ڈیرہ اسماعیل خان: (امان اللہ بلوچ سے)جوڈیشل مجسٹریٹ ڈیرہ قیصر خان آفریدی کی جانب سے پولیس کی سرزنش.
سرچ آپریشن کے نام پر لوگوں کے گھر میں داخل ہوکر لائسنس دار اسلحہ ہونے کے باوجود لوگوں کے خلاف ناقص اور بے بنیاد ایف آئی درج کرنے پر سخت برہمی کا اظہار۔
پولیس کو تنبہہ جاری کرتے ہوئے اسلحہ لائسنس یافتہ شخص اللہ نواز ولد ربنواز سکنہ کٹ سگو جنوبی کو مقدمہ سے بری کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے
تھانہ صدر پولیس نے سرچ آپریشن کے نام پر اللہ نواز ولد ربنواز نامی شخص کے مکان پر چھاپہ مار ا اور وہاں سے اسلحہ برآمد کرکے اس کے خلاف غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے جرم زیردفعہ 15AA کا مقدمہ درج کرلیا۔
ملزم کے عدالت میں لائسنس پیش کرنے پر عدالت نے پولیس کی سرزنش کی اور شدید برہمی کا اظہار کر تے ہوئے انہیں سخت تنبہہ جاری کر کے اس شخص کو زیر دفعہ 249A کے تحت مقدمہ سے بری کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔
عدالت نے پولیس کو سختی سے ہدایات جاری کیں کہ آئندہ اگر اسلحہ لائسنس یافتہ شخص کے خلاف بے بنیاد ایف آئی آر درج کی گئی تو متعلقہ پولیس اہلکارکے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دوسری جانب ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ڈیرہ پولیس کے اہلکاروں نے افسران کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے سرچ آپریشن کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے۔
پولیس سنگین جرائم میں ملوث خطرناک مجرمان کے خلاف انسدادی کاروائی کرنے اور دہشت گردی وٹارگٹ کلنگ سمیت دیگر اہم مقدمات میں ملوث ملزمان کو ٹریس کرکے انہیں گرفتار کرنے کی بجائے بغیر سرچ وارنٹ لوگوں کے گھروں میں داخل ہو جاتی ہے اور غریب اور ان پڑھ لوگوں کی عزتوں کو پامال کر کے اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کی خاطر بغیر کسی پرائیویٹ گواہ کے معمولی مقدار میں منشیات کی برآمدگی یاپھر اسلحہ لائسنس دار ہونے کے باوجود وہاں سے اسلحہ برآمد کر لیاجاتا ہے۔
پولیس ان لوگوں کے خلاف ناقص اوربے بنیاد ایف آئی آرز درج کرکے انہیں گرفتار کرلیتی ہے ۔
ذرائع کے مطابق تھانہ صدر ایسی کاروائیوں میں پیش پیش ہے جبکہ دیگر تھانے بھی ایسی کاروائیوں میں پیچھے نہیں ہیں۔
گرفتار افراد کو ڈرادھمکا کر ان سے معاملات طے ہونے پر انہیں تھانہ میں ہی ذاتی مچلکوں پر رہا کردیاجاتا ہے بعدازاں پولیس انہیں اقبال جرم پر مجبور کرکے عدالت میں پیش کرتی ہے جہاں کچہری کے چکر کاٹنے اور اپنی جمع پونچی لوٹانے کے بعد وہ عدالت سے جرمانہ ہوکر رہائی پانے میں کامیاب تو ہوجاتے ہیں لیکن یہ غریب اور بے بس لوگ اسے اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرکے خاموش ہوجاتے ہیں۔

This Post Has Been Viewed 9 Times