نئی دہلی( بی بی سی ) بھارتی اخبار نے کلبھوشن یادیو کےرا کا جاسوس ہونے کا اعتراف کرلیا تاہم اسے سچ بولنا مہنگا پڑ گیا اور شدید دباؤ ڈال کر خبر ہٹوا دی گئی۔ بھارتی اخبار ’دا کوئنٹ‘ نے اپنی سنسنی خیز رپورٹ میں انکشاف کیا کہ کلبھوشن یادیو ملک کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انالیسز ونگ (را) کا ایجنٹ تھا جو اناڑی پن میں مار کھا گیا اور پکڑا گیا۔ تاہم بھارتی اخبار کو یہ راز سامنے لانا اور سچ بولنا مہنگا پڑ گیا، ادارے پر شدید دباؤ ڈال کر اس کی ویب سائٹ سے خبر ہٹوا دی گئی ہے جب کہ خبر دینے والے رپورٹر چندن نندے کو بھی لاپتہ کردیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کلبھوشن ’را‘ کے ایجنٹ اور جاسوس کے طور پر کام کرتا رہا، اسے بطور جاسوس تعینات کرنے پر’را‘کے 2 اعلیٰ افسران کو تحفظات تھے، اگرچہ کلبھوشن یادیو کی بھرتی کے دوران معیاری طریقہ کار پر عمل درآمد کیا گیا لیکن یہ انکشاف ہوا کہ را کے 2 سربراہان کلبھوشن کو ایجنسی میں جاسوس کے طور پر بھرتی کرنے اور پاکستان میں اس کے کام کرنے کے مخالف تھے۔ را کے سابق سربراہان ،جن میں ایک سیکرٹری بھی شامل ہیں جنہوں نے 2008 کے بعد را کی سربراہی سنبھالی تھی، نے بتایا کہ کلبھوشن پاکستان میں جاسوسی کی اہلیت نہیں رکھتا تھا تاہم ایران اور پاکستان ڈیسک پر کام کرنیوالے بھارتی افسران کلبھوشن کی تعیناتی میں معاون ثابت ہوئے۔ بھارتی اخبار نے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ کلبھوشن اگست 1968 میں پیدا ہوا اور بھارتی بحریہ میں کمیشنڈ افسر بھرتی ہوگیا تاہم قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر کاروبار شروع کردیا اور کام کے سلسلے میں ایران آتا جاتا رہتا تھا۔ ایران میں را کے ایک جاسوس نے اپنے افسران کو کلبھوشن کو بھی ایجنسی میں بھرتی کرنے کی تجویز دی۔ پہلے یہ بات سامنے آئی کہ کلبھوشن کو پاک ایران سرحدی علاقے سراوان سے پکڑا گیا، پھر کچھ ایسی اطلاعات آئیں کہ چمن بارڈر سے گرفتار کیا گیا۔ را کے حاضر سروس و سابق ذرائع کے مطابق کلبھوشن کئی بار بلوچستان آیا اور گیا اور ہر بار واپس آکر ’’اندر کی معلومات‘ دیتا تھا۔ اسے معلومات وصول اور ارسال کرنے کا تین ماہ کا تربیتی کورس بھی کرایا گیا لیکن وہ غیر پیشہ ورانہ ہونے کی وجہ سے پکڑا گیا۔ اس نے وہ کام کیا جس کا جاسوسی کی دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ موبائل فون پر پاکستان میں اپنے ذرائع سے بات چیت کرنا شروع کردی جو پاکستانی ایجنسی نے پکڑ لی اور اس کی لوکیشل کا پتہ لگالیا۔ ایک سابق بھارتی سیرٹری نے کہا کہ یہ نہ صرف کلبھوشن بلکہ اس کے افسر کے اناڑی پن کی انتہا تھی۔ چند سال قبل پاکستان ڈیسک سے سبکدوش ہونے والے سابق اسپیشل سیکرٹری نے کلبھوشن کو بالکل بیکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں اپنے ذرائع اور رابطوں کے حوالے سے بہت ڈینگیں مارتا تھا لیکن حقیقت میں اسے کچھ نہیں پتا تھا۔ اگرچہ را میں بہت سی خامیاں ہیں لیکن کوئی افسر کسی ایسے شخص کو ایجنسی میں بھرتی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا جس کا پس منظر جاسوسی کے حوالے سے نہ ہو اور جو بہت زیادہ ڈینگیں مارتا ہو۔ را کے حاضر و سابق افسران کے مطابق کلبھوشن کو بھرتی کرنے کی وجہ تو اس کے بھرتی کار ہی بتاسکتے ہیں لیکن پاکستان میں کسی جاسوس کو افسر اس وقت بنایا جاتا ہے جس کا پاکستان میں کسی مقامی شہری یا بلوچ شخص سے رابطہ ہو جو بھارت کے لیے جاسوسی کا کام کرسکے جبکہ کسی بھارتی کو پاکستان جیسے حریف ملک میں جاکر جاسوسی کرنے کا کام سونپنا کسی احمق کا ہی کام ہوسکتا ہے۔ مارچ 2016 میں اس کی گرفتاری کے بعد ثبوت مٹانے کے لیے اس کو ادا کی گئی رقومات کا ریکارڈ فوری طور پر تلف کردیا گیا۔ لیکن ایجنسی کے ایک سابق چیف نے کہا کہ کلبھوشن جیسے شخص کو کوئی پیشہ ور خفیہ ایجنسی بھرتی نہیں کرسکتی، وہ تو انتہائی احمق آدمی تھا جس کا میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ہر آپریشن کا کوئی نہ کوئی نہ مقصد ہوتا ہے، سوال یہ ہے کہ کلبھوشن کو بلوچستان بھیج کر کون سا بڑا انٹیلی جنس یا خارجہ پالییس مقصد حاصل کرلیا گیا۔ واضح رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو مارچ 2016ء میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا جس پر فوجی عدالت نے کلبھوشن کو سزائے موت سنائی تھی، تاہم بھارت نے فیصلے کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کررکھا ہے۔

This Post Has Been Viewed 10 Times