کراچی (سٹاف رپورٹر) گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ بجٹ کا مہینہ تیزی سے آرہا ہے ،یہ مناسب وقت ہے جب بزنس کمیونٹی کے ساتھ مل کر سرکاری و نجی شعبے کے مابین مشاورت کا عمل شروع کیا جائے تاکہ حکومتی پالیسیوں میں بزنس کمیونٹی کی آراء کوجگہ دی جاسکے ،بجٹ اور معاشی پالیسی کی تشکیل میں حکومت ، سرکاری ملازمین ، اراکین پارلیمنٹ اور بزنس کمیونٹی کی برابر کی ذمہ داریاں ہیں ، ترقیاتی اسکیموں کی فیصلہ سازی میں بزنس کمیونٹی کو بھی شامل کرنے کیلئے وفاقی وزیر خزانہ سخت محنت کررہے ہیں ،یہ کا وشیں وفاقی سطح پر معاشی پالیسی کے استحکام میں با آور ثابت ہو نگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مستحکم ترقیاتی پالیسی ادارہ (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام منعقدہ ٹیکس اصلاحات پر سرکاری و نجی شعبہ کے درمیان اعلیٰ سطح مشاورت کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اکنامک ایڈوائزری کونسل (ای اے سی) پہلے ہی وزارت خزانہ میں واقع ہے ،مجھے یقین ہے کہ تمام وفاقی وزراء اور صوبائی معاشی ادارے اپنے فورمز پر بزنس کمیونٹی، صارفین گروپ اور قابل ذکر سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مستقبل مدعو کرینگے ،سرکاری و نجی سیکٹرز کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کیلئے سیاسی نمائندوں، سرکاری شعبہ کے افسران اور بزنس کمیونٹی خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجر وں کے درمیان باہمی مشاورت بہت ضروری ہے ،صوبائی سطح پر اس قسم کے پلیٹ فارمز کی کمی ہے ، اس ضمن میں صوبائی سطح پر ترقیاتی منصوبوں اور بجٹ کی تیاری کیلئے اسٹیک ہولڈرز کے مابین صلاح و مشورہ انتہائی ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی حب ہے ، یہاں شروع کیا جانے والا کوئی منصوبہ صرف یہاں کیلئے نہیں بلکہ پورے پاکستان کیلئے ہے ،امن و امان اور انرجی سیکٹر کو بہتر بنائے بغیر معاشی ترقی و خوشحالی کا خواب حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ امن و امان کے قیام کے بعد انرجی شعبے کو فوقیت دی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس اصلاح کے ضمن میں سب سے اہم کام نان فائلرز کو ٹیکس فائلرز بنانا اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے تاکہ اس سے حاصل ہونے والے مالی وسائل کو ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے استعمال کیا جاسکے ۔گورنر سندھ محمد زبیرنے مزید کہا کہ وزیر اعظم پاکستان ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے کاروباری برادری کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں ،یہی وجہ ہے کہ ان کی ہدایت پر قائم کردہ کمیٹی تمام اہم کا روباری تنظیموں کی نمائندگی کے ساتھ ملک کی مجموعی معاشی صورتحال کو بہتر ، ٹیکس اورکپیٹل مارکیٹ اصلاحات اور رو ز گار کے مواقع کو بڑھانے کیلئے سفارشات تیار کررہی ہے جو کہ 31 مارچ تک مکمل کرلی جائینگی۔

This Post Has Been Viewed 29 Times