شہدادکوٹ(ڈسٹرکٹ رپورٹر) مسلح افراد کی جانب سے شہدادکوٹ پریس کلب میں گھس کر سینئرصحافی سید صادق علی شاہ پر قاتلانہ حملہ کرنے اور انہیں زخمی کرنے کے واقعہ کے خلاف شہدادکوٹ پریس کلب کی کال پر لاڑکانہ، جیکب آباداور قمبر شہدادکوٹ اضلاع کے مختلف شہروں کی صحافی تنظیموں کے سینکڑوں صحافیوں اور شہر کی سیاسی و سماجی رہنماؤں نے پریس کلب شہدادکوٹ میں منعقداظہار یکجہتی اجتماع میں شرکت کی اور بعد ازاں کوٹو موٹو چوک تک ریلی نکالی گئی۔ صحافیوں کے اجتماع میں لاڑکانہ پریس کلب، لاڑکانہ یونین آف جرنلسٹ، قمبر پریس کلب، قمبر شہدادکوٹ یونین آف جرنلسٹ، میروخان، سجاول جونیجو، وگن، وارہ، نصیر آباد، قبوسعید خان، گڑھی خیرو، اوستہ محمد، لالو رائینک، بہرام، گندا خہ پریس کلب اور دیگر شہروں کے پریس کلب کے صحافیوں اور شہر کی سیاسی و سماجی تنظیموں پی ٹی آئی، ایس ٹی پی، ایس این پی، ایس یو پی، جسم، جے یو آئی، شہری اتحاد، پی پی شہید بھٹوسمیت دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پراجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لاڑکانہ پریس کلب کے صدر بابو اقبال، سید صابر علی شاہ، ظفر ابڑو، جاوید اختر کمبوہ، عدنان بھٹی، دلدار سیلرو، رحیم منگی، شاہد اعوان، صفر گوپانگ، زاہد ساریو، ٹکا خان لغاری، لالہ برکت بلوچ، محرم چانڈیو، اے ڈی کھوکھر اور دیگر نے سینئرصحافی سید صادق علی شاہ اور پریس کلب شہدادکوٹ پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بااثر دہشت گردوں کی جانب سے یہ صحافی پر حملہ نہیں بلکہ پوری صحافت پر حملہ کیا گیا ہے اور آزاد اور غیر جانبدار صحافت کی آواز دبانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں نے ہمیشہ حق اور سچ کی آواز بلند کی ہے اور اپنی جانوں کا نذرانہ دے کرجام شہادت نوش کیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافی عوام کے مسائل ایوان اقتدار تک پہنچاتے ہیں اگر صحافی ہی غیر محفوظ ہوجائے گا تو عوام کے بنیادی مسائل ، کرپشن اور قبضہ مافیا کی نشاندہی کون کرے گا۔ انہوں نے حکومت سندھ سے پر زور مطالبہ کیا کہ سینئر صحافی پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے، صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اورسندھ کے تمام پریس کلبوں کو سیکورٹی فراہم کی جائے ۔ بعد ازاں اجتماع میں شریک تینوں اضلاع اور بلوچستان کے صحافیوں اور شہر کی سیاسی و سماجی تنظیموں سمیت سینکڑوں افراد نے پریس کلب شہدادکوٹ سے کوٹو موٹو چوک تک اظہار یکجہتی ریلی نکالی اورصحافی اتحاد زندہ آباد اور آزاد صحافت زندہ آباد کے فلگ شگاف نعرے لگائے۔

This Post Has Been Viewed 7 Times