تحریر: احمد مجتبیٰ
کاغذ کے گھگھو گھوڑے ۔۔۔کھلونے ۔۔۔ ثقافت او رفن
سرائیکی وسیب مردم خیز خطے کا نام ہے ۔ یہ دھرتی ہزار ہا سالوں سے تہذیبی و ثقافتی اقدار کی حامل ہے ۔ اس دھرتی نے بڑے بڑے زعماء کو پیدا کیا ۔ اگر ہم اس خطے کے مرکزی شہر ملتان کو دیکھیں تو سات ہزار سال سے اس شہر کا دیا نہیں بجھا ۔ اس کے مقابلے میں بابل و نینوا جیسی سینکڑوں تہذیبیں اور ان کے شہر صفحہ ہستی سے مٹ گئے مگر ملتان آج بھی دنیا کے زندہ شہروں میں شمار ہوتا ہے ۔ ملتان کے بارے میں ہندوستان میں ہندی زبان کی یہ کہاوت ’’ آگرہ اگر ‘ دلی مگر ‘ ملتان سب کا پِدر ‘‘ زبان زدِ عام ہے ۔ یہ کہاوت اس خطے کے ہنر مندوں کی لازوال محنت کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی ۔ تعمیرات سے لیکر اس وسیب کی ہنر مندی تک لوگوں نے اپنی عظمت کا لوہا منوایا ہے۔ آج ہم جس موضوع پر بات کر رہے ہیں ‘ وہ کھلونوں کے بارے میں ہے جسے سرائیکی وسیب کی زبان میں گھگھو گھوڑے کہا جاتا ہے ۔
اک آنے کی گڑیا اور دو آنے کا موڑ ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ گانا مجھ سمیت ریڈیو سن کر بچپن گزارنے والوں کو بخوبی یاد ہوگا ۔۔۔۔۔۔ جبکہ گلی میں آئے ۔۔۔۔۔۔ گھگھو گھوڑے بیچنے والے کی آواز ۔۔۔۔۔۔ رنگ برنگے گھوڑے لے لو ۔۔۔۔۔۔ شیر آگیا ۔۔۔ ہاتھی آگیا ۔۔۔ اس چڑیا کو دیکھو ۔۔۔ باجا لے لو‘ کی آواز آنے پر جب ہم اپنا جیب خرچ لے کر گلی میں جاتے اور دنیا کے مالا مال افراد کی طرح دل کھول کر خریداری کرتے دونوں ہاتھوں میں کھلونوں کے ساتھ ساتھ ٹافیاں بھی کھاتے ہوئے گھر میں داخل ہوتے اور جب اپنے بستے‘ کتابوں اور دوسرے کھلونوں کے ساتھ گھر کے اپنے اس کونے میں رکھ دیتے جسے ہم اپنی سلطنت کا تخت قرار دیتے تھے ۔۔۔ یوں لگتا تھا کہ ہم گویاکسی مغلیہ سلطنت کے چشم چراغ ہیں ۔۔۔ جس کے اطراف میں یہ سارے جانور ہماری خدمت کو موجود ہیں ۔۔۔ پہلے دو چار دن ان کھلونوں کو دیکھنا ۔۔۔۔۔۔ پھر ان کے پر ۔۔۔ پُرزے چیک کر کے گویا ان کا پوسٹ مارٹم کر ڈالنا ۔۔۔۔۔۔ بچے کھچے رنگ برنگ کے کاغذوں کی چھوٹی چھوٹی چڑیابنانا ۔۔۔ ہوائی جہاز بنانا اور باقی لکڑی کے کانوں وغیرہ کو ۔۔۔۔۔۔ گھر میں ٹیچر ۔۔۔ ٹیچر کھیلتے وقت بطور مولا بخش استعمال کرتے ۔۔۔ اور اگر کسی پر مولا برس پڑتا تو اسی ’’کانے‘‘ سے پہلے ہماری دھلائی ہوتی اور پھر وہ ’’کانا‘‘ کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا جاتا اور پھر ہفتہ دس دن کے بعد کاغذ کے گھگھو گھوڑے پھر ہمارے کونے کی زینت بنتے اور ہم خوب لطف اندوز ہوتے ۔۔۔۔۔۔
خیر ۔۔۔ ماضی کے دریچوں کو جھانکیں تو جی چاہتا ہے کہ کبھی ہم بڑے نہ ہوں ۔۔۔ لیکن آج کا حال دیکھیں تو بچوں کو وڈیو گیم ہی نہیں بلکہ آن لائن وڈیو گیمز‘ کمپیوٹر اور روبوٹ کاروں‘ ہوائی جہازوں‘ پرندوں کی ضرورت ہے آج کے ’’وائی فائی‘‘ دور کی پیداوار ہمارے بچے اگر کوئی فرمائش کریں تو غریب و متوسط والدین تو مہینہ بھر کی تنخواہ آنے پر ان کی خواہش پوری کرنے کا وعدہ بھی نہیں کرسکتے کیونکہ وہ اپنی آمدن اور اخراجات سے بخوبی واقف ہیں جبکہ عید تہواروں پر بھی بچوں کو محض بڑے بڑے وڈیو گیمز ہاؤسز میں گھمانا اور انہیں کچھ دیر کی خوشی فراہم کرنا متوسط طبقہ برداشت کرہی لیتا ہے لیکن ہمارے سکولوں میں بھی اب کمپیوٹر کی تعلیم جس قدر ترقی کرگئی ہے وہاں ایسے سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے تقاضے بھی بیش بہا قیمت کے کھلونے ہی بن گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور پھر اپنے بچپن کا مقابلہ اپنے بچوں کے بچپن کے ساتھ ہم کر بھی کیسے سکتے ہیں ۔۔۔ ہمارے بچپن میں کھلونے اور ہمارے کھیل ہمیں اپنے رشتہ دار و عزیز و اقار ب اور ہمسایوں کے بچوں کے قریب لاتے ہمارے دوستوں میں اضافہ ہوتا جبکہ آج کے بچوں کی شان ہی الگ ہے جتنا مہنگا کھلونا گھر میں آئے گا اتنا ہی چھپا کر اپنے کمرے میں رکھا جائے گا اور دوست بنا تو درکنار ہمسایوں رشتہ داروں کے بچے ایک دوسرے کے گھر کا تصور تحفظات‘ خدشات کی وجہ سے جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔۔۔۔۔۔ ہمارے بچپن میں کھلونا ٹوٹ جانے پر ہم شکر مناتے کہ اب نیا رنگ برنگ کا کھلونا آئے گا جبکہ اب ہمارے بچوں کا کھلونا ٹوٹ جائے تو جیسے ان کا دل ٹوٹ گیا اور والدین کے لئے ایک بڑی رقم کا خرچہ سر پر آن پڑا ۔۔۔۔۔۔
پچھلے دنوں اپنی دفتری اسائمنٹ پر مجھے شہر سے باہر جانے کا موقع ملا ۔۔۔۔۔۔ دفتری الجھنیں اس قدر زیادہ تھیں کہ ذہن میں کبھی افسروں کے رویے‘ کبھی گھر کے جھمبیلے اور کبھی خاندان میں آنے والی چار پانچ شادیوں کے اخراجات سب سوچیں برابر ہی چل رہی تھیں ۔۔۔ اور پھر ہر دوسرے تیسرے دن کے نئے دفتری اہداف نے تو دن کا سکون اور رات کی نیند غارت کررکھی ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ سب سوچتے سوچتے شہر کے مضافاتی علاقے میں گزرتے ہوئے سڑک کنارے پہلے میری نظر رک گئی اور پھر ۔۔۔ میرا پاؤں ۔۔۔ ایک من چلے ۔۔۔ اور ضدی بچے کی طرح بریک پر پاؤں پڑا اور رک گیا ۔۔۔۔۔۔ ارے واہ ۔۔۔۔۔۔ یہ تو وہ ۔۔۔ وہی ۔۔۔ ہاں وہی گھگھو گھوڑے تھے ۔۔۔۔۔۔ وہی رنگ ۔۔۔ وہی وضع وہی قطع اب یہ چالیس پینتالیس سال کے بعد یوں راہ چلتے نظر آئے کہ جی چاہتا تھا کہ میرے پاس جتنی رقم ۔۔۔ دولت اور مال و زر ہے وہ سب مجھ سے لے لئے جائیں اور میں اور میرے یہ کھلونے اور وہی گھر کا کونہ بہت دیر تک ساتھ رہیں اور کبھی وقت آگے نہ بڑھے ۔۔۔۔۔۔ میں گاڑی سے اتر کر اس شخص کے پاس گیا جو غالباً اپنے بچوں کے ہمراہ یہ کھلونے گدھا گاڑی پر لگا رہا تھا ۔۔۔ میں نے اس سے سلام کیا ۔۔۔ حال چال پوچھا ۔۔۔اس نے بڑی خوش مزاجی سے جواب دیتے ہوئے کہا ۔۔۔ بابو گاڑی کو دھکا لگوا دوں ۔۔۔۔۔۔ پہلے مجھے شرمندگی ہوئی کہ ہم جیسے کار سوار واقعی ہماری کار رکنے پر اطراف میں موجود لوگوں کو اس وقت مدد کے لئے پکارتے ہیں جب سوائے اس کے کوئی چارا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔
بہرطور میں نے اسے بتایا کہ مجھے آپ کے ان کاغذ کے گھگھو گھوڑوں نے روک لیا ہے ۔۔۔۔۔۔ تو وہ بہت خوش ہوا ۔۔۔ سڑک کنارے اپنی جھونپڑی سے ایک موڑھا ۔۔۔۔۔۔ لاکر مجھے بیٹھنے کو کہا ۔۔۔۔۔۔ میں اپنے آفس کی اسائمنٹ تو جیسے بھول ہی گیا تھا ۔۔۔ میرے بچپن میں میرے ذہن میں آنے والے کچھ سوال میرے ذہن میں منڈلانے لگے جن کے جواب حاصل کرنے کا موقع آج مجھے ملا ۔۔۔۔۔۔ میں نے اس شخص جس نے اپنا نام منظور ملنگ بتایا تھا ۔۔۔ سے پوچھا کہ ملنگ جی ۔۔۔ آپ یہ کھلونے کیسے بناتے ہیں‘ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ یہ ہمارے دو تین ماہ کی محنت کے بعد بنتے ہیں پہلے ہم کاغذ کاٹھ کباڑ‘ لکڑیاں‘ رنگ وغیرہ جمع کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پھر گھوڑے‘ اونٹ‘ ہاتھی‘ چڑیوں‘ پنکھوں‘ کلہاڑی‘ باجوں اور مختلف کھلونوں کے سائز اور نمونے کئے گئے‘ کاغذ‘ لکڑیاں کاٹتے ہیں یہ کام ہم اکیلے نہیں کرتے بلکہ زیادہ کام ہمارے گھر کی عورتیں کرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ کاغذوں کی رنگائی کے لئے بہت سے رنگوں کی آمیزش پانی اور سلوشن کی جاتی ہے جبکہ ان کے خاکے تیار ہونے سے تکمیل کے عمل تک تیز دھار چاقو قینچیاں استعمال ہوتی ہیں جن کا استعمال مہارت ہے اور اس دوران ہاتھ بھی زخمی ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ رنگ سازی کے لئے اور کاغذوں‘ گتوں اور لکڑیوں کو جوڑنے کے لئے جو سلیش استعمال ہوتی ہے وہ بھی ہماری عورتیں چولہے پر تیار کرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ ملنگ نے بڑی معصومیت سے کہا کہ ۔۔۔۔۔۔ سیٹھ صاحب ہم کھلے آسمان تلے جھگیوں میں رہتے ہیں ۔۔۔ جس دن ۔۔۔ آگ پانی کا یہ کام ہوتا ہے چھوٹے بچوں کو چولہے سے دور رکھنا سب سے مشکل کام ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور پھر جب کھلونوں کو رنگ کیا جاتا ہے تو ہر کھلونے پر ایک جیسا رنگ کرنے کے لئے پوری توجہ چاہئے ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔ اس نے ریڑھی پر سجے کھلونوں کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ مجال ہے کہ کسی کھلونے کا رنگ دوسرے سے الگ ہو ۔۔۔۔۔۔ بس یہ ایک فن ہے جو ہمارے بڑے بزرگوں کا ورثہ ہے ۔۔۔۔۔۔ نہ گھر ہے نہ در ہے جانے ہماری آنے والی نسلیں اس فن کو زندہ رکھ سکیں گی یا نہیں ۔۔۔۔۔۔ ملنگ نے بڑے افسردہ لہجے میں بہت گھمبیر سوال اٹھا دیئے مجھے یہ لگا کہ جیسے دنیا میں سوائے اس محنت کش خاندان کے مسائل کے کوئی دوسرا مسئلہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ میں نے ملنگ سے اجازت چاہی اور ساتھ ہی ۔۔۔۔۔۔ کچھ کھلونے ۔۔۔ گھوڑے ۔۔۔ ہاتھی ۔۔۔ چڑیاں خرید لئے ۔۔۔ اور ملنگ کا رابطہ نمبر بھی لے لیا ۔۔۔ اب وہ سفر جو مجھے مصیبت لگ رہا تھا میرے بچپن کے ساتھیوں کو ہم سفر بنا کر مجھے خوبصورت حسین ترین لگنے گا ۔۔۔۔۔۔
دفتری مصروفیات کے بعد گھر پہنچا بیوی بچے حسب معمول سو چکے تھے ۔۔۔ جبکہ مجھے معمول کا دفتری کام اپنے پڑھنے کے کمرے میں کرنا تھا ۔۔۔ لیکن میں نے ان گھگھو گھوڑوں کو ٹھیک اسی طرح اپنے سٹڈی روم کے اطراف میں سجایا جیسے بچپن میں اپنے گھر کے کونے میں سجایا کرتا تھا اور انہیں جی بھر کے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔۔ دیکھتے دیکھتے خیال آیا کہ آخر یہ فن کیا ہے ۔ پھر ا س کھوج کے لئے پاس ہی ھینڈی کرافٹس کی چند کتابوں کی ورق گردانی کی اس آرٹ یعنی فن کو انگریزی میں Paper Mache کہا جاتا ہے جو بہت ہی سستا اور ناقابل ایزا ہے کیمیکلز سے پاک ہونے کی وجہ سے مختلف ممالک میں مقامی فن کار بہت سی اقسام کی اشیاء بناتے ہیں۔ جن میں دیواروں کی سجاوٹ‘ جیولری باکس‘ لیمپ‘ ماسک‘ کاغد کی کشتیاں‘ ماسک‘ کھلونے‘ مجسمے‘ تھیٹر ڈراموں کے سیٹ‘ ڈیزائن‘ لباس‘ پھول‘ گلدان‘ پین ہولڈر‘ چائے دانی‘ پلیٹس‘ جانور‘ پرندے‘ مرغے‘ طوطے‘ کبوتر‘ گھوڑے کی شکل کے کھلونے آج بھی پاکستان کے دیہی علاقوںسمیت بھارت‘ بنگلہ دیش‘ کشمیر‘ سری لنکا‘ تھائی لینڈ‘ ایشیائی و مغربی ممالک میں بہت مقبول ہیں‘ لیکن ملتان کے مضافاتی علاقہ میں یہ فن درودیوار اور چھت کے بغیر آخر کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ سوال اب مجھے بے چین کئے ہوئے ہے یہ کھلونا محض کھلونا نہیں بلکہ ہماری ثقافت بھی ہے جبکہ بچوں کو کھیل کے لئے ایسی چیزیں دی جائیں تو نہ صرف ان کے سوچنے‘ سیکھنے اور کھوجنے کی صلاحیتوں میں بھی نکھار آئے گا۔ گھروں کی زیبائش کے ساتھ ساتھ خوش کن رنگوں سے انسانی مزاج بھی خوش کن ہوگا۔۔۔۔۔۔
آخر ہم اتنے Stastus Conciouns کیوں ہیں کہ ہم سے زندگی کی رنگینیاں ہی چھن جائیں ۔۔۔۔۔۔ غیر ممالک سے برآمد کردہ اشیاء کی خریداری کے ذریعے اپنے وطن کی ثقافت اور حسن کو ہم چندھیا رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے فن و ثقافت کے فروغ کے لئے کاغذ کے گھگھو گھوڑے بنانے اور اس جیسے دیگر فنون کو باقاعدہ صنعتی زون میں شامل کیا جائے تاکہ منظور ملنگ جیسا عظیم ہنر مند اپنے اس فن کو نئی نسل میں منتقل کرتے ہوئے وسوسوں کا شکار نہ ہو اور اس کے گھران گھرانے کی ہنر مند عورتوں کو چادر چار دیواری کا تحفظ نصیب ہوسکے اس کے بچوں کو بنیادی ضروریات‘ حقوق‘ تعلیم اور بہتر مستقبل کی راہیں میسر ہوں اور آج کے بچوں کو اپنی تاریخ اور ثقافت سے جڑا بچپن میسر آئے۔۔۔۔۔۔ اور ہماری گلیوں کوچوں محلوں میں پھر سے وہی آوازیں گونجنے لگیں ۔۔۔۔۔۔ گھگھو گھوڑے لے لو ۔۔۔۔۔۔ ہاتھی لے لو ۔۔۔۔۔۔ چڑیا لے لو۔ سرائیکی شاعر اسحاق دانش کی غربت بارے شاعری جو بہت مشہور ہے ‘ ملاحظہ کریں :
کرنْے پئے گٖن پیٹ گزارے ویچ آئی آں
سینگی احٖ میں شہر غبارے ویچ آئی آں
چار آنے یا اٹھ آنے دا ہِک گھوڑا
جیویں کیویں آ گٖن وارے ویچ آئی آں
احٖ تاں شام دی روٹی رَل کے رَحٖ کھوسوں
میں وی اپنْے چھجٖ تے کھارے ویچ آئی آں
رانْو دھی آ چوکھے کھیڈٖنْے باقی ہِن
خوش تھی آکھیُس بابُل سارے ویچ آئی آں
بُکھ توں مردے بٖال دی کفنی کُل سانگے
ڈٖاحٖ دے چھَلڑے جُھمکے سارے ویچ آئی آں
دانشؔ ہتھ دا پورھیا کتنا قیمتی ہے
ایویں لگٖدے چندر تے تارے ویچ آئی آں

This Post Has Been Viewed 5 Times