قصور(بی بی سی )  8 سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کردیا گیا اور اس کی لاش کو کچرے میں پھینک دیا۔ قصور میں 8 سالہ بچی زینب کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا جب کہ ملزمان نے بچی کی لاش کو کچرے میں پھینک دیا، اطلاعات کے مطابق 5 روز قبل زینب سپارہ پڑھنے گھر سے نکلی تھی لیکن گھر کے قریب بچی کو راستے میں اغوا کرلیا گیا، بچی کی گمشدگی پر اہل خانہ نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی تاہم گزشتہ رات کچرے کے ڈھیر سے بچی کی لاش برآمد ہوئی۔واقعے کے بعد پولیس نے زینب کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا، ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بچی کو ایک سے زائد بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد اہل علاقہ مشتعل ہوگئے اور احتجاج شروع کردیا۔ علاقے میں مکمل ہڑتال ہے اور دکانیں بھی بند کردی گئیں، کمسن بچی زینب کے قتل کے خلاف ڈسٹرکٹ بار اور انجمن تاجران نے ہڑتال کا اعلان کردیا اور بچی کے قتل میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری پر احتجاج کیا۔دوسری جانب زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی زینب کی نمازجنازہ ادا کردی گئی ہے، عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے نمازجنازہ پڑھائی جس میں سیاسی و سماجی رہنماؤں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔واقعے سے متعلق ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد نے بتایا ہے کہ پولیس بچی کے ساتھ ہونے والے اس سلوک میں ملوث درندہ صفت انسان کی گرفتاری کے لیے ہر زاویے سے تفتیش کررہی ہے۔ اب تک 5 ہزار لوگوں سے تفتیش کی گئی ہے جب کہ 67 افراد کا میڈیکل چیک اپ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر زیادتی کے بعد قتل ہونےوالی یہ آٹھویں بچی ہے، زیادتی کا شکار بچیوں کے ڈی این اے سے ایک ہی نمونہ ملا۔وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے بچی کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ میں کیس پر پیش رفت کی ذاتی طور پر نگرانی کروں گا، واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، معصوم بچی کے قتل کے ملزم قانون کے مطابق قرار واقعی سزا سے بچ نہیں پائیں گے اور متاثرہ خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے گا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے بھی واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔واضح رہے کہ قصور کے تھانہ صدر کی حدود میں زینب سمیت 12 بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنا کر انہیں کچرے کے ڈھیر میں پھینکا گیا، جن میں سے 11 بچیاں دنیا سے کوچ کرگئیں جب کہ کائنات نامی صرف ایک ہی بچی کو زندگی مل سکی، پولیس نے ان تمام واقعات کی رپورٹس تو درج کیں لیکن عملی طور پر مجرم کو پکڑنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

This Post Has Been Viewed 13 Times