اسلام آباد( عباس ملک )آج ہمارے ملک میں عدل وانصاف رعایا پروری اور عام انسانوں کی فلاح وبہبود کی بہت کمی ہے۔ (چےئرمین غوثیہ نعت کونسل حمد و نعت اکیڈمی)
غوثیہ نعت کونسل حمد و نعت اکیڈمی کے محمد مقصود علی قادر ی نے کہا ہے کہ اسلامی ملک کا حاکم ایک بادشاہ نہیں بلکہ عوام کا خادم ہوتا ہے بلا تفریق انصاف کے تقاضوں پر عمل داری مظلوم کی فوری داد رسی اور عوام کی ضروریات کا خیال رکھنا اس کا فرضِ منصبی ہوتا ہے رعایاکی خبر گیری کا مطلب یہ ہے کہ حکومت ملک کے باشندوں کی ضروریات کا خیال رکھے ان کو پورا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے اور اگر لوگوں کو کوئی تکلیف یا شکایات ہو تو اس کو دور کرے ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے چکوال میں ایک محفل میلاد میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ آج ہمارے ملک کی سیاسی جماعتوں کے لیڈر اپنی سیاست چمکانے کے لئے یورپین ممالک کی مثال دیتے ہیں پورے یورپ میں عدل و انصاف کے عظیم پیکر حضرت عمر فاروقؓ کا قانون چلتا ہے۔ مین اُن سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ بھی دوسروں پر تنقید کرنے کی بجائے عدل و انصاف کے عظیم پیکر حضرت عمر فاروقؓ کے قانون پر عمل کریں اور مثال قائم کرتے ہوئے کرپشن نہ کریں ٹیکس پورا دیں اپنے بچوں کی جگہ میرٹ کو ترجی دیںیورپ کی مثال دینے کی بجائے اسلامی مثالیں دیں اور ملک کی کامیابی اور ترقی کے لئے کام کریں ۔اور فاروق اعظم حضرت عمر فاروقؓ کی خلافت کو پڑھیں تا کہ دنیا اور آخرت میں عزت پائیں۔جیسے انہوں نے خلافت ہونے کے باوجود اپنے لئے نہ کوئی محل بنوایا اور نہ اپنے کچے مکان پر کوئی پہرے دار رکھااور ایک عام آدمی سے بھی سادہ زندگی گزاری۔ اور اُن کے اُس کول کو یاد رکھیں کہ دریائے فرات کے کنارے اگر کوئی کُتابھی بھوکاسویا تو روز محشر مجھ سے اسکے بارے میں پوچھا جائے گا۔ شاہد کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات۔

This Post Has Been Viewed 6 Times