لاہور:(نامہ نگار) نشاط گروپ کے مالک میاں منشانے تصدیق کی ہے کہ جنوبی کوریا کی کمپنی نشاط ملز لمیٹڈ کے اشتراک سے پاکستان میں ہائبرڈ اور الیکٹرک کاریں متعارف کرانا چاہتی ہے ۔ نیوزویب سائٹ پرو پاکستانی کے مطابق نشاط گروپ کے مالک میاں منشانے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنوبی کوریا کے کار ساز ابتدائی مرحلے میں چھوٹی کاروں کی تیاری چاہتے ہیں جو اس مارکیٹ میں پہلے سے موجود جاپانی کار سازوں کے ساتھ مکمل ہو جائے گی۔”ہم انہیں مذاکرات کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان میں الیکٹرک اور ہائبرڈ کاریں بھی لائیں “ ۔ میاں منشانے اپنے بیان میں مزید کہا کہ میرے خیال میں اس انڈسٹری کا مستقبل الیکٹرک کاروں میں ہے ، ہم ابتداءمیں ان کاروں کو درآمد اور بعد میں مقامی سطح پر تیار کر سکتے ہیں ۔ اس منصوبے میں میاں منشا 10کروڑ ڈالر سے زائد کی  سرمایہ کاری کریں گے جبکہ پراجیکٹ کیلئے فیصل آباد کے قریب انڈسٹریل زون میں اراضی بھی حاصل کر لی گئی ہے تاہم جہاں تک کاروں کی تیاری کے اس نئے پلانٹ کی ملکیت کا تعلق ہے تو اس حوالے سے نشاط گروپ کا حصہ 42فیصد ہو گا جبکہ ملت ٹریکٹرز 18فیصد کے مالک ہونے ۔پلانٹ میں جاپانی کمپنی کا حصہ 10فیصد رکھا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ سٹاک مارکیٹ میں لگائے جائیں گے ۔ ہنڈائی موٹرز ان کمپنیوں میں سے ایک ہے جو 2016ءکی آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ پالیسی میں بیرونی کار ساز کمپنیوں کیلئے مراعات کے اعلان کے بعد پاکستان میں قدم رکھنا چاہتی ہے ۔اس کے علاوہ کوریا کی کار ساز کمپنی کیا موٹرز اورفرانسیسی کمپنی رینالٹ بھی جلد پاکستان میں کار وں کی تیاری شروع کرنے والی ہیں ، کیا موٹر ز نے پاکستان میں لکی سیمنٹ بنانے والے یونس گروپ کے ساتھ اشتراک کر رکھا ہے جو کراچی میں کاروں کی تیاری کے لیے پلانٹ لگا ئیں گے جبکہ رینالٹ کار کمپنی بھی پاکستان میں گندھارا نیسان پلانٹ پر 10 کروڑ ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کی تیاری میں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہنڈائی اور کیا موٹرز نے 2000ءمیں دنیا اور پاکستان کو متاثر کرنے والی کسا دبازاری کے بعد پاکستان میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا تھا اور ان کے اس اقدام کی مثبت بات یہ ہے کہ وہ پاکستان کے مالی طور پر مستحکم اور نامور گروپس کے ساتھ اشتراک کر رہی ہیں جو اس مارکیٹ میں طویل عرصے تک کا م کرنے کے حوالے سے انکے عزم کو ظاہر کرتا ہے اور امید ہے کہ ہم جلدہنڈائی کمپنی کے تیار کردہ کاروں کے نئے ماڈلز دیکھ سکیں گے۔

This Post Has Been Viewed 36 Times