ایک فرد کی قربانی
نصرت جبیں
ملک ۲۰۱۳ کو جب نوازشریف نے حکومت بنائی تو ان کا تخت بھاری عوامی مینڈیٹ پر رکھا گیا تھا۔ان کی پارٹی نے بڑی اکژیت سے حکومت بنائی تھی خاص طور پر پنجاب کی عوام نے قومی اور صوبائی الیکشن میں ان کی حکومتی گاڑی کے نیچے وہ مضبوط ٹائیر لگائے کہ امید کی جارہی تھی کہ پانچ سال کا عرصہ تو پورا کر ہی جائیں گے۔ان دنوں نوازشریف اپنے تمام ساتھیوں کے ہمراہ اعتماد اور کامیابی کے پورے قد سے کھڑے تھے ا س میں کسی قسم کا جھکاؤ نہ تھا ۔پھر جب الیکشن کے دوران کیے گئے وعدوں کو ارادوں میں بدلنے کا موسم آیا تو سروکی طرح تنے ہوئے اس قد میں جھکاؤ کی ہلکی سی جنبش پیدا ہوئی کیونکہ لوڈشیڈنگ چھ ماہ اور پھر دو سال میں ختم کرنے کاجو عندیہ دیا گیا تھا وہ عوامی آنکھ سے نا مکمل سا دکھائی دینے لگا تھا مگر جو اکژریت ان کے ساتھ تھی اس کا تصور ہی ان کی گردن کے تناؤ کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوا چنانچہ اس جھکاؤ کی کیفیت نا معلوم سی رہی۔کچھ عرصے بعد ایسا وقت بھی آیاکہ جب نواز شریف حکومت کی آن، بان اور شان پورے جوبن پر تھی،ملکی طاقت کے تمام اختیار ان کے ہاتھ میں تھے اور انہی اختیارات کے بے لگام استعمال کی وجہ سے سانحہ ئماڈل ٹاؤن کا واقعہ پیش آیا ۱۴ افراد طاقت کے اندھے پن کا شکار ہو گئے چونکہ وہ قاتل بااختیار تھے سو سرو قامت کی اٹھان باقی رہی پھر کچھ وقت گزرا تو سالہ سال سے جاری دہشت گردی کی لہر میں شدت آگئی نہ کوئی دربار محفوظ نہ بازار، معصوم اور نہکتے لوگ نشانہ بننے لگے مگر اس قول کے مصداق کی روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا واقعی حکومتی وزراء سب اچھا ہے کا راگ الاپتے رہے اور نوازشریف اسی راگ کے بے سرے پن سے محٖٖفوظ ہوتے رہے اور حقیقت کا سامنا کر کے حل نکالنے کی کوشش نہ کی تو ہمیں ۱۶دسمبر ۲۰۱۴آرمی پبلک سکول پشاور کا سیاہ دن دیکھنا پڑا مگر اس کا ملبہ صوبائی حکومت کی نا اہلی پر ڈال کر وہ جان بخشی کروا گئے۔ یہاں سے کہانی ایک نیا موڑ اختیار کرتی ہے اور پاناما کے نام سے ایک باب کھلتا ہے جس میں انکشافات کاسمندر ہوتا ہے حاکمِ وقت اور ان کے خاندان کے اثاثہ جات پر کئی سوالیہ نشان اٹھتے ہیں پھر عدالتوں،ثبوتوں،وضاحتوں،شکائیتوں اور قطریوں کا ایک لمبا سفرشروع ہو جاتا ہے اور وآخر کار عدالت کے ترازو میں نواز شریف کا پلڑا ہلکا ثابت ہوتا ہے،وہ نااہل قرار پاتے ہیں اس قد اور سرو قامت اٹھان میں ایک ٹیڑھ پن آ جاتا ہے جسے عدالتی اور عوامی آنکھ واضح دیکھ رہی ہے کیونکہ یہ ایک کردار کی شکست ہے جو اپنے اختیارات کے لحاظ سے منفرد تھااور اپنی ذمہ داریوں کی بنیاد پر یکتا تھا جس کے شانے فرائض کا بوجھ کندھوں پر اٹھانے سے کمزور نہیں پڑے مگر اس فرائض سے وفاداری کرنے میں نادار ثابت ہوئے ہیں مگر یہاں تک بھی بات بنتی تھی کہ اگر وہ اس فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اپنے دفاع کے لئے جائز ذرائع استعمال کرتے مگر یہاں تو ایک فرد کو بچانے کے لئے اور ان کی ناکارہ سیاسی گاڑی کو قابلِ استعمال بنانے کے لئے آئین، قانون ،ا صول و ضوابط کے پرزے اتار کر لگائے جا رہے کہ شائد کسی گام یہ گاڑی چل پڑے اور بے شک اس ملک کا آئینی ڈھانچہ تباہ ہو جائے مگر اس کردار کو پسِ تصویر نہیں جانا چاہیئے جس کا نام نوازشریف ہے اگر ت مام جرائیم ثابت ہونے کے باوجود یہ فردِواحد اپنی پوری اٹھان میں رہتے ہیں توپھر انصاف ہمیں جورے نائی کی دکان سے تو شائد مل جائے مگر عدالتی دہلیز سے نہیں مل سکے گاجس ادارے کے فیصلوں کو ہم اعتماد ہی نہیں دیں گے وہاں سے انصاف کی توقع کیسے رکھیں گے نواز شریف ایک کردار کا نام ہے مگر ان کی سیاسی پستی سے ایک نظام بچایا جا سکتا ہے۔

This Post Has Been Viewed 11 Times