ڈیرہ اسماعیل خان(امان اللہ بلوچ سے) لڑکی تشدد کیس،پولیس مرکزی ملزم کو تحفظ دے رہی۔ سینیٹ کمیٹیخیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی پر تشدد اور محصور کرنے کے بعد انہیں برہنہ کرکے گھمانے کے واقعے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے مرکزی ملزم کو پولیس تحفظ فراہم کررہی ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) کی سینیٹر نسرین جلیل کی صدارت میں ہوا جہاں اکتوبر 2017 میں ڈیرہ اسماعیل خان میں بااثر افراد کی جانب سے لڑکی پر تشدد کے بعد برہنہ کرکے گھمانے کے معاملہ زیربحث آیا۔متاثرہ لڑکی سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئیں اور واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ مجھے برہنہ کر کے میری توہین کی گئی جبکہ برہنہ کرکے وڈیو بھی بنائی گئی۔ان کے ایک رشتہ دار کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے ہمارے کیس کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی، پولیس نے ہماری ایک بات نہیں سنی لیکن ملزموں کے کہنے پر کیس درج کرلیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ لڑکی کے کپڑے قینچی سے پھاڑے گئے اور انھیں بالوں سے کھینچ کر گلی میں گھمانے پر مجبور کیا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈیرا اسمٰعیل خان کی اسی یونین کونسل میں چار واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں لیکن ان تمام واقعات پر پردہ ڈالا گیا۔اس موقع پر سینیٹ کمیٹی نے واقعے کے مرکزی ملزم سجاول کو تاحال گرفتار نہیں کیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا۔سینیٹر سحر کامران کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ انسنانیت کی تذلیل ہے، انسانیت کی اس سے زیادہ کیا تذلیل ہو سکتی ہے۔عدالت کو اس کا فیصلہ مختصر عرصے میں سنانے کی سفارش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عدالت کو روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کرنی چاہیے اور مقررہ وقت کے اندر اس مقدمے کا فیصلہ سنانا چاہیے۔
پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ واقعے کے ساتوں ملزمان کے بیان قلم بند کرلیے گئے ہیں اور ان سے اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ مشال ملک کیس اور اس واقعے کا مرکزی ملزم تاحال لاپتہ ہے۔پولیس کے کردار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایس ایچ او کی مرکزی ملزم کے ساتھ ٹیلی فون پر بات ہو رہی ہے تو پھر انہیں تحفظ کون فراہم کر رہا ہے، پولیس ہی مرکزی ملزم کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔واضح رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے دربان میں 27 اکتوبر 2017 کو ایک لڑکی پر تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا جبکہ بااثر افراد نے لڑکی کو پورے علاقے میں برہنہ گھمایا بھی تھا۔متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ نے مقامی پولیس اسٹیشن میں واقعے کا مقدمہ درج کرایا تھا، جس میں تمام ملزمان کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔تشدد کا شکار لڑکی کے بھائیوں نے مقامی پولیس پر کارروائی میں غفلت برتنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا سے انصاف کی اپیل کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ ایس ایچ او کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

This Post Has Been Viewed 6 Times