایک بزرگ دھماکے میں شہید ہونے والے اپنے بیٹے کو ڈھونڈ رہا تھا کہ اس کا سامنا زمین پر پڑے عنایت اللہ سے ہوا جس کا پاوں دھماکے میں اڑ گیا تھا. چاچا نے اپنی چادر میں اس کا پاوں ڈالا اور دوسرے لوگوں کی مدد سے اسے اسپتال منتقل کیا. 6 ماہ بعد پھر بم کی اطلاع پر عنایت اللہ ایک جگہ پہنچا تو اسی چاچا کا سامنا ہوا. چاچا نے پوچھا اس حالت میں ڈیوٹی کیسے کرتے ہو. عنایت اللہ نے جواب دیا. “چاچا اس بار لوہے کا پاوں لگا کر آیا ہوں. بموں کو لات مارا کروں گا”
عنایت اللہ کی اس بہادری اور لازوال جذبے کے باعث ڈیرہ اسماعیل خان کے عوام نے اس کو ٹائیگر کا لقب دیا ہے. آپ ڈیرہ اسماعیل خان میں کسی بچے کو بھی ٹائیگر کا نام لیں وہ آپ کو اس کے کارنامے سنانا شروع کردے گا. کسی پولیس والے سے پوچھ لیں ٹائیگر کے پاس جانا ہے. وہ پہلے آپ کو سیلوٹ کریگا پھر راستہ سمجھائے گا.
ایک بار ٹائیگر دھماکے میں زخمی ہوکر اسپتال پہنچا تو پورے ڈیرہ اسماعیل خان کے عوام اسپتال پہنچ گئے. اتنا رش لگ گیا کہ علاج مشکل ہوگیا تو ڈاکٹروں نے پچھلے دروازے سے ٹائیگر کو دوسری جگہ منتقل کیا.
ٹائیگر نے متعدد خودکش بمباروں کو زندہ بھی پکڑا ہے. ان سے آمنے سامنے بات کی ہے. کئی بمبار اس کے سامنے پھٹے ہیں. وہ جب واقعات بتاتا ہے تو رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں. ٹائیگر نے پوری قوم کو پیغام دیا ہے کہ میں اپنی ڈیوٹی پوری ایمانداری سے سر انجام دے رہا ہوں۔ قوم کا ہر فرد جہاں جس پوزیشن پر بیٹھا ہے، وہاں اپنی ذمہ داری پوری کرے تو ہمارے بچے ایک محفوظ اور خوشحال پاکستان میں سانس لیں گے۔

This Post Has Been Viewed 11 Times