ڈیرہ اسماعیل خان :  (امان اللہ بلوچ سے) نیشنل بنک آف پاکستان کا ڈیرہ اسماعیل خان کا ریجنل دفتر بنوں میں قائم کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق مارچ 2015 میں وفاقی حکومت نیشنل بنک آف پاکستان کی جانب سے ملک میں مجموعی طور پر چھ ریجنل دفاتر بند کردیے گئے تھے جس میں 43 برانچز کا حامل منافع بخش ریجن ڈیرہ اسماعیل خان ریجنل دفتر بھی شامل تھا۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے نیشنل بنک آف پاکستان کے ریجنل دفتر کی بندش پر احتجاج بھی کیا گیا مگر کسی قسم کی شنوائی نہیں ہوئی اور بات طفل تسلیوں تک محدود رہی تاہم 8 جنوری کو نیشنل بنک آف پاکستان کے صدر سعید احمد کے دستخطوں سے بنک کے ریجنل دفاتر کی تعداد 23 سے بڑھا کر 37 کرنے کا اعلامیہ جاری کردیا گیا مگر نئے ریجنل دفاتر میں اگرچہ 2015 میں سرائیکی بیلٹ کے چار بند کئے گئے ریجنل دفاتر میں سے تین کو تو بحال کردیا گیا مگر ڈیرہ اسماعیل خان کے ریجنل دفتر کی بحالی کے بجائے بنوں میں ریجنل دفتر کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔ صوبہ خیبر پختون خواہ میں پشاور۔ ایبٹ آباد ۔ مردان ۔ سوات اور مانسہرہ میں ریجنل دفاتر قائم ہیں۔ 2015 میں جب ڈیرہ اسماعیل خان کا ریجنل دفتر بند کیا گیا تھا تو اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان میں بنک کے 43 برانچوں اور ریجنل دفتر کے اخراجات نکالنے کے بعد بنک کو ڈیرہ ریجنل دفتر 57 کروڑ روپے منافع دے رہا تھا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں اب بھی ریجن کے کیمپس آفس کی عمارت موجود ہے۔ بنک حکام کی جانب سے نئے ریجنل دفاتر کے قیام میں آبادی اور کاروباری مفادات کو بنیاد بنایا گیا اس تناظر میں بنوں کے مقابلہ میں ڈیرہ اسماعیل خان میں چار شوگر ملیں کام کررہی ہیں ایک نئی شوگر مل۔ ایک آئل ریفائنری قائم کی جارہی ہے ۔ گومل زام ڈیم نہر سے ہزاروں کنال مزید رقبہ بھی سیراب ہورہا ہے

This Post Has Been Viewed 8 Times